پی ائی اے نچکاری۔ شفافیت کی متلاشی قوم

*پی آئی اے نجکاری: اربوں روپے، بے جواب سوالات اور شفافیت کی متلاشی قوم*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری، جو کبھی قومی پرچم بردار فضائی کمپنی اور پاکستان کی عالمی شناخت و رابطے کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگرچہ حکومت اس عمل کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، تاہم اس معاہدے کے گرد اٹھنے والی عوامی بحث اور سوالات تاحال ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔

حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عارف حبیب کی قیادت میں قائم کنسورشیم نہ صرف ابتدائی 75 فیصد حصص حاصل کر چکا ہے بلکہ بقیہ 25 فیصد شیئرز بھی اپنے کنٹرول میں لے کر پی آئی اے کی مکمل ملکیت حاصل کر چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اب قومی ایئرلائن عملاً ایک اسپیشل پرپز وہیکل پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے زیر انتظام ہے، جس میں فاطمہ فرٹیلائزر، فوجی فرٹیلائزر کمپنی، لیک سٹی ہولڈنگز، اے کے ڈی گروپ اور دی سٹی اسکول گروپ شامل ہیں۔

عوامی طور پر دستیاب شیئر ہولڈنگ تفصیلات کے مطابق فاطمہ فرٹیلائزر اور عارف حبیب گروپ کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 34.1 فیصد حصص ہیں، فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پاس تقریباً 34 فیصد جبکہ باقی حصص لیک سٹی ہولڈنگز، اے کے ڈی گروپ اور دی سٹی اسکول گروپ کے پاس ہیں۔

سرکاری مؤقف

حکومتی حکام نجکاری کو ایک تاریخی معاشی اصلاح قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد دہائیوں سے جاری خسارے کا خاتمہ، خدمات کے معیار میں بہتری، نئی سرمایہ کاری کا حصول اور قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا ہے۔

سرکاری دعوؤں کے مطابق کنسورشیم نے فضائی بیڑے میں توسیع، آپریشنل بہتری اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے خاطر خواہ سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔

نجکاری کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ پی آئی اے مالی طور پر ناقابلِ برداشت ہو چکی تھی اور اس کی بحالی کے لیے نجی شعبے کی پیشہ ورانہ انتظامیہ ناگزیر تھی۔ ان کے مطابق مسلسل سرکاری ملکیت برقرار رکھنے کا مطلب مزید خسارے اور ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ ڈالنا تھا۔

وہ سوالات جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے

اس کے باوجود اس سودے نے شدید عوامی جانچ پڑتال کو جنم دیا ہے۔

سب سے زیادہ اٹھایا جانے والا سوال قیمت کے تعین کا ہے۔

بہت سے شہری، ہوا بازی کے ماہرین اور مبصرین پوچھ رہے ہیں کہ کیا حتمی قیمت واقعی اس قومی اثاثے کی اصل مالیت کی عکاس تھی، جس کے پاس بین الاقوامی لینڈنگ حقوق، منافع بخش روٹس، انجینئرنگ سہولیات، آپریشنل انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ افرادی قوت، عالمی سطح پر تسلیم شدہ برانڈ اور غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت موجود تھی؟

اسی طرح لین دین کے ڈھانچے اور شرائط پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کا ایک بڑا طبقہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اعلان کردہ بولی اور حکومت کو حقیقی طور پر موصول ہونے والی رقم میں کیا فرق تھا؟ حکومت کو براہِ راست کتنی رقم ملی؟ کتنی رقم مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے مختص کی گئی؟ اور کتنے مالی بوجھ بدستور قومی خزانے پر باقی رہ گئے؟
یہ سوالات اب بھی میڈیا، سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔

ٹیکس دہندگان کا بوجھ اور عوامی تاثر

تنقید کرنے والوں کی جانب سے ایک اور بنیادی سوال ماضی کے قرضوں اور مالی ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔

عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں جمع ہونے والے مالی خسارے اور واجبات میں سے کتنا حصہ اب بھی ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا ہوگا اور نجکاری معاہدے میں ان ذمہ داریوں کا کس حد تک حساب رکھا گیا۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ نجکاری مستقبل کے نقصانات کو کم کر سکتی ہے، تاہم عوامی اعتماد اسی وقت بحال ہوگا جب یہ مکمل طور پر واضح کیا جائے کہ کون سی ذمہ داریاں ریاست کے پاس رہیں اور کون سی نئی انتظامیہ کو منتقل کی گئیں۔

ٹیکس مراعات بھی سوالات کی زد میں

نجکاری کے عمل سے منسلک مبینہ ٹیکس مراعات، رعایتوں اور استثنیٰ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر نجکاری سے قبل یا بعد میں غیر معمولی مالی یا ٹیکس مراعات دی گئیں تو ان کی قانونی بنیاد، مالی اثرات اور اصل فائدہ اٹھانے والوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔

دوسری جانب نجکاری کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ دنیا بھر میں بڑے نجکاری پروگراموں اور تنظیمِ نو کے منصوبوں میں سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کے لیے ایسی مراعات ایک معمول کی بات ہیں۔

فوجی فرٹیلائزر کمپنی سے متعلق بحث

عوامی بحث کا ایک اہم پہلو فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی بعد ازاں کنسورشیم میں شمولیت بھی ہے۔

اگرچہ متعلقہ ریگولیٹری اداروں نے اس شمولیت کی منظوری دے دی تھی، تاہم بعض مبصرین اب بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ بولی کے بعد کنسورشیم کے ڈھانچے میں ہونے والی اس تبدیلی کی مزید وضاحت عوام کے سامنے لائی جانی چاہیے تھی تاکہ شفافیت پر کوئی سوال باقی نہ رہے۔

سوشل میڈیا نے کھیل کے قواعد بدل دیے
ماضی کے برعکس آج کا پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں معلومات چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہیں۔

سوشل میڈیا نے شہریوں کو خاموش تماشائی سے فعال مبصر اور احتساب کرنے والے فریق میں تبدیل کر دیا ہے۔
وہ سوالات جو کبھی محدود حلقوں تک رہتے تھے، آج کروڑوں افراد کے سامنے زیر بحث آتے ہیں۔

اسی لیے عوامی اداروں سے اب یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کا دفاع محض بیانات سے نہیں بلکہ دستاویزی شواہد، عوامی ریکارڈ اور مکمل شفافیت کے ذریعے کریں۔

نگرانی کرنے والے اداروں کا کردار

متعدد قانونی ماہرین کے مطابق جب قومی اثاثوں، عوامی وسائل اور ٹیکس دہندگان کے مفادات کا معاملہ ہو تو پارلیمانی کمیٹیوں، ریگولیٹری اداروں، احتسابی فورمز اور اعلیٰ عدلیہ سب کی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں متحرک ہو جاتی ہیں۔

شفافیت کا مطالبہ کرنے والے شہری لازماً نجکاری کے مخالف نہیں ہوتے بلکہ وہ صرف یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ پورا عمل قانون، ضابطوں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق انجام پایا۔

اصل اور بنیادی سوال
تمام بحث آخرکار ایک ہی بنیادی سوال پر آ کر رک جاتی ہے:

کیا پاکستان کے عوام کو اپنے قومی اثاثے کی منتقلی کے بدلے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ، مکمل شفافیت اور عوامی مفادات کا بھرپور تحفظ حاصل ہوا؟

جب تک قیمت کے تعین، واجبات، مراعات، مستقبل کی سرمایہ کاری کے وعدوں اور ملکیتی ڈھانچے سے متعلق تمام تفصیلات مکمل طور پر عوام کے سامنے نہیں آ جاتیں، پی آئی اے کی نجکاری پر جاری بحث ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

ڈیجیٹل احتساب کے اس دور میں عوامی اعتماد صرف اعلانات سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

اعتماد شفافیت، دستاویزی ثبوت، جوابدہی اور مشکل سوالات کے جواب دینے کے عزم سے حاصل ہوتا ہے۔
بہت سے پاکستانیوں کے نزدیک پی آئی اے کی نجکاری کی کہانی ابھی اختتام پذیر نہیں ہوئی بلکہ اب اس کا سب سے زیادہ جانچا اور پرکھا جانے والا باب شروع ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں