پٹرولیم سرمایہ کاری فراڈ تحقیقات وسیع ہونے کا امکان

*مبینہ پیٹرولیم سرمایہ کاری فراڈ کیس:*
*بنوں کی عدالت میں سماعت کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان*

*رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں درج متعدد مقدمات سے منسلک مبینہ پیٹرولیم سرمایہ کاری فراڈ کیس کی سماعت کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں گرفتار ملزم عادل اکرام کے عدالتی بیان کے بعد ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اسلام آباد بلال اعظم کا نام بھی عدالتی کارروائی میں زیرِ بحث آیا ہے۔

متاثرین اور عدالتی دستاویزات کے مطابق مختلف اضلاع کے سرمایہ کاروں نے عادل اکرام کے ساتھ مبینہ طور پر پیٹرولیم کاروبار میں سرمایہ کاری کی تھی۔ ذرائع کے مطابق صرف ضلع بنوں سے تقریباً 60 افراد نے مجموعی طور پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی، جبکہ مجموعی حجم اربوں روپے بتایا جا رہا ہے۔ متاثرین کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں ملزم نے مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ کوئی حقیقی پیٹرولیم کاروبار موجود نہیں تھا اور سابق سرمایہ کاروں کو ادائیگیاں نئی سرمایہ کاری سے کی جاتی رہیں۔

متاثرین کی شکایات پر عادل اکرام کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ اور تھانہ کوہسار، ضلع ہری پور اور بعد ازاں بنوں میں مقدمات درج کیے گئے، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے سنٹرل جیل بنوں منتقل کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق دورانِ سماعت ملزم نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنوں کی عدالت میں دیے گئے بیان میں بلال اعظم کے کردار سے متعلق الزامات عائد کیے۔

عدالت نے دستیاب مواد کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی۔

بلال اعظم کے خلاف درج مقدمہ اور اس کی نوعیت کے حوالے سے متاثرین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ سنگین نوعیت کے الزامات کی مکمل اور غیر جانب دار تفتیش ہونی چاہیے۔

متاثرین نے مزید خدشات کا اظہار کیا ہے کہ تفتیش کے بعض پہلوؤں سے شفافیت کے بارے میں سوالات جنم لے رہے ہیں۔

تاہم ان خدشات اور الزامات کی تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی باضابطہ تردید سامنے آئی ہے۔

بلال اعظم یا دیگر متعلقہ سرکاری حکام کا مؤقف خبر فائل ہونے تک موصول نہیں ہو سکا۔

معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے حتمی ذمہ داری کا تعین عدالتی کارروائی اور تفتیشی نتائج کی روشنی میں ہی کیا جا سکے گا۔

متاثرہ سرمایہ کاروں نے اعلیٰ عدلیہ، صوبائی و وفاقی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف، غیر جانب دار اور جامع تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں