موٹروے ٹول ٹیکس میں نیا اضافہ
*موٹروے ٹول ٹیکس میں نئے اضافے پر ملک بھر میں شدید ردعمل؛ قانونی اختیار، منظوری کے طریقۂ کار اور اربوں روپے کی عوامی آمدن کے استعمال پر سنگین سوالات*
*پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، قائمہ کمیٹی برائے مواصلات، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور احتسابی اداروں سے نیشنل ہائی ویز ایکٹ اور متعلقہ قوانین کے تحت ٹول میں اضافے کی قانونی حیثیت جانچنے کا مطالبہ*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* لاہور۔اسلام آباد موٹروے (ایم-2) پر 5 جولائی 2026 سے نافذ کیے گئے نئے ٹول ٹیکس نے ملک بھر میں موٹر ویز استعمال کرنے والے شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور گورننس کے ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور وزارتِ مواصلات کی جانب سے بار بار کیے جانے والے ٹول اضافوں کی قانونی حیثیت، ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی وسائل کے استعمال پر ایک مرتبہ پھر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نظرثانی شدہ نرخوں کے مطابق کار، جیپ اور ٹیکسی کا ٹول 1,430 روپے، ویگن کا 2,390 روپے، کوسٹر کا 3,350 روپے، بس کا 4,770 روپے، دو اور تین ایکسل ٹرک کا 6,210 روپے جبکہ آرٹیکیولیٹڈ (ٹریلر) ٹرک کا ٹول 7,980 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نرخ 23 اپریل 2027 تک متعلقہ (Concession) کے تحت نافذ العمل رہیں گے۔
ٹول میں اس اضافے کے بعد مطالبات زور پکڑ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ، پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات، سپریم کورٹ آف پاکستان، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور متعلقہ احتسابی ادارے اس امر کا جائزہ لیں کہ آیا لاکھوں شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے سے قبل تمام قانونی، انتظامی اور آئینی تقاضے مکمل کیے گئے تھے یا نہیں۔
تنازعے کا بنیادی قانونی سوال یہ ہے کہ ٹول میں اضافے کی منظوری کس مجاز اتھارٹی نے دی؟ قانونی ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ عوام کے سامنے مکمل منظوری کا ریکارڈ پیش کیا جانا چاہیے، جس میں یہ واضح ہو کہ آیا اس تجویز کو این ایچ اے ایگزیکٹو بورڈ نے منظور کیا، کیا جہاں قانوناً ضروری تھا وہاں نیشنل ہائی وے کونسل سے منظوری حاصل کی گئی، اور کیا نیشنل ہائی ویز ایکٹ اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تمام تقاضے پورے کیے گئے۔
قانونی ماہرین کے مطابق لاکھوں شہریوں پر اثرانداز ہونے والا ہر فیصلہ واضح قانونی اختیار، مکمل دستاویزی ریکارڈ اور مجاز اداروں کی باقاعدہ منظوری کا متقاضی ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک متعلقہ سمریاں، سفارشات، اجلاسوں کے منٹس اور منظوریوں کو عوامی سطح پر جاری کرنے سے نہ صرف تمام شکوک و شبہات دور ہوں گے بلکہ اداروں پر عوامی اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔
ٹول میں حالیہ اضافے نے گزشتہ برسوں میں کیے گئے تمام سابقہ اضافوں پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ موٹروے استعمال کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتے ہوئے ٹول کے باوجود انہیں سڑکوں، سفری سہولیات اور عوامی خدمات میں اس کے متناسب اور نمایاں ثمرات نظر نہیں آتے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان سے وصول کیے گئے اربوں روپے کے بدلے عملی طور پر کون سی بہتری فراہم کی گئی۔
اس ضمن میں جن امور پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان میں موٹروے کی مرمت و بحالی، سڑک کی سطح کا معیار، لین مارکنگ، انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز، ہنگامی طبی امداد، ریسکیو سروسز، موٹروے پولیس کی گشت، روشنی کا انتظام، عوامی سہولیات، آرام گاہیں، صفائی، حفاظتی بیریئرز، پلوں کی دیکھ بھال، شجرکاری، سکیورٹی انتظامات اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولتیں شامل ہیں۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ انہیں یہ جاننے کا مکمل حق حاصل ہے کہ ٹول سے حاصل ہونے والی آمدن ان شعبوں میں کس حد تک خرچ کی گئی۔
ایک اور اہم سوال موٹروے استعمال کرنے والوں کے تحفظ سے متعلق سامنے آیا ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا موٹروے ٹول میں کسی قسم کا زندگی، جسمانی نقصان یا دورانِ سفر املاک کے نقصان کے خلاف انشورنس یا رسک کور بھی شامل ہے یا نہیں۔ اگر ایسی کوئی سہولت موجود ہے تو اس کی قانونی بنیاد، دائرۂ کار، طریقۂ کار اور دعوے (Claims) کے نظام کو عوام کے سامنے واضح کیا جائے۔ اگر ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تو یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ بار بار ٹول میں اضافے کے باوجود موٹروے استعمال کرنے والوں کو اس نوعیت کا تحفظ کیوں فراہم نہیں کیا جا رہا۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ شفافیت کا تقاضا ہے کہ موٹروے ٹول سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن، کنسیشن معاہدوں، آپریشن اور مینٹیننس کے اخراجات، بحالی کے منصوبوں، مستقبل کی سرمایہ کاری اور دیگر مالی امور کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ ٹیکس دہندگان یہ جان سکیں کہ ان سے حاصل ہونے والی خطیر رقم قانون کے مطابق، مؤثر انداز میں اور عوامی مفاد میں خرچ کی جا رہی ہے یا نہیں۔
اسی تناظر میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ موٹروے ٹول وصولیوں، ان کی تقسیم و استعمال، کنسیشن معاہدوں، معاہداتی ذمہ داریوں، مرمت و دیکھ بھال کے اخراجات، خریداری کے معاملات، آپریشنل کارکردگی، عوامی خدمات کے معیار اور تمام قانونی و انتظامی منظوریوں کا جامع مالی، تعمیلی اور کارکردگی آڈٹ کرائیں۔
مبصرین کے مطابق ایسا آزاد اور جامع آڈٹ اس امر کا غیرجانبدارانہ تعین کرے گا کہ آیا عوام کو اپنے ادا کیے گئے ٹول کے بدلے حقیقی معنوں میں مناسب خدمات اور “ویلیو فار منی” حاصل ہوئی یا نہیں، اور کیا ٹول وصولی کے پورے نظام میں تمام قانونی، مالی اور انتظامی تقاضوں کی مکمل پابندی کی گئی۔
اس تنازعے نے پارلیمانی نگرانی اور ادارہ جاتی احتساب کے مطالبات کو بھی مزید تقویت دی ہے۔ متعدد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی انتظامی فیصلے کی قانونی حیثیت، مجاز اتھارٹی کے اختیار یا منظوری کے طریقۂ کار پر سوالات پیدا ہوں تو آئینی تقاضا یہی ہے کہ متعلقہ سرکاری ریکارڈ کا آزادانہ اور غیرجانبدارانہ جائزہ مجاز نگرانی کرنے والے اداروں کے ذریعے لیا جائے۔ ان کے مطابق کسی بھی سرکاری عہدیدار سے متعلق ہر الزام یا اعتراض کا فیصلہ صرف ٹھوس شواہد، قانون اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں شہریوں کا مؤقف ہے کہ موٹروے ٹول کی مد میں وصول کیا جانے والا ہر اضافی روپیہ مکمل قانونی جواز، شفاف فیصلہ سازی، عوامی خدمات میں قابلِ پیمائش بہتری، مؤثر مالی نظم و نسق اور مکمل احتساب کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے۔
عوامی مفاد سے وابستہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ موٹروے ٹول میں حالیہ اضافے سے متعلق تمام منظوریوں، فیصلوں اور سرکاری ریکارڈ کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ پاکستان کے قومی شاہراتی نظام پر عوام کا اعتماد شفافیت، جوابدہی اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے مطابق مزید مضبوط ہو سکے۔