عام ادمی انصاف جوابدہی اور حقیقی ریلیف کا منتظر
*پاکستان ایک آئینی دوراہے پر:*
*عام آدمی انصاف، جوابدہی اور حقیقی ریلیف کا منتظر*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اعلان نے ایک مرتبہ پھر ملک گیر بحث کو جنم دے دیا ہے، جو محض ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشی مشکلات، عوامی جوابدہی، آئینی حکمرانی اور حکمرانوں اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کی علامت بن چکی ہے۔
ملک بھر میں عام شہری ایک سوال بار بار اٹھا رہے ہیں جس کا آج تک کوئی اطمینان بخش جواب سامنے نہیں آیا: آخر ایسا کیوں ہے کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ان کا اثر پاکستان میں تقریباً فوری طور پر عوام پر منتقل کر دیا جاتا ہے، لیکن جب عالمی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ صارفین تک پہنچنے میں غیر معمولی تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ مہنگائی، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں، جمود کا شکار آمدنی اور مسلسل کم ہوتی قوتِ خرید کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار لاکھوں خاندانوں کے لیے یہ صورتحال شدید بے چینی، مایوسی اور بداعتمادی کا باعث بنتی جا رہی ہے۔
اسی دوران پاکستان کے بڑھتے ہوئے عوامی قرضوں پر بھی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے نام پر مجموعی طور پر کتنا قرض لیا گیا، وہ رقم کہاں اور کس مقصد کے لیے خرچ ہوئی، اس کے نتیجے میں ملک کو کون سے پائیدار قومی اثاثے، معاشی اصلاحات یا عوامی فوائد حاصل ہوئے، اور آخرکار اس بھاری قرض کا بوجھ آنے والی نسلیں کس طرح برداشت کریں گی۔
یہ ایسے سوالات ہیں جو محض سیاسی نہیں بلکہ عوامی احتساب، شفافیت اور ذمہ دار حکمرانی سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں، اور جن کے واضح، قابلِ اعتماد اور کھلے جواب دینا ریاستی اداروں کی ذمہ داری تصور کیا جاتا ہے۔
عوامی بحث کا ایک اہم رخ سابق وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت اور شریف خاندان کی قیادت میں قائم حکومتوں کی مجموعی کارکردگی کا بھی احاطہ کرتا ہے۔
بہت سے پاکستانی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ عوام سے مسلسل قربانیوں، مہنگائی اور معاشی دباؤ کا مطالبہ کرنے کے بدلے ملک کو کون سی دیرپا ادارہ جاتی، معاشی اور انتظامی اصلاحات حاصل ہوئیں۔ مختلف حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ سیاسی بیانات اور دعوؤں کے بجائے عوام کے سامنے عملی، قابلِ پیمائش اور دیرپا نتائج پیش کیے جائیں۔
بحث کا ایک اہم محور عدلیہ بھی بنی ہوئی ہے۔
معاشرے کا ایک طبقہ اس بات پر مایوسی کا اظہار کر رہا ہے کہ اس کے نزدیک عوامی مفاد سے متعلق معاملات میں عدالتی مداخلت محدود دکھائی دی ہے۔ اسی تناظر میں بعض حلقوں نے چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تناظر میں اپنے عہدوں پر نظرثانی کرنے پر غور کریں۔
ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ جہاں قانون اور آئین اجازت دیتے ہوں وہاں آئینی اختیارات، بالخصوص ازخود نوٹس (سوموٹو) جیسے طریقۂ کار کے محدود استعمال سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ عام شہریوں کے لیے بروقت آئینی ریلیف کے مؤثر ذرائع پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ایک مؤقف یہ بھی ہے کہ عدالتی تحمل، آئینی حدود کی پاسداری، اختیارات کی علیحدگی اور ادارہ جاتی توازن ہی عدلیہ کی آزادی اور آئینی نظام کے استحکام کی بنیاد ہیں۔
سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک بات پر پاکستان کے مختلف طبقات میں نمایاں اتفاق پایا جاتا ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے مؤثر، غیر جانبدار اور ذمہ دار انداز میں کام کریں۔
آئینِ پاکستان ہر شہری کو قانون کی نظر میں برابری، منصفانہ قانونی کارروائی، جوابدہ حکمرانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ عوام کا اعتماد اسی وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب یہ آئینی اصول بلاامتیاز، مستقل مزاجی اور غیر جانبداری کے ساتھ ہر شہری پر یکساں طور پر نافذ ہوتے ہوئے نظر آئیں۔
پاکستان کے عوام کسی خصوصی رعایت یا استحقاق کا مطالبہ نہیں کر رہے۔
ان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ انہیں مہنگائی سے حقیقی ریلیف، شفاف اور جوابدہ حکمرانی، قانون کے سامنے مساوی انصاف، ذمہ دار معاشی نظم و نسق اور ایسے ریاستی ادارے میسر ہوں جو عوام کے مسائل کو سنیں، سمجھیں اور اپنے آئینی فرائض کے مطابق ان کا بروقت ازالہ کریں۔
بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور عوامی مشکلات کے پیشِ نظر بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست کا ہر آئینی ادارہ قانون کی حکمرانی، جمہوری جوابدہی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود سے اپنے غیر متزلزل عزم کا عملی اظہار کرے۔
آخرکار کسی بھی ریاست کی حقیقی طاقت صرف اس کے اداروں میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں مضمر ہوتی ہے جو اس کے شہری اپنے نظامِ انصاف، اپنے آئین اور اپنے ریاستی اداروں پر رکھتے ہیں کہ انہیں بروقت انصاف ملے گا، ان کے حقوق محفوظ رہیں گے اور عوامی عہدے صرف اور صرف آئین اور قانون کے مطابق استعمال کیے جائیں گے۔