کیا نظام بیٹھ گیا ہے۔؟ ملک پاکستان کو کئی دہائیوں سے طرز حکمرانی سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا ہے۔مہنگائی، سیاسی عدم استحکام، افسر شاہی ،انصاف میں تاخیر،کمزور ادارہ جاتی نظام اور پالیسیوں میں عدم تسلسل نے عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔ہرحکومت نے اصلاحات کا وعدہ کیا لیکن مسائل ہیں کہ جوں کے توں برقرار ہیں۔ہرباردعوے توکئے جاتے ہیں لیکن عوام کودرپیش مسائل کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کےحالیہ بیان “نظام بیٹھ گیا ہے” عوام کو ڈیلیور نہ کرنے کا کھلا اعتراف ہے۔۔جب کوئی وفاقی وزیر خود یہ کہہ دے کہ “نظام بیٹھ چکا ہے” یا “سسٹم ناکام ہو گیا ہے” تو یہ محض ایک بیان نہیں رہتابلکہ پورے حکومتی ڈھانچے پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔یہ بیان کیوں دیا گیا اس کے کیا مقاصد ہیں ۔۔؟یہ ایک الگ بحث ہے لیکن مدعا یہ ہے کہ ایک ایسی حکومت جسے طاقتورحلقے(اسٹیبلشمنٹ )کی تمام ترحمایت حاصل ہونے کے باوجودوہ عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔۔ اگرکسی ملک کےوزیرِ داخلہ کا یہ ماننا ہے کہ ملک کا انتظامی نظام بیٹھ گیا ہے یا کام نہیں کررہا تو یہ سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔۔ اگر واقعی نظام مفلوج ہو چکا ہے تو عوام کا پہلا سوال یہی ہوگا کہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ اگر ادارے اپناکام نہیں کررہے اورمسائل بڑھتے جا رہے ہیں، تو اس کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے؟ عوام وزیروں سے شکوے نہیں بلکہ حکمتِ عملی اور نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔اگر وزیر موصوف نے بیان نیک نیتی اور بغیرکسی ڈکٹیشن کے دیا ہے تو ارباب اختیار کو ملکی حالات بہترکرنے کےلئےسنجیدگی کامظاہرہ کرنا چاہئیے۔۔ صرف بیان بازی کے ذریعے نظام کی اصلاح نہیں کی جا سکتی،مہنگائی میں کمی ،انتظامی اصلاحات، میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں، ڈیجیٹل گورننس،شفاف احتساب،عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور وفاقی اورصوبائی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات ہیں۔۔ دوسری جانب وزرااوراہم عہدوں پرفائز افرادکو بھی اپنی زبان کے استعمال میں احتیاط اور درستگی سے کام لینا چاہیے۔ کسی پورے نظام کو “درہم برہم” یا “ناکام” قرار دینے سے عوام میں مایوسی بڑھ سکتی ہے، سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے اور ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔۔پاکستان جیسے ملک میں، جہاں عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور امن و امان جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں، ایسے بیانات غیر یقینی کی فضا کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ ریاستی اداروں پرعوامی اعتماد کسی بھی معاشرے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب حکومت کے اپنے نمائندے اس اعتماد کو کمزور کریں تو اس کے اثرات محض سیاسی نہیں بلکہ معاشی اور سماجی بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج محض ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا نہیں، بلکہ ان پر قابو پانا ہے۔ مسائل کی تشخیص تبھی کارآمد ثابت ہوتی ہے جب اس کے نتیجے میں عملی حل سامنے آئیں۔۔ اگر یہ بیان اصلاحات کے کسی حقیقی ایجنڈے کے تحت دیا گیا تویہ ملک اورعوام کے لئے ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ لیکن اگر یہ محض کسی کو خوش کرنے یا مخصوص مقاصد حاصل کرنے کے لئے ہے تو اس سے عوام کی اس سوچ کو مزید تقویت ملے گی کہ پاکستان میں مسائل کی نشاندہی تو کی جاتی ہے مگر انہیں حل نہیں کیا جاتا۔ جن قوموں نے اپنے اداروں کو مضبوط بنایا، تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے بحرانوں سے چھٹکارہ حاصل کرکے ترقی کی نئی راہیں تلاش کیں۔اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں شخصیات کے بجائے نظام کی اصلاح پر توجہ دینا ہوگی۔ کیونکہ جب نظام مضبوط ہوتا ہے تو انصاف عام ہوتا ہے، ترقی ممکن ہوتی ہے اور قومیں اپنے مستقبل پر اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔

Load/Hide Comments