ایبٹ اباد کی انتظامی حیثیت پر بڑا سوال اسلام اباد ٹوڈے رپورٹ
*ایبٹ آباد کی انتظامی حیثیت پر بڑا سوال!*
*کیا وفاق نے ہزارہ کے اہم شہر کو اسلام آباد کے حوالے کردیا؟*
*وفاقی نوٹیفکیشن میں ایبٹ آباد کو ’’مستقل انتظامی جزو‘‘ کے طور پر آئی سی ٹی میں شامل کرنے، تمام انتظامی، مالی، عدالتی اور ریونیو امور منتقل کرنے کا اعلان*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد —* پاکستان کے انتظامی نقشے پر ایک غیر معمولی اور انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق ایبٹ آباد کو اس کے موجودہ انتظامی دائرۂ اختیار سے الگ کرکے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کا ’’مستقل انتظامی جزو‘‘ قرار دینے اور اسے حکومتِ اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اگر نوٹیفکیشن کے متن کے مطابق نافذ العمل ہوتی ہے تو اسے محض ایک انتظامی تبادلے یا دفتری اختیار کی تبدیلی قرار دینا مشکل ہوگا، کیونکہ دستاویز میں ایبٹ آباد کے انتظامی، مالی، عدالتی اور ریونیو معاملات تک کو چیف کمشنر اسلام آباد کے انتظامی کنٹرول میں منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے۔
ایبٹ آباد کہاں گیا؟ انتظامی نقشے میں بڑی تبدیلی
وزارتِ داخلہ، کابینہ ڈویژن/لینڈ ریونیو سیل کی جانب سے 8 اگست 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر F.4(12)-Reg/2026 میں وفاقی حکومت نے آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی متعلقہ دفعات اور قابلِ اطلاق قوانینِ اراضی و محاصل کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اقدام کیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فیصلہ متعلقہ صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد انتظامی کارکردگی، عوامی سہولت اور علاقائی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے مفاد میں کیا گیا ہے۔
لیکن اصل اہمیت اس فیصلے کے الفاظ اور اس کے دائرۂ کار میں پوشیدہ ہے۔
تمام اختیارات چیف کمشنر اسلام آباد کو منتقل؟
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایبٹ آباد سے متعلق تمام انتظامی، مالی، عدالتی اور ریونیو معاملات چیف کمشنر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے انتظامی کنٹرول میں منتقل کیے جائیں گے۔
یعنی معاملہ صرف ضلعی انتظامیہ کی نگرانی یا کسی ایک سرکاری محکمے کے انتظامی کنٹرول تک محدود نہیں رہتا بلکہ نوٹیفکیشن کے متن کے مطابق حکومت کے متعدد بنیادی شعبہ جات کو اسلام آباد کے انتظامی اختیار میں لانے کی بات کی گئی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جو اس پیش رفت کو معمول کے انتظامی فیصلوں سے کہیں زیادہ غیر معمولی بنا دیتا ہے۔
’’مستقل انتظامی جزو‘‘ — عارضی انتظام نہیں؟
نوٹیفکیشن میں ایبٹ آباد کے لیے ’’مستقل انتظامی جزو‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
یہ الفاظ اس فیصلے کو محض عارضی انتظام، عبوری انتظامی بندوبست یا محدود مدت کی حکومتی مشق سے ممتاز کرتے ہیں اور اس کے طویل المدت اثرات کے امکانات کو نمایاں کرتے ہیں۔
فوری نفاذ، سابقہ احکامات سپرسیڈ
وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا ہے جبکہ اس ضمن میں پہلے جاری کیے گئے تمام سابقہ نوٹیفکیشنز کو سپرسیڈ کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
اس طرح دستاویز کے مطابق یہ مستقبل میں کسی ممکنہ اقدام کا اعلان نہیں بلکہ فوری طور پر قابلِ عمل انتظامی فیصلہ ہے۔
ہزارہ کے مرکز پر فیصلہ، خیبر پختونخوا میں سوالات اٹھنے لگے
ایبٹ آباد خیبر پختونخوا کا ایک اہم تاریخی اور تزویراتی شہر اور ہزارہ خطے کا مرکزی شہری مرکز ہے۔
ایسے شہر کی انتظامی حیثیت میں بنیادی تبدیلی نہ صرف صوبائی انتظامی ڈھانچے بلکہ ریونیو، عدالتی دائرۂ اختیار، سرکاری اداروں، ترقیاتی منصوبہ بندی، زمینوں کے ریکارڈ، عوامی خدمات اور مستقبل کے علاقائی نظم و نسق پر بھی گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
اگر نوٹیفکیشن میں بیان کردہ انتظام عملی طور پر نافذ ہوتا ہے تو اس سے یہ بنیادی سوال بھی پیدا ہوگا کہ ایبٹ آباد کے شہری آئندہ صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہوں گے یا اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے انتظامی ڈھانچے میں؟
آئینی سوال سب سے بڑا
اس تمام پیش رفت کا سب سے اہم پہلو اس کا آئینی اور قانونی جواز ہے۔
اگر کسی صوبے کے ایک اہم شہری مرکز اور علاقے کو اس کی موجودہ انتظامی حدود سے نکال کر وفاقی دارالحکومت کے انتظامی دائرے میں مستقل طور پر شامل کیا جارہا ہے تو اس کے لیے استعمال کیے گئے آئینی و قانونی اختیارات، متعلقہ قوانین، صوبائی مشاورت اور مطلوبہ قانونی طریقۂ کار کی مکمل وضاحت نہایت اہم ہوجاتی ہے۔
خصوصاً عدالتی اور ریونیو اختیارات کی منتقلی کے باعث یہ معاملہ محض انتظامی حکم کی حد تک نہیں رہتا بلکہ آئینی، قانونی اور ادارہ جاتی جانچ کا متقاضی بن جاتا ہے۔
صدر، وزیراعظم، چیف سیکریٹری اور چیف کمشنر کو نوٹیفکیشن ارسال
اس غیر معمولی نوٹیفکیشن کی نقول صدرِ مملکت کے سیکریٹری، وزیراعظم کے سیکریٹری، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا، چیف کمشنر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اور سیکریٹری وزارتِ داخلہ کو اطلاع اور ضروری کارروائی کے لیے ارسال کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن پر حکومتِ پاکستان کے جوائنٹ سیکریٹری محمد آصف خان کے دستخط ہیں۔
عوام، پارلیمان اور عدالتوں کے سامنے کئی بنیادی سوالات
نوٹیفکیشن سامنے آنے کے بعد معاملہ متعدد بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے:
کیا ایبٹ آباد واقعی خیبر پختونخوا کی موجودہ انتظامی حدود سے خارج کردیا گیا ہے؟
کیا اسے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کا مستقل انتظامی جزو بنانے کے لیے تمام آئینی اور قانونی تقاضے مکمل کیے گئے ہیں؟
کیا صوبائی حکومت کی مشاورت محض انتظامی مشاورت تھی یا اس کے لیے کسی مزید آئینی یا قانونی اقدام کی ضرورت تھی؟
ایبٹ آباد کے عدالتی اور ریونیو دائرۂ اختیار میں تبدیلی کس قانونی طریقۂ کار کے تحت ہوگی؟
زمینوں، سرکاری املاک، ریونیو ریکارڈ، بلدیاتی و ضلعی اداروں اور دیگر سرکاری اثاثوں کی حیثیت کیا ہوگی؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک صوبے کے اہم علاقے کو وفاقی دارالحکومت کے انتظامی ڈھانچے میں مستقل طور پر شامل کرنے کا آئینی اختیار کس ادارے کے پاس ہے؟
یہ معمول کا نوٹیفکیشن نہیں
نوٹیفکیشن میں استعمال ہونے والی اصطلاحات — ’’مستقل انتظامی جزو‘‘، ’’فوری طور پر نافذ العمل‘‘، ’’تمام انتظامی، مالی، عدالتی اور ریونیو معاملات کی منتقلی‘‘ اور ’’سابقہ نوٹیفکیشنز کو سپرسیڈ‘‘ — اس پیش رفت کی غیر معمولی نوعیت کو واضح کرتی ہیں۔
لہٰذا اس معاملے کو محض ایک انتظامی حکم سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے آئینی، قانونی، سیاسی، مالی، انتظامی اور عوامی اثرات کا جامع جائزہ ناگزیر ہے۔
اگر نوٹیفکیشن مستند ہے اور اس کے مندرجات اسی شکل میں قانونی طور پر نافذ العمل ہیں تو پاکستان کے انتظامی نقشے میں یہ ایک تاریخی نوعیت کی تبدیلی ہوگی — ایسی تبدیلی جس کے اثرات صرف ایبٹ آباد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خیبر پختونخوا اور وفاق کے باہمی انتظامی و آئینی تعلقات تک پھیل سکتے ہیں۔
اب اصل سوال یہی ہے:
کیا ایبٹ آباد واقعی خیبر پختونخوا کی انتظامی حدود سے نکل کر اسلام آباد کی مستقل حدود میں داخل ہوگیا ہے — اور اگر ایسا ہے تو اس تاریخی تبدیلی کی مکمل آئینی اور قانونی بنیاد کیا ہے؟
یہ سوال اب وفاقی حکومت، حکومتِ خیبر پختونخوا، پارلیمان، ماہرینِ آئین و قانون اور بالخصوص ایبٹ آباد کے عوام سے واضح جواب کا تقاضا کرتا ہے۔