ملک گیر پٹرول بائیکاٹ مہم نیا سوال ؟
*ملک گیر پٹرول بائیکاٹ مہم نے نیا سوال کھڑا کر دیا:*
*”آخر عام پاکستانی کو ملا کیا؟”*
*پی ایس او سے ہی پٹرول خریدنے کی اپیل، مگر قیمت تو وہی ہے؛ مہنگائی، ٹیکسوں اور معاشی دباؤ نے عوام کا صبر جواب دے دیا*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* پاکستان بھر میں 27 جون سے 3 جولائی 2026 تک جاری رہنے والی ایک ہفتے کی ملک گیر مہم، جس میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) سے پٹرول خریدیں جبکہ دیگر تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کا بائیکاٹ کریں، نے ملک میں ایک نئی عوامی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم اس مہم نے ایک ایسا بنیادی سوال بھی کھڑا کر دیا ہے جس کا جواب ہر عام پاکستانی جاننا چاہتا ہے:
“آخر اس سے عام آدمی کو کیا ریلیف ملے گا؟”
سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی مہم کے مطابق یہ احتجاج پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے حکومتی پالیسیوں، منافع کے مارجن اور قیمتوں کے تعین کے نظام کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ مہم کے منتظمین کا مؤقف ہے کہ حکومت کی پالیسیوں نے پٹرولیم ڈیلرز کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، اس لیے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ایک ہفتے تک صرف پی ایس او سے پٹرول ڈلوایا جائے تاکہ دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
لیکن اس مہم کے ساتھ ہی عوام کی توجہ ایک زیادہ اہم حقیقت کی طرف مبذول ہو گئی ہے۔
ملک بھر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ چاہے پٹرول پی ایس او سے خریدا جائے یا کسی دوسری آئل مارکیٹنگ کمپنی سے، قیمت تو حکومت ہی مقرر کرتی ہے، پھر عام صارف کو اس تبدیلی سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟
پی ایس او بھی عوام کو مفت پٹرول فراہم نہیں کر رہی، نہ ہی صرف کمپنی تبدیل کرنے سے پٹرول کی قیمت میں کوئی کمی آتی ہے۔ نتیجتاً وہی مہنگا پٹرول، وہی اضافی ٹیکس، وہی پٹرولیم لیوی اور وہی مالی بوجھ عام شہری کے کندھوں پر برقرار رہتا ہے۔
ملک میں پہلے ہی مہنگائی کی بلند ترین سطح، بجلی، گیس اور پٹرول کی بڑھتی قیمتیں، مسلسل نئے ٹیکس، بے روزگاری، کاروباری سست روی اور قوتِ خرید میں غیر معمولی کمی نے متوسط اور سفید پوش طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا کہنا ہے کہ انہیں کسی مخصوص کمپنی سے خریداری کی ترغیب نہیں بلکہ قیمتوں میں حقیقی کمی اور عملی ریلیف درکار ہے۔
اس مہم نے ایک اور اہم سوال کو بھی جنم دیا ہے۔
حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی سفارتی پیش رفت اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے بعد عوام کو امید تھی کہ عالمی منڈی میں استحکام کے اثرات پاکستان میں بھی نظر آئیں گے اور شاید پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ لیکن عام شہری کا کہنا ہے کہ ان کی روزمرہ زندگی میں کسی قسم کا نمایاں معاشی ریلیف دکھائی نہیں دیا۔
عوامی حلقوں میں یہ احساس بھی زور پکڑ رہا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں تو ان کا بوجھ فوری طور پر پاکستانی صارف پر منتقل کر دیا جاتا ہے، لیکن اگر حالات بہتر ہوں تو اس کے ثمرات عام آدمی تک بروقت نہیں پہنچتے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین صرف عالمی خام تیل کی قیمتوں سے نہیں بلکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، پٹرولیم لیوی، جنرل سیلز ٹیکس، درآمدی اخراجات، نقل و حمل کے اخراجات اور حکومتی مالیاتی پالیسیوں سمیت متعدد عوامل سے ہوتا ہے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا مالی بوجھ تنخواہ دار طبقہ، پنشنرز، مزدور، کسان اور ٹیکس دہندگان اٹھا رہے ہیں، جبکہ ان کے مطابق حکومتی اخراجات میں کفایت شعاری، شفافیت، احتساب اور عوام دوست معاشی اصلاحات کی رفتار انتہائی سست دکھائی دیتی ہے۔
سیاسی حلقوں میں حکومت کی معاشی کارکردگی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور بعض اپوزیشن جماعتیں و سماجی حلقے عوام سے نیا مینڈیٹ لینے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ تاہم یہ سیاسی مؤقف ہیں اور ان کی حیثیت جاری سیاسی مباحثے کا حصہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وقتی احتجاج یا علامتی بائیکاٹ اپنی جگہ، مگر پاکستان کو درپیش معاشی بحران کا مستقل حل صرف جامع معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، شفاف حکمرانی، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے، توانائی کے شعبے کی اصلاح اور ایسی عوام دوست پالیسیوں میں پوشیدہ ہے جن سے براہِ راست عام شہری کی زندگی میں آسانی پیدا ہو۔
ملک گیر بائیکاٹ مہم کے دوران اب اصل سوال یہی ہے کہ کیا عام پاکستانی کو واقعی کوئی ریلیف ملے گا، یا پھر صرف پٹرول پمپ تبدیل ہوگا جبکہ قیمت، مہنگائی اور مشکلات جوں کی توں برقرار رہیں گی؟
عوام کا مؤقف ہے کہ انہیں کسی مخصوص آئل مارکیٹنگ کمپنی کے حق یا مخالفت سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ ان کی جیب پر پڑنے والا بوجھ کب کم ہوگا، مہنگائی کب قابو میں آئے گی، ایندھن کی قیمتیں کب کم ہوں گی، اور حکومت کب ایسے فیصلے کرے گی جن سے ریاست کے اصل مالک یعنی عوام کو حقیقی معاشی ریلیف مل سکے۔