جعلی صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن

*بغیر ڈگری، پریس کلب نہیں!*
*خیبر پختونخوا حکومت کا جعلی صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، عوام کا مطالبہ، یہی اصول اراکین پارلیمنٹ پر بھی لاگو کیا جائے*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*:پشاور:* خیبر پختونخوا حکومت نے جعلی صحافیوں کے خلاف ایک تاریخی اور بلا امتیاز کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے پریس کلب کی رکنیت کے لیے پیشہ ورانہ ڈگری کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے ایک سخت پالیسی بیان میں کہا:

ہم قانون پر عمل درآمد کرا رہے ہیں۔ جو بھی بغیر ڈگری کے صحافی بنا ہوا ہے، یا صرف موبائل فون سے سوشل میڈیا پیج چلا رہا ہے، چاہے وہ پریس کلب میں رجسٹرڈ ہی کیوں نہ ہو، ان کے لیے پریس کلب ایکٹ لایا جا رہا ہے۔

مستقبل میں صرف وہی صحافی پریس کلب میں رجسٹرڈ ہو سکیں گے جن کے پاس ڈگری ہو گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ آئندہ آنے والا خیبر پختونخوا پریس کلب ایکٹ قانونی طور پر ایسے نااہل افراد کو فلٹر کرے گا جو بلیک میلنگ اور ذاتی مفادات کے لیے صحافت کے لقب کا غلط استعمال کر رہے ہیں، چاہے ان کے پاس فی الحال پریس کلب کارڈ ہی کیوں نہ ہو۔

عوامی ردعمل نے کہانی کو نیا موڑ دے دیا:

جب یہ اعلان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو عوام کے ایک سوچنے پر مجبور کر دینے والے مطالبے نے بحث کا رخ ہی بدل دیا۔

ایک شہری نے اسی جذبے کے تحت تبصرہ کیا:

“یہی جذبہ اور معیار اراکین پارلیمنٹ اور دیگر ایسے اعلیٰ عہدوں کے لیے بھی اپنانا چاہیے۔

اگر صحافت کے لیے ڈگری لازمی ہے تو ان لوگوں کے لیے کیوں نہیں جو پوری قوم کے لیے قوانین بناتے ہیں؟”

اس تبصرے کو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہوئی ہے اور بہت سے صارفین نے اس بات کی تائید کی ہے کہ اہلیت کا معیار تمام باوقار عوامی عہدوں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔

دوسری جانب کئی صحافیوں نے اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “پیشہ ورانہ صحافت کے وقار کو بچانے کے لیے یہ قدم بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں