ایف بی أرکا فیصل ٹاؤن کو نوٹس رئیل اسٹیٹ میں ہلچل

*ایف بی آر کا فیصل ٹاؤن کو 1.82 ارب روپے کا ٹیکس نوٹس، ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ہلچل*

*رپورٹ: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* ملک کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکس قوانین پر سخت عملدرآمد کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فیصل ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو ٹیکس سال 2020 کے لیے مبینہ طور پر قابلِ ٹیکس آمدنی کم ظاہر کرنے کے الزام میں 1.82 ارب روپے کا اضافی انکم ٹیکس ڈیمانڈ نوٹس جاری کر دیا ہے۔

یہ ٹیکس ڈیمانڈ لارج ٹیکس پیئرز آفس (ایل ٹی او) اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ اسسمنٹ آرڈر کی بنیاد پر عائد کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کمپنی نے اپنے ہاؤسنگ منصوبے کی آمدنی کو تسلیم (Revenue Recognition) کرنے کے لیے “پرسنٹیج آف کمپلیشن (POC)” طریقہ کار کا ایسا اطلاق کیا جس کے نتیجے میں ٹیکس سال 2020 کے دوران قابلِ ٹیکس آمدنی حقیقت سے کم ظاہر ہوئی۔

ایف بی آر کے مطابق فیصل ٹاؤن نے ابتدائی طور پر 9,189 کنال پر مشتمل منصوبے کی مجموعی ترقیاتی لاگت 40.46 ارب روپے ظاہر کی تھی، تاہم بعد ازاں اسسمنٹ کارروائی کے دوران کمپنی نے منصوبے کا رقبہ بڑھا کر 25,944 کنال کرتے ہوئے ترقیاتی لاگت تقریباً 90.46 ارب روپے ظاہر کر دی۔

ٹیکس حکام کا مؤقف ہے کہ ترقیاتی لاگت میں اس نمایاں اضافے کے باعث منصوبے کی تکمیل کا تناسب 44.73 فیصد سے کم ہو کر 19.95 فیصد رہ گیا، جس کے نتیجے میں منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدنی کم ظاہر کی گئی اور قابلِ ٹیکس آمدنی میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

اسسمنٹ آرڈر کے مطابق ایف بی آر نے نظرثانی شدہ تخمینوں کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کمپنی ترقیاتی لاگت میں اس قدر اضافے کے حق میں قابلِ قبول دستاویزی شواہد، فزیبلٹی اسٹڈیز، ہم عصر لاگت کے تخمینے یا متعلقہ کارپوریٹ منظوریوں کا ریکارڈ پیش نہیں کر سکی۔

مزید برآں، ایف بی آر نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RDA) کی نظرثانی شدہ منظوری جنوری 2021 میں جاری ہوئی، جو ٹیکس سال 2020 کے اختتام کے بعد کی دستاویز ہے، لہٰذا اسے سابقہ ٹیکس سال کی آمدنی کے تعین کے لیے مؤثر بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ ٹیکس حکام نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جب منصوبے کی متوقع آمدنی تقریباً 45.91 ارب روپے برقرار رہی تو ترقیاتی لاگت میں تقریباً دو گنا اضافے کی تجارتی اور مالیاتی بنیاد کیا تھی۔

ایف بی آر نے اپنے تجزیے کی بنیاد پر ابتدائی ترقیاتی لاگت 40.46 ارب روپے کو بنیاد بناتے ہوئے منصوبے کی تکمیل کا تناسب دوبارہ 44.73 فیصد مقرر کیا اور کمپنی کی قابلِ ٹیکس آمدنی تقریباً 6.14 ارب روپے قرار دی۔ اس پر کارپوریٹ انکم ٹیکس کی 29 فیصد شرح لاگو کرتے ہوئے تقریباً 1.82 ارب روپے کی اضافی ٹیکس ذمہ داری عائد کی گئی۔

ٹیکس ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ریونیو ریکگنیشن، ترقیاتی لاگت کے تخمینوں اور بڑے ہاؤسنگ منصوبوں کی ٹیکس تشریح کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے، جس کے ممکنہ اثرات پورے تعمیراتی اور پراپرٹی شعبے پر مرتب ہوں گے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ اسسمنٹ آرڈر ایف بی آر کا مؤقف ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت فیصل ٹاؤن کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ اس اسسمنٹ کو متعلقہ اپیلیٹ فورمز کے سامنے چیلنج کرے، جہاں تمام قانونی، مالیاتی اور حقائق پر مبنی نکات کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ تاحال کمپنی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ عوامی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق یہ کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایف بی آر بڑے ریئل اسٹیٹ منصوبوں میں آمدنی کے تعین، ترقیاتی لاگت کے تخمینوں، اکاؤنٹنگ اصولوں اور ٹیکس قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا دائرہ مزید مؤثر بنا رہا ہے۔ اس مقدمے کے نتائج پر ریئل اسٹیٹ انڈسٹری، سرمایہ کار، مالیاتی ادارے، ٹیکس ماہرین اور کاروباری حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں