رائے رشید بھٹی کی 21ویں برسی پر خصوصی تحریر
💐
“بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی ۔
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا”
کچھ لوگ زندگی میں مقصد لے کر آتے ہیں ، پھر ان کی انتھک محنت کوشش کے سبب اللہ پاک ان کو وہ سب کچھ عطا کرتا ھے جو ان کا مقصد حیات ہوتا ھے ۔
ایسے ہی عظیم مقصد کے لئے جدو جہد کرنے والی ایک عظیم شخصیت راۓ رشید احمد خان بھٹی بھی ہیں ۔
جن کا آج 21 واں یوم وصال ھے ۔
راۓ صاحب کا شمار اس وقت کے شیخوپورہ اور موجودہ ننکانہ صاحب کی سب سے بڑی سیاسی شخصیت کے طور پر ہوتا ھے ۔
آپ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن اور حلقہ 105 کے MNA تھے ، بھٹی صاحب کی حلقہ کی عوام سے محبت کے سبب آپ کی زندگی میں یہ سیٹ آپکے خاندان میں ہی رہی ۔
اور ذوالفقار علی بھٹو شہید سے دوستی کا حق آپ نے ان کی بیٹی کا بھرپور ساتھ دے کر ادا کیا ،
مجھے یاد ھے جب ہم نے 1988 کی الیکشن کمپین میں شہید بینظیر بھٹو کو موڑ کھنڈا میں خطاب کی دعوت دی تو جناب راۓ رشید احمد خان بھٹی صاحب ان کی جیپ ڈرائیو کر کے لاۓ تھے ۔
محترمہ بینظیر بھٹو ، راۓ صاحب کے دوست اور ننکانہ صاحب کی عوام ان کو ان کی خدمات ان کی انسانیت سے محبت ان کے خلوص ان کی تعلیم ، خاندانی پس منظر اور ان کی انتہائی وضع دار اور باوقار شخصیت کے باعث ان کو نمایاں مقام دیتے تھے ۔
21 سال کا طویل عرصہ بھی جناب راۓ رشید احمد خان بھٹی صاحب کا چہرہ ، ان کی وجاہت ، ان کی دلکشی ، ان کی نفاست ، ان کی مہمان نوازی ، لطافت ، خوش لباسی ، وضع دار تعلیم یافتہ باوقار اور بلند قامت شخصیت کو دھندلا نہیں سکا ۔
وہ آج بھی سینوں میں دھڑکن کی طرح زندہ ہیں ۔
ننکانہ صاحب کی تاریخ آج بھی ان کے بغیر ادھوری ھے ۔
ہر چیز کا بدل ہوتا ھے ، لیکن شائد راۓ صاحب کا کوئی نعم البدل نہ ہو ۔
“ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ۔
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم.’
اللہ پاک راۓ رشید احمد خان بھٹی صاحب کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
دوست احباب آج بھی بھٹی صاحب ان کی شخصیت اور کمپنی کو مس کرتے ہیں ۔
ان کو مرحوم لکھنے کو جی نہیں ہوتا ، کیونکہ ۔ !!
“وارث شاہ اوہ سدا ای جیوندے نی ۔
جہناں کیتیاں نیک کمائیاں نی ۔ ”
❣️
Regards.
Ahmad Mumtaz Qadri.
air tv.
Islamabad.
🌷