چڑیا گھر۔ لوہی بھیر سفاری پارک کا حساب کون دیگا؟

*نئے اربوں روپے کے “مغامرات” اور ماضی کے ناکام منصوبوں کا خوفناک سایہ*

*اسلام آباد چڑیا گھر، لوئی بھیر سفاری پارک اور اربوں روپے کے عوامی سرمائے کا حساب کون دے گا؟*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری، محدود مالی وسائل اور عوامی مسائل کے انبار کا سامنا کر رہا ہے، اسلام آباد میں اربوں روپے کے نئے منصوبوں کے اعلانات نے حکومتی ترجیحات، عوامی پیسے کے استعمال اور شفافیت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

نئے سفاری پارک، نئے کرکٹ اسٹیڈیم، مہنگے ہوابازی منصوبوں اور دیگر بڑے ترقیاتی اقدامات کے حوالے سے عوامی حلقوں میں بنیادی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا نئے منصوبے شروع کرنے سے پہلے ماضی کے منصوبوں، ان پر خرچ ہونے والی اربوں روپے کی رقوم، ان کے نتائج اور ناکامیوں کا مکمل احتساب کیا گیا ہے یا نہیں؟

عوام کا مطالبہ ترقی کی مخالفت نہیں بلکہ عوامی سرمائے کے درست استعمال، شفافیت، جواب دہی اور ہر روپے کے بہترین استعمال کا مطالبہ ہے۔

اسلام آباد کے تاریخی مارگلہ چڑیا گھر کی مثال آج بھی عوامی سوالات کا مرکز ہے، جو کئی دہائیوں تک وفاقی دارالحکومت کی پہچان اور عوامی تفریح کا اہم مرکز رہا، لیکن انتظامی مسائل اور جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق اعتراضات کے باعث اسے بند کر دیا گیا۔

چڑیا گھر کی بندش کے بعد کئی بنیادی سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔

وہ عوامی سرمایہ کہاں گیا جو دہائیوں تک اس چڑیا گھر کے قیام، دیکھ بھال، توسیع اور انتظام پر خرچ کیا جاتا رہا؟

عوامی خزانے سے حاصل کیا گیا قیمتی انفراسٹرکچر، آلات اور دیگر اثاثوں کا کیا بنا؟

انتہائی مہنگے داموں حاصل کیے گئے قیمتی اور نایاب جانوروں کا مکمل ریکارڈ کہاں ہے؟

ٹیکس دینے والے شہریوں کا حق ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ اسلام آباد چڑیا گھر میں موجود ہر جانور، ہر اثاثے اور ہر عوامی سرمایہ کا انجام کیا ہوا۔

چڑیا گھر کی منتقلی کے عمل کے دوران جانوروں کے ریکارڈ سے متعلق بھی سوالات سامنے آئے۔ رپورٹس کے مطابق ایک وقت میں جانوروں اور پرندوں کی تعداد تقریباً 917 ظاہر کی گئی جبکہ بعد کے ریکارڈ میں 404 جانوروں کا ذکر سامنے آیا، جس کے باعث عوامی سطح پر یہ سوال اٹھا کہ باقی جانوروں کا کیا بنا۔

اگرچہ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ متعدد جانوروں کو محفوظ مقامات اور پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا، جن میں مشہور ہاتھی “کاوان” اور ہمالیائی ریچھ بھی شامل تھے، تاہم عوام کا بنیادی سوال برقرار ہے کہ تمام جانوروں، اثاثوں اور اخراجات کا مکمل، مستند اور عوامی سطح پر قابل رسائی ریکارڈ کیوں پیش نہیں کیا گیا۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب اربوں روپے کی لاگت سے نئے سفاری پارک کے قیام کی بات کی جا رہی ہے۔

عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں:

اگر پہلے سے ایک جنگلی حیات اور تفریحی سہولت موجود تھی تو اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے بجائے ایک نیا منصوبہ کیوں ضروری سمجھا گیا؟

اسی طرح لوئی بھیر سفاری پارک بھی ایک اہم سوال بن کر سامنے آتا ہے۔ نئے سفاری پارک پر اربوں روپے خرچ کرنے سے پہلے قوم جاننا چاہتی ہے:

لوئی بھیر سفاری پارک پر کتنی رقم خرچ کی گئی؟

اس منصوبے کے مطلوبہ نتائج کیوں حاصل نہ ہو سکے؟

کیا اس کی کوئی آزادانہ انکوائری یا مالیاتی آڈٹ کیا گیا؟

اگر ماضی کے منصوبوں میں خامیاں رہیں تو ذمہ دار کون تھا؟

اور کیا نئے منصوبے شروع کرنے سے پہلے ان غلطیوں سے کوئی سبق حاصل کیا گیا؟

نئے کرکٹ اسٹیڈیم کا منصوبہ بھی اسی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی پہلے ہی کرکٹ کے اہم مراکز ہیں، جہاں راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم ایک بین الاقوامی معیار کا میدان ہے، جو کئی دہائیوں سے ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی اور دیگر اہم مقابلوں کی میزبانی کرتا آ رہا ہے۔

ایسے میں عوام سوال کر رہے ہیں کہ کیا موجودہ اسٹیڈیم کو مزید جدید بنانے پر خرچ کرنا زیادہ بہتر، کم لاگت اور عوامی مفاد میں نہ ہوتا؟

اسلام آباد کو جدید سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر نئے منصوبے کے لیے مکمل فزیبلٹی اسٹڈی، آزادانہ لاگت و فائدہ تجزیہ، ماحولیاتی جائزہ اور عوامی مفاد کا واضح تعین کیا گیا ہے؟

پاکستان کے عوام کو اکثر بتایا جاتا ہے کہ ملک کے پاس وسائل محدود ہیں، اخراجات کم کرنا ضروری ہیں اور مشکل فیصلے ناگزیر ہیں۔ ایسے حالات میں ہر ارب روپے کے خرچ کا مکمل جواز دینا حکومت اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

آج سب سے بڑا سوال یہی ہے:

کیا ہم ایک بہتر مستقبل تعمیر کر رہے ہیں یا ماضی کے ادھورے اور ناکام منصوبوں کو نظر انداز کر کے نئے منصوبوں کا اعلان کرنے کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں داخل ہو چکے ہیں؟

نئے منصوبے شروع کرنے سے پہلے قوم کو ماضی کے منصوبوں، ان پر خرچ ہونے والی رقوم، ضائع ہونے والے وسائل، اثاثوں کے تحفظ اور ذمہ داروں کے تعین کے بارے میں مکمل آگاہ کرنا ضروری ہے۔

شفافیت ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اچھی حکمرانی کی بنیاد ہے۔

عوامی مفاد اور غیر جانبدار صحافت کے تقاضوں کے تحت اگر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA)، اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ، وزارت موسمیاتی تبدیلی یا کوئی بھی متعلقہ ادارہ اسلام آباد چڑیا گھر، لوئی بھیر سفاری پارک، نئے سفاری پارک، کرکٹ اسٹیڈیم یا عوامی فنڈز کے استعمال کے حوالے سے کوئی مضبوط، مدلل وضاحت، دستاویزی ثبوت، آڈٹ رپورٹ یا مکمل جواز پیش کرنا چاہے تو اسے اسی جذبے، مساوی اہمیت اور مکمل غیر جانبداری کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں