کروڑوں روپے کا پل پہلی بارش میں بہہ گیا
*130 ملین روپے کا پل پہلی بارش میں بہہ گیا — پنجاب حکومت کی گورننس، نگرانی اور معیارِ تعمیر پر سنگین سوالات*
*رپورٹ: رانا تصدق حسین*
*ڈیرہ غازی خان:* ڈیرہ غازی خان میں تقریباً 130 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا بارہ پل اور وڈور روڈ منصوبہ تکمیل کے صرف چند ماہ بعد ہی منہدم ہو گیا، جس نے تعمیراتی معیار، سرکاری نگرانی، شفافیت اور عوامی وسائل کے استعمال پر انتہائی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ بارشوں کے نتیجے میں وڈور ہل نالے میں آنے والے نسبتاً معمولی ریلے کے باعث پل اور سڑک کا بڑا حصہ بیٹھ گیا اور بہہ گیا۔
ایسا انفراسٹرکچر جو موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، پہلی حقیقی آزمائش میں ہی ناکام ثابت ہوا۔
پل کے منہدم ہونے سے متعدد دیہات اور ڈیرہ غازی خان شہر کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو آمدورفت، تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
واقعے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر 130 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والا منصوبہ چند ماہ بھی کیوں نہ چل سکا۔
متاثرہ آبادی نے منصوبے کی منصوبہ بندی، ڈیزائن، تعمیر، نگرانی اور معیار کی جانچ کے تمام مراحل کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی افراد کی جانب سے ناقص تعمیراتی سامان کے استعمال، کمزور انجینئرنگ، ناکافی نگرانی اور بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق یہ واقعہ اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں میں پائیداری، معیار اور عوامی مفاد کے بجائے جلد افتتاح اور نمائشی کارکردگی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ سانحہ صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں نگرانی اور احتساب کے نظام پر بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے منصوبوں کی بار بار ناکامی اس بات کی غماز ہے کہ خریداری، نگرانی، تکنیکی جانچ اور جوابدہی کے نظام میں بنیادی خامیاں موجود ہیں۔
متاثرہ عوام نے پنجاب حکومت، اینٹی کرپشن اداروں اور متعلقہ احتسابی فورمز سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے سے وابستہ ٹھیکیداروں، کنسلٹنٹس، نگران انجینئروں اور متعلقہ سرکاری افسران کا مکمل تکنیکی اور مالی آڈٹ کرایا جائے تاکہ ذمہ داران کا تعین ہو سکے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا حساب لیا جا سکے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متبادل راستوں کا فوری انتظام کیا جائے، تباہ شدہ سڑک اور پل کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کی جائے اور تحقیقات کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
عوامی حلقوں کے مطابق بارہ پل اور وڈور روڈ کا انہدام صرف ایک پل کی تباہی نہیں بلکہ نظامِ نگرانی، جوابدہی اور شفاف طرزِ حکمرانی کی ناکامی کی علامت ہے۔
اب ڈیرہ غازی خان کے عوام اس سوال کا جواب مانگ رہے ہیں کہ عوام کے ٹیکسوں سے تعمیر ہونے والا منصوبہ چند ماہ کے اندر ہی کیوں زمین بوس ہو گیا۔