کیا سہیل وڑائچ ایک مرتبہ پھر شرمندہ ہونے کے لیے تیار ہیں

لندن میں چیف اف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کے خیالی انٹرویو کے بعد پیش خدمت ہے موجودہ حکومت کی رخصتی واضح رہے کہ محترم سہیل وڑاج کے لندن میں جنرل عاصم منیر کے خیالی انٹرویو کے بعد جب ڈی جی ائی ایس پی ار نے اس انٹرویو کی واضح تردید کر دی تھی تو سہیل وڑائچ کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی 30/ 35 سالہ صحافت سے توبہ کر کے گوشہ نشین ہو جاتے لیکن چونکہ وہ جس گروپ سے وابستہ ہیں وہ بالخصوص اپنے صحافیوں کو پرموٹ کرتے ہیں چونکہ اج کل اخبار سمیت ٹی وی چینل کا دور بھی ختم ہو چکا ہے لیکن مذکورہ چینل اپنے اپ کو اور اپنے صحافی ملازمین کو زندہ رکھنے کے لیے اور اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اسی طرح کے شوشوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ موجودہ حکومت سے اپنے مفادات حاصل کر سکیں اور اج کل ٹی وی چینل کے بعد ان کا سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا ہی ہے موصوف سہیل وڑائچ نے یہ خبر دی ہے اپنے کالم میں کہ جولائی میں موجودہ حکومت ختم ہو رہی ہے میں کوئی نجومی تو نہیں ہوں لیکن موجودہ حالات اور سابقہ ریکارڈ کے مطابق سہیل وڑائچ کو بتاتا چلوں کہ یہ حکومت اسی موجودہ تنخواہ پہ کام کرتی رہے گی لیکن اپ کو اس مرتبہ پھر دوبارہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن لالے کی جان اپ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے نہیں پتہ کہ اپ کون سے ایجنڈے پہ کام کر رہے ہیں اج کل اپ کے حالات یہ ہو گئے ہیں کہ اگر کوئی وزیر اپ کا فون اٹینڈ نہ کرے تو اپ پوری حکومت کے خلاف ہو جاتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے کسی صحافی کا ایس ایچ او فون اٹینڈ نہ کرے تو وہ ائی جی کے خلاف ہو جاتا ہے خدا کے بندے اگر اپ نے زندگی میں کبھی پریکٹیکلی رپورٹنگ کی ہو تو اپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ خبریت اور انفارمیشن میں کیا فرق ہے اپ صرف تجزیہ نگار نہیں بلکہ سینیئر تجزیہ نگار ہیں۔ اپ کا چھوڑا ہوا ہے شوشہ صرف اس لئے مشہور ہو جاتا ہے کہ اپ تھوڑے سے مشہور ہو گئے ہیں اور یہ حادثہ بہت سارے اس وقت موجودہ سینیئر تجزیہ کاروں کے ساتھ ہو چکا ہے صحافت تو ویسے ہی ایک دہائی سے اخری سانسیں لے رہی ہے اور اب اپ صحافت کا مزید گلا گھونٹنے کی کوشش کر رہے ہیں پلیز اپ صحافت کے قاتل نہ بنیں