این ایچ اے نے دو پٹرول پمپ غیر قانونی قرار دے دیے

*بھارہ کہو اور 17 میل میں سرکاری زمین پر بغیر اجازت چلنے والے دو پٹرول پمپس – سیکیورٹی داؤ پر*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد -* اسلام آباد مری روڈ پر سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے دو بڑے اور نمایاں پٹرول پمپس کو مکمل طور پر غیر قانونی اور خطرناک قرار دے دیا ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ دونوں پٹرول پمپس کے این او سیز منسوخ کر دیے گئے ہیں اور پمپس کو سیل کرنے اور مالکان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کے لیے انتہائی فوری اور حتمی نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

این او سیز منسوخ ہونے کے باوجود دونوں فلنگ اسٹیشنز کھلے عام چل رہے ہیں، جس سے ان کے پیچھے بااثر شخصیات کی پشت پناہی پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔

*دو غیر قانونی پمپس*

سرکاری خط نمبر GM (Maint/Const-MZD) NHA/2026/135 مورخہ 09 جون 2026 اور نمبر DD (Maint) Murree/NHA/2026/1315 مورخہ 15 جولائی 2026 کے مطابق کارروائی ان پمپس کے خلاف کی گئی ہے:

1. میسرز GO فلنگ اسٹیشن سابقہ شیل فلنگ اسٹیشن 17 مائل فلنگ اسٹیشن اور حق CNG واقع کلومیٹر 12+500 سترہ میل بھارہ کہو، N-75/E-75 اسلام آباد مری روڈ۔ 2. میسرز آرامکو فلنگ اسٹیشن واقع 17 میل اسلام آباد۔

دونوں اسٹیشنز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آئی سی ٹی اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ ایک پرانے این او سی نمبر 2781/ALC مورخہ

19.05.2007 کی بنیاد پر چل رہے تھے۔

سنگین خلاف ورزیوں پر NHA نے NOC منسوخ کر دیا

جنرل منیجر انجینئر خان زادہ کی جانب سے جاری کردہ خط میں NHA نے کہا ہے کہ NHA کی زمین اور رائٹ آف وے (ROW) پر غیر مجاز اور غیر قانونی تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

NHA نے واضح کیا ہے کہ اس کا NOC مجاز اتھارٹی کی جانب سے NHA پالیسیوں کی خلاف ورزی، رسائی کنٹرول کی دفعات، ہائی وے سیفٹی کے تقاضوں اور سرکاری زمین پر تجاوزات کی وجہ سے پہلے ہی منسوخ کیا جا چکا ہے۔

آج کی تاریخ تک ان مقامات پر کسی بھی تعمیر، توسیع یا تجارتی سرگرمی کے لیے کوئی بھی قانونی اجازت یا NOC موجود نہیں ہے۔

*وی وی آئی پی سیکیورٹی کو خطرہ*

ایک چونکا دینے والے انکشاف میں، NHA نے غیر قانونی آپریشن کو ہائی وے سیفٹی اور قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ بھارہ کہو میں گول چکر کے قریب غیر مجاز رسائی سڑک استعمال کرنے والوں کے لیے شدید خطرہ ہے۔ یہی راستہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ سطحی وفود اکثر استعمال کرتے ہیں۔ اس مقام پر کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ سنگین نتائج اور سیکیورٹی کے مضمرات کا باعث بن سکتا ہے۔

ٹریفک کے لیے خطرہ اور آرامکو پمپ کو حتمی نوٹس

ڈپٹی ڈائریکٹر مینٹیننس مری محمد حامد محمود کی جانب سے آرامکو فلنگ اسٹیشن کے مالک کو جاری کردہ ایک علیحدہ حتمی نوٹس میں NHA نے مشاہدہ کیا ہے کہ مرکزی شاہراہ اور سروس روڈ پر گاڑیوں کا داخلہ، اخراج، قطار اور پارکنگ ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ اور خطرناک صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ بطور ثبوت تصاویر بھی منسلک کی گئی ہیں۔

NHA نے تمام آپریشنز کو فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی حادثہ، چوٹ، جانی نقصان یا مالی نقصان ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار اور جوابدہ صرف اور صرف آرامکو فلنگ اسٹیشن کے مالک اور انتظامیہ ہوں گے اور
تمام قانونی و مالی نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔

NHA نے خبردار کیا ہے کہ حکم عدولی کی صورت میں:

متعلقہ قوانین کے تحت ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے گا
فلنگ اسٹیشن کو فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا
تمام غیر مجاز تعمیرات مالک کے خرچ اور خطرے پر ہٹا دی جائیں گی
تمام اخراجات، نقصانات اور جرمانوں کی وصولی کی جائے گی
NHA ایکٹ کے تحت کوئی بھی دیگر کارروائی عمل میں لائی جائے گی

*اس نوٹس کو حتمی نوٹس قرار دیا گیا ہے۔*

*ڈپٹی کمشنر سے NOC واپس لینے کا مطالبہ*

NHA نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ڈی جی سی ڈی اے کو انتہائی فوری خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ NOC جو اب منسوخ شدہ NHA کے NOC کی بنیاد پر تھا، کو واپس لیا جائے اور عوامی مفاد اور سرکاری زمین کے تحفظ کے لیے غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے۔

*اصل مالک کون ہے؟*

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں جب ایک عام شہری موٹر سائیکل کے لیے ایندھن بھی برداشت نہیں کر سکتا، تو وفاقی دارالحکومت کے سب سے حساس وی وی آئی پی روٹ پر دو بڑے پٹرول پمپس چلانے کی مالی طاقت کس کے پاس ہے۔

عوام بخوبی آگاہ ہے کہ اس وقت کوئی عام آدمی اپنے پٹرول پمپس چلانے کے لیے مالی طور پر مستحکم نہیں ہے۔

NHA کی جانب سے NOCs منسوخ کرنے اور حتمی نوٹس جاری کرنے کے بعد بھی ان غیر قانونی پمپس کو کون تحفظ دے رہا ہے۔

ضلعی انتظامیہ خاموش کیوں ہے۔

مزید انکشافات جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں