ایک اور بچہ مدرسے کے قاری کی بھینٹ چڑھ گیا دردناک کہانی

بہاولنگر کے علاقے سے یہ بارہ سالہ معصوم بچہ علی حیدر ہے۔

والدین کو بچے کو دینی تعلیم دلوانے کا شوق تھا، بچے کو لاہور میں برکی روڈ پہ ایک مدرسہ میں داخل کروا دیا گیا۔ مدرسہ میں قاری غلام رسول صاحب تھے جو بچوں کو تعلیم دینے کے لیے متعین تھے۔ نو دن پہلے اٹھارہ جون کو علی حیدر بیمار تھا، اس روز قاری صاحب نے مدرسے کے بچوں کو ایک ختم شریف پہ جانے کے لیے کہا۔

باقی بچے چلے گئے لیکن علی حیدر نے کہا کہ مجھے بخار ہے، اس لیے میں نہیں جا سکتا۔ قاری غلام رسول کو انکار برا لگا کہ اس بچے کی اتنی ہمت کہ یہ میری بات ماننے سے انکار کر دے۔ اس نے لوہے کا راڈ اٹھایا اور بچے کو مارنا شروع کر دیا۔ علی حیدر کے گھر والوں کے جاننے والے کوئی مزدور اس علاقے میں کام کرتے تھے، اس کے بخار کی وجہ سے وہ اس کا پتا کرنے آئے تو اس کے گھر مار پیٹ کی اطلاع دی اور یہ بھی بتایا کہ ممکنہ طور پہ اس کا بازو فریکچر لگ رہا ہے اور اس کے کندھے میں بھی درد ہے۔ علی حیدر کے چچا یہ سن کر مدرسے آئے۔

ان کے معصوم بچے کو لوہے کے راڈ سے مارا گیا تھا۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ اس بچے کو فوری طور پہ وہاں سے ہسپتال لے جاتے، اس کا علاج کرواتے اور اسے بالکل بھی وہاں مدرسے میں مزید نہ رہنے دیتے۔

لیکن ہوا کیا۔۔۔۔۔۔ ان کے بقول “معززین” بیچ میں آ گئے اور قاری غلام رسول نے فرمایا کہ میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا اور بچے کا علاج بھی کروا دوں گا۔ تو یہ بچے کو وہیں چھوڑ کے واپس آ گئے۔

جس بچے کو قاری نے لوہے کے راڈ سے مارا ، اس بچے کو دوبارہ اسی قاری کی تحویل میں چھوڑ کر واپس آ گئے۔ چھ دن گزر گئے۔ انھیں اتنی ہوش نہیں آئی کہ بچہ کس حال میں ہے، اس کی خبر لیں۔ قاری کو اتنی شرم نہیں آئی کہ معصوم بچے کو مزید تکلیف نہ دے، بچے کا کوئی نقصان نہ کرے۔۔۔

چھ دن بعد چوبیس جون کو قاری غلام رسول نے بچے کے گھر فون کیا کہ آپ کا بچہ نافرمان ہے، میں اسے واپس بھیج رہا ہوں۔ پھر اس قاری غلام رسول نے بس سٹینڈ پہ جا کے بچے کو بہاولنگر کی بس میں بٹھایا، کنڈکٹر کو بچے کے والد کا نمبر دیا کہ وہاں جا کے اسے فون کر لینا۔

جب بچہ وہاں پہنچا تو اسے لینے پہنچے اور بقول اس کے چچا کے بچے کا نچلا دھڑ کام ہی نہیں کر رہا تھا، مفلوج تھا۔ بچہ کو اٹھا کر بس سے نکالا اور اس کا اپنے طور پہ بہاولنگر سے علاج کروانا شروع کر دیا۔ بچے کی چوٹیں زیادہ تھیں، نقصان زیادہ ہو چکا تھا، بچہ بچ نہیں سکا، مر گیا۔ اور جب مر گیا تب گھر والوں کو شرم آئی اور وہ پولیس والوں کے پاس گئے۔ بچہ بچ جاتا تو اس ظلم کا حساب کون کرتا ؟

اس پورے واقعہ میں قصوروار کون ہے؟

بچے کے گھر والے جو بچے کو گھر میں رکھنے کے بجائے لاوارثوں کی طرح اسے دینی مدرسے میں بھیج دیتے ہیں؟

قاری غلام رسول جو چھوٹے سے بچے کے ختم شریف پہ نہ جانے کا سن کر ، اس کے بخار کا سن کر اس سے ہمدردی کرنے کے بجائے اسے لوہے کے راڈ سے مارنا شروع کر دیتا ہے؟

بچے کے سگے جو بچے کو لوہے کے راڈ سے مار کھانے کے بعد بھی اس کی حفاظت یقینی بنانے کے بجائے، اس پہ ترس کھانے کے بجائے، اسے پھر اسی قاری کے پاس چھوڑ دیتے ہیں؟

وہ قاری جو پہلے بچے کو لوہے کے راڈ سے مار چکا تھا، شرم کھا کر بچے کا علاج نہیں کرواتا۔ مزید چھ دن میں بچے پہ معلوم نہیں کیا ظلم اور تشدد کرتا ہے کہ بچے کی جان چلی جائے؟

پھر اس حالت میں بچے کو لوکل بس میں اکیلے بٹھا کر گھر بھیج دیتا ہے؟

قصوروار کون ہے ؟؟؟

جب بچے پال نہیں سکتے تو انھیں پیدا کیوں کرتے ہو؟ ان کی ذمہ داری نہیں لے سکتے، ان کی حفاظت نہیں کر سکتے تو انھیں دنیا میں کیوں لاتے ہو؟

ایک مقدمہ اس قاری پہ درج ہوا ہے، دوسرا مقدمہ اس بچے کے گھر والوں پہ درج ہونا چاہیے۔ بچے اس لیے نہیں ہوتے کہ انھیں پیدا کر کے پھینک دیا جائے، بچے اس لیے نہیں ہوتے کہ آپ اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ان کو قربان کرتے پھریں۔ بچے ذمہ داری ہیں، انھیں پال نہیں سکتے تو خدارا انھیں پیدا کر کے لاوارث چھوڑنا بند کیجیے۔

ہم یتیم خانوں میں پڑے لاوارث بچوں کو روتے ہیں، یہاں تو بچوں کے سگے وارث بھی ان کی تکلیف کا احساس نہیں کرتے۔ وہ بچہ جسے قاری نے لوہے کے راڈ سے مارا ، اس بچے کو اس کے سگے پھر اسی قاری کے پاس چھوڑ جائیں تو اس بچے پہ کیا گزرتی ہے؟ اگلے چھ دن اس بچے نے کیسے گزارے ہوں گے؟

یہ معصوم تو دنیا سے چلا گیا تو سب کی نظر میں آ گیا؟ اگر بچ جاتا تو کسی کو پتا بھی نہ چلتا کہ اس پہ کتنا ظلم ہوا ہے، اسے کس تکلیف سے گزارا گیا ہے۔ ایسے اور کتنے اور بچے مشکل میں ہوں گے؟ روزانہ کتنی ہی جسمانی ، جذباتی ، نفسیاتی تکلیف سہہ رہے ہوں گے؟
اور ہمیں ان بچوں کی تکلیف کی کبھی خبر بھی نہیں ملے گی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوید خالد تارڑ ۔۔۔۔۔
From the wall of Tazeen Akhtar

اپنا تبصرہ بھیجیں