ملتان میٹروپولیٹن میں 72 کروڑ کا سکینڈل بینقاب
*ملتان میٹروپولیٹن میں 72 کروڑ کا کتا مار سکینڈل بے نقاب، فی گولی ایک لاکھ دس ہزار روپے کا بل وصولی کا انکشاف*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*ملتان-* لوکل گورنمنٹ آڈٹ رپورٹ کی تحقیقی چھان بین نے ملتان میٹروپولیٹن کارپوریشن کی تاریخ کے سب
سے بڑے مالی سکینڈلز میں سے ایک سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
آوارہ کتوں کے خاتمے کے نام پر سرکاری خزانے سے 72 کروڑ روپے سے زائد کی ہوشربا خورد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس مہم کی آڑ میں بڑے پیمانے پر اوور انوائسنگ، جعلی بلنگ اور فنڈز کی خرد برد کی گئی، جس نے ترقیاتی بجٹ کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
رپورٹ میں سب سے زیادہ تشویشناک انکشاف فی گولی کی قیمت سے متعلق ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایک آوارہ کتے کو مارنے کے لیے چلائی جانے والی ہر گولی کا ایک لاکھ دس ہزار روپے کا بل پاس کر کے ادائیگی کی گئی۔ جبکہ مارکیٹ میں اسی نوعیت کی عام گولی کی قیمت پانچ سو سے پندرہ سو روپے کے درمیان ہے۔
آڈٹ حکام نے اسے انتہائی مہنگا، فرضی اور سرکاری فنڈز میں واضح خرد برد قرار دیا ہے۔
سائنسی طریقے سے چھ گنا مہنگا قتل
یہ سکینڈل اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب اس کا موازنہ حکومت کے اپنے تسلیم شدہ سائنسی طریقہ کار سے کیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے ریکارڈ پر حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ، سائنسی اور انسانی طریقہ کار ٹریپ، نیوٹر، ویکسینیٹ اینڈ ریلیز (TNVR) ہے، جس پر فی کتا صرف انیس ہزار روپے لاگت آتی ہے۔
یعنی ملتان میں کرپٹ مافیا ایک کتے کو بچانے، بانجھ کرنے اور ویکسین لگانے کی لاگت سے تقریباً چھ گنا زیادہ رقم صرف اسے گولی مار کر ہلاک کرنے کی مد میں وصول کر رہا تھا۔
عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی
یہ اخراجات نہ صرف مالی بدعنوانی ہیں بلکہ قانون کی نظر میں سراسر غیر قانونی اور کالعدم بھی ہیں، کیونکہ اعلیٰ عدلیہ اس عمل پر مکمل پابندی عائد کر چکی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے 23 مئی 2026 کو اپنے تاریخی 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں آوارہ کتوں کو زہر دے کر مارنے، گولی مارنے اور ان کی اندھا دھند ہلاکت پر مستقل اور مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح قرار دیا تھا کہ آوارہ کتے جاندار اور ذی شعور مخلوق ہیں جن پر ظلم نہیں کیا جا سکتا، کسی بھی قسم کی من مانی، ایڈہاک یا غیر انسانی کارروائی سے گریز کیا جائے، سی ڈی اے، ایم سی آئی اور تمام میٹروپولیٹن کارپوریشنز سمیت تمام حکام اسٹریٹ ڈاگ پاپولیشن کنٹرول پالیسی 2020 پر سختی سے عمل درآمد کے پابند ہیں جو صرف ٹی این وی آر کو لازمی قرار دیتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ یو تھینیشیا صرف پاگل یا شدید بیمار کتوں کے غیر معمولی کیسز میں اور وہ بھی صرف مستند ویٹرنری ڈاکٹرز ہی کر سکتے ہیں۔ سرکاری گاڑیوں میں مردہ کتوں کی تصاویر کو عدالت نے قانون کی حکمرانی سے بنیادی انحراف قرار دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ کتا کشی میں ملوث افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
لاہور ہائی کورٹ بھی گولی اور زہر کے ذریعے کتا کشی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔
ان عدالتی احکامات کی روشنی میں ان احکامات کے بعد ملتان میں چلائی گئی ہر گولی اور ادا کیا گیا ہر روپیہ توہین عدالت اور مجرمانہ خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔
این جی اوز کی مجرمانہ خاموشی
اس تمام صورتحال میں پنجاب میں جانوروں کی فلاح، ریبیز فری پاکستان اور جانوروں کے حقوق کے نام پر مقامی اور غیر ملکی فنڈنگ سے لاکھوں روپے بٹورنے والی درجنوں این جی اوز کی مجرمانہ خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے۔ یہ تنظیمیں فائیو اسٹار ہوٹلوں میں سیمینارز اور سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کرنے میں تو پیش پیش ہیں، لیکن ملتان میں 72 کروڑ کے اس مبینہ قتل عام اور مالی لوٹ مار پر خاموش ہیں۔ نہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں کوئی رٹ دائر کی گئی اور نہ ہی اس ادارہ جاتی ظلم کے خلاف کوئی احتجاج کیا گیا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کے دعوے صرف فیس بک اور ڈونر رپورٹس تک محدود ہیں۔
ٹیکس دہندگان کا مطالبہ
یہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ لوکل گورنمنٹ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے ایک اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ ٹیکس دہندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ ملتان کے کتا مار بجٹ کا فوری فرانزک آڈٹ کر کے 72 کروڑ روپے کی ریکوری کی جائے، فی گولی ایک لاکھ دس ہزار روپے منظور کرنے والے افسران کے خلاف اینٹی کرپشن ایکٹ اور پیکٹا ایکٹ کے تحت فوجداری مقدمات درج کیے جائیں، ملوث ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کیا جائے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ملتان میں فوری طور پر ٹی این وی آر پالیسی نافذ کر کے کتے کے کاٹنے کا شفاف ڈیٹا بیس اور نس بندی کا مستند ریکارڈ قائم کیا جائے۔
اگر ایک کتے کو مارنے پر ایک لاکھ دس ہزار روپے خرچ دکھائے جا رہے ہیں تو سوال کتوں کا نہیں، سوال یہ ہے کہ یہ مافیا ملتان کا پورا ترقیاتی بجٹ کس بے دردی سے ہڑپ کر رہا ہے۔