کیا نیب پاکستان میں حقیقی احتساب کی نئی تاریخ رقم کرے گا

*پارک ویو سٹی انکوائری:*

*کیا نیب پاکستان میں حقیقی احتساب کی نئی تاریخ رقم کرے گا؟*

*برسوں سے نظر انداز ہونے والی شکایات کے بعد متاثرین کو آزادانہ فرانزک تحقیقات کی امید، قومی خزانے کے استعمال سے متعلق سنگین الزامات بھی زیر بحث*

*رپورٹ: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* برسوں سے مختلف سرکاری اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے والے پارک ویو سٹی کے متاثرین کے لیے اس وقت امید کی نئی کرن پیدا ہوئی ہے جب قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مبینہ طور پر اس معاملے میں کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کی شکایات طویل عرصے تک متعلقہ اداروں میں زیر التوا رہیں یا ان پر کوئی مؤثر پیش رفت نہ ہو سکی، تاہم اب انہیں توقع ہے کہ نیب حقائق کو بے نقاب کرنے کے لیے آزادانہ، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق تحقیقات کرے گا۔
ذرائع کے مطابق مختلف فورمز پر پارک ویو سٹی سے متعلق ایک سو سے زائد شکایات موجود ہیں۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ نیب اس انکوائری کو کسی بھی سیاسی، مالی، انتظامی یا میڈیا کے دباؤ سے بالاتر ہو کر مکمل شفافیت کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچائے تاکہ احتسابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
مبصرین کے مطابق یہ انکوائری صرف ایک ہاؤسنگ سوسائٹی تک محدود معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے احتسابی نظام کی ساکھ کا امتحان بھی ہے۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا نیب بااثر شخصیات اور طاقتور حلقوں کے حوالے سے بھی یکساں معیار اختیار کرتا ہے یا نہیں۔
شکایت کنندگان کی جانب سے اٹھائے گئے اہم نکات میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ (RMA) سے سیلاب کے بعد مبینہ طور پر کیے گئے اخراجات شامل ہیں۔ الزام ہے کہ قومی شاہراہوں سے ہٹ کر دریا کے کناروں کی تعمیر، خوبصورتی اور دیگر ترقیاتی کاموں پر سرکاری فنڈز خرچ کیے گئے، جن کے بارے میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا وہ این ایچ اے کے قانونی دائرۂ کار میں آتے تھے یا نہیں۔ اگر یہ الزامات شواہد سے ثابت ہوتے ہیں تو یہ قومی خزانے کے ممکنہ غلط استعمال کا معاملہ بن سکتا ہے۔
اسی طرح شکایات میں مہنگی اسٹریٹ لائٹس کی خریداری اور تنصیب سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ الزام ہے کہ پہلے نصب کی گئی لائٹس کو ڈیزائن پسند نہ آنے کی بنیاد پر ہٹا دیا گیا، بعد ازاں انہیں ایک دوسرے این ایچ اے منصوبے پر دوبارہ نصب کیا گیا جبکہ مزید مہنگی لائٹس بھی خریدی گئیں۔ ماہرین کے مطابق اس تمام عمل کی فرانزک جانچ سے یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا خریداری اور اخراجات متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق تھے یا نہیں۔
عوامی سطح پر یہ الزامات بھی زیر گردش ہیں کہ عبدالعلیم خان کے وفاقی وزیر مواصلات کے دور میں پارک ویو لاہور اور پارک ویو اسلام آباد سے متعلق بعض ترقیاتی کاموں پر سرکاری وسائل استعمال کیے گئے۔ ان الزامات کی اب تک کسی عدالت یا مجاز ادارے نے توثیق نہیں کی، لہٰذا ان کی حقیقت صرف غیر جانبدار تحقیقات سے ہی سامنے آ سکتی ہے۔
مزید یہ بھی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ پارک ویو اسلام آباد میں واقع ایک نجی فارم ہاؤس کے لیے پرتعیش فرنیچر فراہم کیا گیا، وزارتِ مواصلات کی عمارت پر بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کے اخراجات کیے گئے، جبکہ پہلے سے فعال دفاتر، واش رومز، کیفیٹیریا اور ڈے کیئر سینٹر کی دوبارہ تزئین و آرائش پر بھی سرکاری وسائل خرچ کیے گئے۔ اسی طرح ایسے افسران کے لیے سرکاری خرچ پر مفت کھانے فراہم کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں جو مالی طور پر اس کے محتاج نہیں تھے۔ ان تمام امور کی قانونی حیثیت اور مالی شفافیت کا تعین صرف مکمل فرانزک آڈٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
شفافیت کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تحقیقات کو صرف چند منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی آمدنی، روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ، ٹینڈرز، خریداری کے طریقہ کار، ترقیاتی منصوبوں، ٹھیکوں اور مجموعی مالیاتی نظام کا جامع فرانزک آڈٹ کیا جانا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم قانون اور قواعد کے مطابق خرچ ہوئی یا نہیں۔
یہ انکوائری متعلقہ افراد اور اداروں کے لیے بھی ایک اہم موقع ہے کہ اگر ان کے پاس ٹھوس دستاویزی شواہد، سرکاری منظوریوں، مالیاتی ریکارڈ، تکنیکی جواز یا دیگر قانونی ثبوت موجود ہیں جو ان الزامات کو غلط ثابت کر سکتے ہیں، تو وہ انہیں نیب کے سامنے پیش کریں۔ اگر تحقیقات سے ثابت ہو جائے کہ تمام فیصلے قانون، قواعد اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق کیے گئے تھے تو اس حقیقت کو بھی پوری دیانت داری کے ساتھ عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ تاہم اگر معتبر شواہد کے ذریعے بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو قانون کے مطابق ذمہ داران کا تعین بھی بلاامتیاز ہونا چاہیے۔
پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام اس انکوائری کو محض ایک مقدمہ نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی دیانت، قومی خزانے کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے امتحان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ عوام کی خواہش انتقامی احتساب نہیں بلکہ غیر جانبدارانہ، شفاف اور ثبوتوں پر مبنی احتساب ہے۔
اب تمام نظریں نیب پر مرکوز ہیں۔ وقت ہی بتائے گا کہ آیا قومی احتساب بیورو قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اس انکوائری کو منطقی انجام تک پہنچاتا ہے یا پھر یہ معاملہ بھی ماضی کی متعدد شکایات کی طرح خاموشی کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس انکوائری کا نتیجہ صرف ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ آنے والے برسوں میں پاکستان کے احتسابی نظام پر عوام کے اعتماد کا تعین بھی کرے گا۔
ادارتی نوٹ: اس رپورٹ میں بیان کردہ تمام الزامات شکایت کنندگان اور عوامی سطح پر سامنے آنے والے دعووں کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی کسی عدالت یا مجاز فورم سے حتمی توثیق نہیں ہوئی۔
تمام متعلقہ افراد اور ادارے قانون کے مطابق بے گناہی کے قرینے، منصفانہ سماعت اور اپنا مؤقف پیش کرنے کے مکمل حق کے حامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں