سیاسی جماعتوں سے تنویر حسن کا شکوہ ۔خصوصی کالم
سیاسی جماعتوں سے میرا یہ دیرینہ شکوہ ہے کہ کارکن کو صرف نعرے لگوانے کرسیاں اور بینرز لگوانے الیکشن کے دن ووٹروں کو پولنگ سٹیشن تک لانے تک محدود رکھا جاتا ہے کچھ متمول کارکنوں کو پارٹی عہدوں سے سرفراز کرکے ان سے خرچہ تو کرایا جاتا ہے لیکن جب الیکشن میں ٹکٹ دینے کی باری آتی ہے تو ہزار مصلحتوں کے تحت ایسے لوگوں کو نظر انداز کرکے پارٹی کے ” وسیع تر مفاد” میں فیصلے کئے جاتے ہیں اور پھر پارٹی ڈسپلن کی چادر اوڑھا دی جاتی ہے ۔ اس ساری تمہید کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ بہاولپور کے رکن قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے دیرینہ ساتھی ملک اقبال چنڑ کی رحلت کے بعد خالی ہونے والی نشست کے لیے ٹکٹوں کے حصول کے لیے دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ اسی دوڑ میں میرے دیرینہ دوست اور مسلم لیگ ن کا وفاداری بشرط استواری کے اصول کے تحت برس ہا برس سے ساتھ دینے والے اکمل بھٹی بھی شامل ہیں بھٹی صاحب نے گزشتہ عام انتخابات میں بھی ٹکٹ کے حصول کے لیے کوشش کی تھی لیکن شومئی قسمت کہ قرعہ فال ان کے نام نہ نکل سکا لیکن ان کے ماتھے پر ایک بل نہیں آیا اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ پکے مسلم لیگی ہیں سچی بات ہے کہ مجھے ان دنوں بھی یہ توقع تھی کہ مسلم لیگ ن کی قیادت ان کی وفاداری اور ثابت قدمی کے پیش نظر ٹکٹ سے سرفراز ضرور کرے گی لیکن کیا کیجئے ہماری تمام سیاسی جماعتوں میں اوپر بہت سے معاملات دیکھے جاتے ہیں ۔ اب ایک بار پھر اکمل بھٹی پارٹی سے طویل رفاقت کے بل پر ٹکٹ کے حصول کے لیے پارٹی میں اپنی راہ ہموار کررہے ہیں یہاں اکمل بھٹی کا مختصر تعارف بھی آپ کے لئے ضروری ہے تو اس ضمن میں عرض ہے کہ میں جس اکمل بھٹی کو گزشتہ تیس سال سے جانتا ہوں وہ جہاں یاروں کا یار ہے وہاں زمانہ داری سے کوسوں دور ہے وہ ایک مخلص سیدھا اور سچاانسان ہے جس کی محبت ہر خاص و عام کو میسر ہے ۔ میں پورے وثوق سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ قحط الرجال کے اس دور میں چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے ایسے لوگ نہیں ملتے دوسری بات یہ کہ ہمارے ہاں سیاست کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ لیکن یہاں معاملہ کچھ الٹ ہے بھٹی صاحب جیسے دوستوں سے تعلق نبھانے کا ہنر جانتے ہیں بعینہٖ پارٹی سے تعلق پروری بھی ان کے خون میں شامل ہے ۔ میرے خیال میں مسلم لیگ ن کا سب سے برا وقت پرویز مشرف کا دور تھا جس میں بڑی بڑی قد آور شخصیات پارٹی سے کنارہ کش ہوگئیں تھیں لیکن دوسری جانب اکمل بھٹی ان کڑے دنوں میں بھی نہ صرف اپنی جماعت سے جڑے رہے بلکہ متحرک رہے اس کے نتیجے میں قید و بند کی صعوبتیں بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے اب جبکہ مسلم لیگ ن پر اچھا وقت ہے اور وفاق سے لے کر پنجاب تک برسر اقتدار ہےتو ایسے میں یہ مسلم لیگ ن کی قیادت کا بھی فرض ہے کہ اپنے برے وقت کے جانثار ساتھیوں کو ان کی قربانیوں کا صلہ دے کیونکہ سیاسی جماعت چھوٹی ہو یا بڑی وفادار کارکن ہی اس کا اصل سرمایہ ہوا کرتے ہیں یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت کواچھے وقت کے بعد برے وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہماری سیاست کا رنگ ہی یہی ہے ۔ مجھے اس بات کی توقع ہے کہ مسلم لیگ ن بہاولپور میں ضمنی انتخابات کے لیے ٹکٹ جاری کرتے وقت اکمل بھٹی کی پارٹی خدمات کو ضرور مد نظر رکھے گی اگر چہ میاں نواز شریف ان دنوں سیاسی سرگرمیوں سے دور ہیں لیکن وہ اپنے وفادار کارکنوں کو نہ صرف ذاتی طور پر جانتے ہیں بلکہ انہیں ان کا جائز مقام دلانے کے لیے کوشاں بھی رہے ہیں اور ہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ نشست ملک اقبال چنڑ کے انتقال سے خالی ہوئی ہے ملک اقبال چنڑ بھی مسلم لیگ ن کے جانثار ساتھیوں میں سے تھے وہ بھی اپنی جماعت کے ساتھ وفاداری آخری دم تک نبھاتے رہے سو اب
آکے سجادہ نشین قیس ہوا میرے بعد
کے مصداق ن لیگ کوایک کے بعد دوسرے مخلص ساتھی کو ہی اہل بہاولپور کی نیابت کے لیے چننا چاہیے۔