لنگڑیال لاجک ۔ٹیکسوں میں دبے عوام کو اے ائی کی دھمکیاں

*لنگڑیال لاجک – ہزار ارب کا شارٹ فال، آئی ایم ایف ٹارگٹ تباہ، انعام میں 10-10 ہونڈا سٹی اور 24 تنخواہیں – ٹیکسوں میں دبے عوام کو اے آئی کی دھمکیاں*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد -* نام ہے راشد لنگڑیال اور لاجک بھی ویسا ہی لنگڑا جیسا محکمہ جس کے وہ سربراہ ہیں۔

ایسے وقت میں جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو آئی ایم ایف کا ریونیو ٹارگٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے سے مس کر چکا ہے، چیئرمین ایف بی آر نے جوابدہی کے بجائے تکبر کا راستہ چنا ہے۔ اصلاح کے بجائے انعام، اور ٹیکس دہندہ کو ریلیف کے بجائے کھلی دھمکیاں۔

“غلط گوشوارے بھرنے والے تاجر سرپرائز کے لیے تیار رہیں – چیئرمین ایف بی آر”
“اے آئی سے غلط گوشوارے بھرنے والے پکڑے جائیں گے – درست گوشوارے بھریں”

یہ وارننگ پاکستان کے تاجروں اور ٹیکس دہندگان کو دی جا رہی ہے – انہی ٹیکس دہندگان کو جو پہلے ہی ملکی تاریخ کے ظالمانہ ترین ٹیکس نظام تلے دبے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں ٹیکس کئی بار لیا جاتا ہے۔ آمدن پر ٹیکس، پھر اسی آمدن کو خرچ کرنے پر ٹیکس۔ تنخواہ پر ٹیکس، پھر اسی تنخواہ سے بچوں کے لیے خریدے گئے دودھ پر ٹیکس۔ میڈیکل ٹیسٹ پر، اسٹیشنری پر، سبزی پر، بجلی پر، گیس پر ٹیکس۔ پاکستانی شہری کماتے ہوئے ٹیکس دیتا ہے، خرچ کرتے ہوئے ٹیکس دیتا ہے، بچت پر ٹیکس دیتا ہے، اور مرنے پر بھی ٹیکس دیتا ہے۔

اور بدلے میں ریاست اسے کیا دیتی ہے؟

گلیوں میں لاقانونیت۔ نوجوانوں کے لیے بے روزگاری۔ اختلاف کرنے والے کے لیے پولیس اسٹیٹ۔ میرٹ پر ترجیح نہیں، پروٹوکول پر ترجیح۔ منتخب پر مسلط کا راج۔

اے آئی کے سرپرائز سے پہلے چیئرمین لنگڑیال اور ان کی ٹیم کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا۔

حقائق: ہزار ارب کی ناکامی کا اعتراف

آئیے دھمکیوں سے نہیں، حقائق سے بات کرتے ہیں۔

جولائی 2025 کو نئی صبح قرار دیا گیا۔ ایف بی آر نے دعویٰ کیا کہ 748 ارب کے ہدف کے مقابلے میں 754.4 ارب جمع کیا، یا 750 ارب کے مقابلے میں 762 ارب – محض 0.9 فیصد زائد وصولی کو فتح کا ڈھول بنا کر پیٹا گیا۔

لیکن اس باریک پردے کے پیچھے ناکامیوں کا قبرستان ہے۔

مالی سال 2024-25: نظرثانی شدہ ہدف 11.900 ٹریلین کے مقابلے میں 11.737 ٹریلین جمع، دو بار ہدف کم کرنے کے باوجود 163 ارب کا شارٹ فال۔ اصل خسارہ 178 ارب روپے۔

مالی سال 2025-26: آئی ایم ایف کا اصل ہدف 13.979 ٹریلین، ایف بی آر وصولی 13.001 ٹریلین۔ براہ راست ناکامی 978 ارب روپے۔ ایک اور سرکاری دستاویز میں 975 ارب کے شارٹ فال کی تصدیق۔

پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) 2025-26: ہدف 3,083 ارب، وصولی 2,885 ارب۔ شارٹ فال 198 ارب۔

جولائی تا مارچ: شارٹ فال 684 ارب۔ جولائی تا مئی: شارٹ فال 868 ارب۔

چیئرمین لنگڑیال نے خود سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا کہ صرف چھ ماہ میں “آٹونومس گروتھ میں سست روی” کی وجہ سے 384 ارب کا شارٹ فال ہوا۔ آئی ایم ایف نے مزید کوئی رعایت دینے سے انکار کر دیا۔

اگر اس کا نام ترقی ہے تو پھر تباہی کسے کہتے ہیں؟

ناکامی پر دہرا انعام: گاڑیاں بھی، کیش بھی

اس تاریخی ناکامی پر ناکام مشینری نے خود کو کیا انعام دیا ہے؟

1۔ 24 ماہ کی تنخواہ بطور انعام: بورڈ ان کونسل نے ایس آر او 2485(I)/2025 کے ذریعے ان لینڈ ریونیو ریوارڈ رولز 2021 میں ترمیم کر کے انعام کی حد 18 سے بڑھا کر 24 تنخواہیں کر دی ہے۔ ہر سال 3 سے 4 ارب روپے کیش انعامات کے لیے مختص۔ جنوری تا جون 2025 کے لیے 2.474 ارب اور مالی سال 26 کے لیے 5.44 ارب کی تجویز۔ ٹاپ 20 فیصد افسران کو چار بنیادی تنخواہیں بونس کے طور پر۔ یہ اس وقت جب 40 فیصد افسران پرفارمنس واچ لسٹ پر ہیں۔

2۔ 1010 نئی ہونڈا سٹی گاڑیاں: جب قوم آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط کے لیے بھیک مانگ رہی ہے، ایف بی آر 6 ارب روپے کی لگژری بانٹ رہا ہے۔ 1,010 ہونڈا سٹی گاڑیاں خریدی جا چکی ہیں۔ پہلی 500 گاڑیوں کے لیے 3 ارب روپے ایڈوانس ادا، درجنوں گاڑیاں کراچی ہیڈکوارٹر پہنچ چکیں۔ سینیٹ کی فنانس کمیٹی چیختی رہی کہ اس فضول خرچی کو روکا جائے، اسے قومی شرمندگی قرار دیا۔ چیئرمین نے یہ کہہ کر بلڈوز کر دیا کہ گاڑیاں “فیلڈ وزٹ کے لیے ضروری ہیں”۔ وزیراعظم نے ان کی خصوصی درخواست پر منظوری دے دی۔

یہ اس وقت ہو رہا ہے جب حکومت نے دیگر تمام محکموں کی تنخواہیں منجمد کر رکھی ہیں۔

تو لنگڑیال فارمولا سادہ ہے: ایف سکس اور ایف سیون میں دولت چھپائے امیر اور طاقتور سے 978 ارب وصول کرنے میں ناکام رہو – پورے پاکستان میں صرف 12 لوگ 10 ارب سے زائد اثاثے ظاہر کرتے ہیں – لیکن چھوٹے تاجر کو اے آئی سے ڈراؤ۔

آئی ایم ایف کا ٹارگٹ فیل کرو، لیکن بوجھ پہلے سے ہی ٹیکسوں میں نچڑے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر ڈال دو۔ اور پھر خود کو گاڑیاں اور کیش انعام میں بانٹ دو۔

پاکستان کے عوام ٹیکس چور نہیں، زندہ بچ جانے والے ہیں۔ ایسے نظام میں زندہ بچ جانے والے جہاں میرٹ کا قتل ہوتا ہے، جہاں مسلط، منتخب پر حکومت کرتا ہے، جہاں ٹیکس بھتہ ہے اور تحفظ ناپید ہے۔

درست گوشوارے چاہئیں چیئرمین صاحب؟

تو عوام کو بدلے میں درست ریاست بھی دیں۔ انہیں تحفظ دیں، روزگار دیں، انصاف دیں، عزت دیں۔

ورنہ تاجروں کے لیے آپ جو اے آئی سرپرائز تیار کر رہے ہیں، وہ عوام کا آپ کے لیے سرپرائز بن جائے گا۔

*یہ ٹیکس ریفارم نہیں، یہ زخموں پر نمک چھڑکنے کی ریاستی سرپرستی ہے۔*

اپنا تبصرہ بھیجیں