ایک اور ستھرا پنجاب سکینڈل بینقاب

*104 کروڑ روپے سالانہ اسکینڈل؟ لیہ میں “ستھرا پنجاب” آپریشنز پر سنگین الزامات، بڑے پیمانے پر مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف*

*رپورٹ: رانا تصدق حسین*

*لیہ:* پنجاب حکومت کے فلیگ شپ پروگرام “ستھرا پنجاب” کے تحت تحصیل لیہ میں جاری صفائی آپریشنز کے بارے میں سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ، فیلڈ مشاہدات، آپریشنل ڈیٹا، اندرونی معلومات اور مبینہ شواہد کے جائزے سے افرادی قوت کی تعیناتی، کوڑا کرکٹ کی منتقلی، مشینری کے استعمال، ایندھن کی کھپت، ماحولیاتی تحفظ اور سرکاری فنڈز کے استعمال میں وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اگر ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات میں تصدیق ہو جاتی ہے تو ان کے مالی اثرات سالانہ ایک ارب چار کروڑ نوے لاکھ روپے (104.9 کروڑ روپے) سے تجاوز کر سکتے ہیں، جو اسے جنوبی پنجاب میں مقامی حکومتوں کے حوالے سے سامنے آنے والے بڑے احتسابی معاملات میں شامل کر سکتا ہے۔

پنجاب حکومت نے “ستھرا پنجاب” پروگرام کا آغاز جدید ویسٹ مینجمنٹ سسٹم، جی پی ایس مانیٹرنگ، آر ایف آئی ڈی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ٹریکنگ، کیو آر بیسڈ ویری فکیشن، سائنسی بنیادوں پر ویسٹ ڈسپوزل اور “زیرو وزیبل ویسٹ” کے ہدف کے حصول کے لیے کیا تھا۔ تاہم لیہ میں سامنے آنے والی معلومات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پروگرام کے مقاصد کو حاصل کرنے میں سنگین انتظامی اور آپریشنل چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔

افرادی قوت کی تعیناتی پر سوالات

سرکاری ریکارڈ کے مطابق منصوبے میں 311 ڈرائیور، 1,052 سینیٹری ورکرز اور 50 سپروائزرز تعینات ہیں۔

تاہم فیلڈ ویری فکیشن اور ریکارڈ کے تقابلی جائزے میں تقریباً 257 افراد کے حوالے سے مبینہ تضادات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق فیلڈ انسپکشن کے دوران 17 ملازمین کی جسمانی تصدیق نہ ہو سکی جبکہ 50 افراد جو سرکاری ریکارڈ میں سروئیر ظاہر کیے گئے ہیں، کمپنی ریکارڈ میں سینیٹری ورکرز کے طور پر درج پائے گئے۔

مزید برآں 25 سینیٹری ورکرز دفتری امور سرانجام دیتے پائے گئے جبکہ 165 کارکنان کو بطور ہیلپر استعمال کیے جانے کی اطلاعات ہیں، حالانکہ انہیں صفائی کے کام کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعدد ہیلپرز سیاسی سفارشات اور اثرورسوخ کے ذریعے بھرتی کیے گئے اور ان کی عملی کارکردگی پر بھی سوالات موجود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال فعال فیلڈ ورکرز پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیر اور صفائی کی خراب صورتحال سامنے آتی ہے۔

بائیومیٹرک تصدیق کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی نے مبینہ گھوسٹ ملازمین اور غیر فعال کارکنان کی موجودگی کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔

تنخواہوں کے اوسط تخمینے کی بنیاد پر ان بے ضابطگیوں کے مالی اثرات ایک کروڑ دو لاکھ اسی ہزار روپے ماہانہ سے زائد بتائے جا رہے ہیں۔

جعلی ٹنیج اور بلنگ کے الزامات

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے تحصیل لیہ کے لیے روزانہ 401 ٹن کچرا اٹھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

تاہم مبینہ طور پر ایسا کوئی مؤثر تھرڈ پارٹی ویری فکیشن سسٹم موجود نہیں جو یہ تصدیق کر سکے کہ حقیقتاً اتنا کچرا جمع اور تلف کیا جا رہا ہے۔

متعدد علاقوں میں کچرے کے ڈھیروں کی موجودگی نے سرکاری طور پر ظاہر کی جانے والی ویسٹ کلیکشن رپورٹس پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سب سے تشویشناک الزام یہ سامنے آیا ہے کہ بعض گاڑیوں میں وزن بڑھانے کے لیے مبینہ طور پر مٹی، پتھر اور دیگر غیر متعلقہ مواد شامل کیا جاتا ہے تاکہ ویسٹ ٹنیج زیادہ ظاہر کر کے بلنگ میں اضافہ کیا جا سکے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حاصل ہونے والی بعض ویڈیوز میں کوڑے کے ساتھ مٹی اور پتھر بھی دکھائی دیتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔

ابتدائی تخمینوں کے مطابق روزانہ تقریباً 23 لاکھ روپے ویسٹ کلیکشن کی مد میں کلیم کیے جا رہے ہیں جبکہ مبینہ اووربلنگ سے پانچ کروڑ باون لاکھ روپے ماہانہ تک کے نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ سرکاری فنڈز میں بدعنوانی، پیمائش میں جعلسازی اور ریکارڈ میں ردوبدل کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

مکینیکل سویپرز بھی تحقیقات کی زد میں

منصوبے کے تحت صفائی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے دو مکینیکل سویپرز LY-SW-01 اور LY-SW-02 فراہم کیے گئے تھے۔

تاہم آپریشنل ذرائع کے مطابق ایک سویپر مبینہ طور پر غیر فعال ہے جبکہ دوسرا برش سسٹم سمیت مختلف تکنیکی خرابیوں کے باعث مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مشینوں کے اخراجات اور ادائیگیاں جاری رہنے کے باوجود صفائی کا زیادہ تر کام دستی مزدوری کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔

مزید سنگین الزام یہ ہے کہ بعض اوقات جی پی ایس ٹریکرز مبینہ طور پر دیگر گاڑیوں یا ٹریکٹروں کے ساتھ منسلک کر دیے جاتے ہیں تاکہ مشینوں کی فرضی نقل و حرکت اور روٹ مکمل ہونے کا تاثر دیا جا سکے۔

اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو مشینری کے استعمال، مائلیج اور ایندھن کے ریکارڈ کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

ان بے ضابطگیوں کے مالی اثرات تقریباً 56 لاکھ 16 ہزار روپے ماہانہ بتائے جا رہے ہیں۔

محنت کشوں کے استحصال کے الزامات

تحقیقات کے دوران مزدوروں کے حقوق سے متعلق خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سینیٹری ورکرز سے ان کی ملازمت کی شرائط سے ہٹ کر اضافی ذمہ داریاں لی جا رہی ہیں جبکہ بعض صورتوں میں وہ کام بھی کروائے جا رہے ہیں جو مکینیکل آلات کے ذریعے انجام دیے جانے چاہئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ لیبر قوانین، حفاظتی اصولوں اور کارکنوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتے ہیں۔

جنگلات کی سرکاری زمین بطور ڈمپنگ سائٹ استعمال ہونے کا انکشاف

سب سے سنگین ماحولیاتی مسئلہ چک شہباز آباد میں قائم مبینہ ڈمپنگ سائٹ سے متعلق سامنے آیا ہے جہاں تقریباً آٹھ ایکڑ محکمہ جنگلات کی زمین استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس جگہ کو ابتدائی طور پر عارضی استعمال کے لیے اختیار کیا گیا تھا، تاہم تقریباً ایک سال آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود ڈمپنگ کا عمل جاری ہے۔

فیلڈ مشاہدات میں مناسب باڑ، ماحولیاتی تحفظ کے انتظامات اور سائنسی ویسٹ مینجمنٹ کے تقاضے موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ مقام آبادی سے تقریباً 150 میٹر کے فاصلے پر واقع بتایا جاتا ہے جس سے عوامی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

مزید برآں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سرکاری زمین استعمال ہونے کے باوجود ڈمپنگ سائٹ کے اخراجات کی مد میں مبینہ طور پر بھاری ادائیگیاں بھی جاری ہیں۔

ان اخراجات کے مالی اثرات تقریباً 25 لاکھ روپے ماہانہ بتائے جا رہے ہیں۔

محکمہ جنگلات کے کردار پر بھی سوالات

سرکاری جنگلاتی زمین کے طویل عرصے تک استعمال نے انتظامی نگرانی کے حوالے سے متعدد سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تحقیقاتی ذرائع یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زمین کے استعمال کی منظوری کس نے دی، عارضی انتظام مستقل نوعیت کیوں اختیار کر گیا اور سرکاری اثاثے کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہ کیے گئے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو انتظامی غفلت یا ممکنہ ملی بھگت کے امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ماحولیات اور صحت کو لاحق خطرات

ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں درج ذیل خطرات جنم لے سکتے ہیں:

– میتھین گیس کا اخراج
– فضائی آلودگی
– تعفن اور بدبو
– گردوغبار کی آلودگی
– مٹی کی زرخیزی میں کمی
– زیرزمین پانی کی آلودگی
– زرعی پیداوار میں کمی

ماہرین کے مطابق قریبی آبادیوں کے مکین، خصوصاً بچے اور بزرگ، دمہ، الرجی، جلدی امراض، سانس کی بیماریوں اور معدے کی مختلف بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رکشہ آپریشنز بھی سوالات کی زد میں

ریکارڈ کے مطابق منصوبے میں 100 نجی رکشے اور 79 کنٹریکٹر کے زیر انتظام رکشے استعمال ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض ڈرائیورز مبینہ طور پر بغیر درست لائسنس کے گاڑیاں چلا رہے ہیں جس سے عوامی تحفظ کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دستیاب معلومات کے مطابق ہر رکشے کے لیے روزانہ تقریباً دو لیٹر پٹرول مختص کیا جاتا ہے، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عملی طور پر اس سے کم مقدار فراہم کی جا رہی ہے۔

مزید یہ کہ حکومت کی جانب سے فی رکشہ تقریباً 70 ہزار روپے ادائیگی کیے جانے کے باوجود مالکان یا ڈرائیورز کو صرف 40 ہزار روپے ملنے کی اطلاعات ہیں، جس سے ممکنہ مالی فرق پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔

ان معاملات کے مالی اثرات 30 لاکھ روپے ماہانہ سے زائد بتائے جا رہے ہیں۔

ایندھن اور مائلیج کے دعوے بھی مشکوک

تحقیقات میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آپریشنل یارڈ کے قریب پی ایس او پمپ موجود ہونے کے باوجود ایندھن مبینہ طور پر آٹھ کلومیٹر دور واقع پٹرول پمپ سے کیوں حاصل کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے انتظامات مائلیج، ایندھن کے استعمال اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں غیر معمولی اضافے کے امکانات پیدا کرتے ہیں۔

اس حوالے سے جی پی ایس ڈیٹا، فیول لاگز، وینڈر کنٹریکٹس اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کا فرانزک آڈٹ تجویز کیا گیا ہے۔

عیدالاضحیٰ آپریشن بھی تحقیقات کے دائرے میں

تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عیدالاضحیٰ کے تین روزہ صفائی آپریشن کے دوران ویسٹ ٹنیج کی رپورٹنگ میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا شبہ ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق صرف عید آپریشن کے دوران ہی مبینہ مالی بے قاعدگیوں کا حجم تقریباً تین کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے، تاہم اس کی تصدیق آزادانہ تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

سالانہ 104 کروڑ روپے سے زائد کا ممکنہ مالی اثر؟

ابتدائی تخمینوں کے مطابق مشتبہ ماہانہ مالی اثرات درج ذیل ہیں:

– افرادی قوت اور تنخواہوں میں بے ضابطگیاں: 1.028 کروڑ روپے
– مبینہ جعلی ٹنیج اور بلنگ: 5.52 کروڑ روپے
– مکینیکل سویپرز سے متعلق بے ضابطگیاں: 56.16 لاکھ روپے
– ڈمپنگ سائٹ اخراجات: 25 لاکھ روپے
– ایندھن سے متعلق خدشات: 8.24 لاکھ روپے
– رکشہ آپریشنز میں ممکنہ مالی فرق: 30 لاکھ روپے

مجموعی طور پر یہ رقم تقریباً 8 کروڑ 74 لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ بنتی ہے جو سالانہ بنیادوں پر 104 کروڑ 90 لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

فوری تحقیقات کا مطالبہ

الزامات کی سنگینی، سرکاری خزانے پر ممکنہ اثرات، ماحولیاتی خطرات اور عوامی مفاد کے پیش نظر مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:

– افرادی قوت کی تھرڈ پارٹی تصدیق کرائی جائے۔
– بائیومیٹرک آڈٹ کروایا جائے۔
– جی پی ایس اور آر ایف آئی ڈی ڈیٹا کا فرانزک تجزیہ کیا جائے۔
– اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے تحقیقات کرائی جائیں۔
– خصوصی مالی اور فرانزک آڈٹ کروایا جائے۔
– ماحولیاتی اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے۔
– لیبر ڈیپارٹمنٹ سے معائنہ کروایا جائے۔
– محکمہ جنگلات اور محکمہ ماحولیات کے کردار کا جائزہ لیا جائے۔
– ایندھن، مائلیج اور ادائیگیوں کے ریکارڈ کی جانچ کی جائے۔
– ذمہ دار افسران، کنٹریکٹرز اور دیگر متعلقہ عناصر کا تعین کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید ویڈیوز، دستاویزی شواہد اور اضافی مواد بھی دستیاب ہے جبکہ مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

اب تمام نظریں صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ ان سنگین الزامات کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیتے ہیں یا نہیں۔ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ جنوبی پنجاب میں ویسٹ مینجمنٹ کے شعبے سے متعلق سامنے آنے والے بڑے مالی و انتظامی اسکینڈلز میں شمار ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں