چھوڑو یار مٹی پاؤ /وسعت خیال محمد تنویر حسن کا کالم

عبد الستار میرا پرانا دوست ہے لیکن اپنی بے ہنگم مصروفیات کے باعث میری اس سے ملاقات کئی دنوں تک نہیں ہوتی میں اس بات پر بھی نادم ہوں کہ میں اس سے رابطہ کرنے میں بھی بخل سے کام لیتا ہوں لیکن عبد الستار ہی مجھے کال کرکے گھر آنے کی دعوت دیتا ہے میں بھی اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اسکے گھر پہنچ جاتا ہوں۔ میرا یہ دوست آج کل بالکل ” ویلا” ہے کیونکہ وہ سرکاری فرائض سے نجات پانے کے بعد بال بچوں کی زمہ داریوں سے بھی فارغ ہے سر پر بال ٹانواں ٹانواں ہونے کے باعث فارغ البال کی منزل بھی پا چکا ہے۔ عبد الستار ان دنوں اپنا زیادہ وقت گھر کے لان میں موجود باغیچہ میں گزارتا ہے وہ پودوں سے بہت محبت کرتا ہے اگرچہ اس نے پودوں کی دیکھ بھال کے لئے مالی رکھا ہوا ہے لیکن اسے اپنے ہاتھوں سے لگائے گئے پودوں کی خود خدمت کرکے راحت ملتی ہے ۔ پودوں سے اس کی محبت اپنی جگہ لیکن اس کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پودوں سے دل کی باتیں کر سکتا ہے لیکن وہ جوابا کچھ نہیں کہہ سکتے اسی لئے اسے دل کی باتیں کرنے کے لیے زندہ سلامت انسان کی اشد ضرورت ہوتی ہے لہذا میں اسے ریسکیو کرنے پہنچ گیامیں نے دیکھا حسب معمول وہ اپنے پودوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھا مجھے دیکھ کر وہ عالم ہست و بود میں واپس آیا کہنے لگا اچھا کیا تم آگئے ہو آج یار میرا دل ان دنوں ملکی حالات کے باعث بہت اداس رہتا ہے ایک بات بتاؤ آج کی ہوش ربا مہنگائی میں کیا تمہیں لگتا ہے کہ ہمارے حکمران اس اذیت کو محسوس کررہے ہیں جس سے آج ایک دیہاڑی دار یا ماہانہ بیس تیس ہزار کمانے والا اور اس کا خاندان محسوس کررہے ہیں ؟ میں نے کہا کیسی باتیں کررہے ہو بھلا حکمرانوں اور نچلے درجے کی عوام کا کیا تعلق ہمارے حکمرانوں کی اکثریت منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتی ہے اس نے عینک درست کرتے ہوئے کہا جس ملک میں ڈاکٹر مریض کا مرض دیکھ کر نہیں ادویہ ساز کمپنیوں کی پر کشش مراعات دیکھ کر نسخہ لکھتے ہوں اور جہاں تھانے کچہریوں میں کھلے عام سودے ہوتے ہوں جہاں اشیاء کی قیمتیں ان قدر کے حساب کے بجائے طلب کے مطابق طے کی جاتی ہوں جہاں تعلیم جیسا مقدس شعبہ بھی دکان بن جائے وہاں کس طرح سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سب ٹھیک چل رہا ہے میں نے کہا لیکن یہ تو ہر حکومت کہتی ہے کہ ملک میں سب اچھا ہے معیشت کے سب اشاریئے مثبت ہیں یہ تو چند عاقبت نااندیش لوگ ہر وقت حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھا کر عوام کا دل برا کرتے رہتے ہیں میرے دوست نے کہا یار یہی تو وہ سب سے بڑا جھوٹ ہے جو ہر حکومت پھیلا کر وقت گزاری کرتی ہے اگر حالات بہتر ہورہے ہوتے تو کہیں تو بہتری نظر آتی لیکن یہاں تو ہر آنے والا دن ایک نئی پریشانی ساتھ لا رہا ہے اپنی گفتگو میں کچھ وقفہ کے بعد اس نے میز پر پڑا اخبار اٹھایا اور کی شہ سرخی پر شہادت والی انگلی رکھ کر کہنے لگا تم نے زندگی میں کتنے بجٹ دیکھے ہیں میں نے کہا جب سے ہوش سنبھالا ہے بجٹ دیکھ رہا ہوں اس نے پوچھا کیا کسی بجٹ میں تمہیں کوئی فرق محسوس ہوا میں نے کہا جی یہ کہ ایک بجٹ کے اعداد وشمار دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں میرے دوست نے کہا بس یہی کچھ ہی ہوتا ہے عوام روتے بلکتے چیختے رہتے ہیں لیکن ہر حکومت کے ترجمان بجٹ کو نہ مثالی قرار دیتے ہیں بلکہ عوام دوست بجٹ کا ٹیگ بھی لگا دیتے ہیں میں نے محسوس کیا کہ میرے دوست پر حسب سابق ملکی حالات کے مضر اثرات پڑنے لگ گئے ہیں لہذا میں نے صورت حال کو نارمل کرنے کے لیے کہا یار ہم بھلا کیوں کڑھ رہے ہم تو تین میں نہ تیرہ میں چھوڑو ان روح فرسا باتوں کو مٹی پاؤ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں