کیا انصاف سب کے لیے یا ؟؟اسلام اباد ٹوڈے کی خصوصی رپورٹ

*سب کے لیے انصاف — یا صرف اُن کے لیے جو اس کی قیمت ادا کر سکتے ہیں؟*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* انصاف کے حصول کی پوشیدہ قیمت عام شہریوں کو مسلسل کچل رہی ہے

برسوں سے پاکستان کے قانون پسند شہریوں کو یہ یقین دہانی کرائی جاتی رہی ہے کہ ریاست ’’سب کے لیے انصاف‘‘ کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔

تاہم زمینی حقائق لاکھوں پاکستانیوں کے تجربات کی روشنی میں ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

آج ایک عام شہری عدالت، ٹریبونل، محتسب (اومبڈسمین) یا کسی بھی فورم سے رجوع کرنے کا سوچے، تو سب سے پہلے اسے ایسے مالی اخراجات اور پیچیدہ مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انصاف تک رسائی کو دن بدن مشکل اور مہنگا بنا رہے ہیں۔

حال ہی میں اسلام آباد میں پیش آنے والے ایک واقعے نے قانونی عمل کے ابتدائی مرحلے ہی میں شہریوں کے استحصال کی ایک اور مثال سامنے رکھ دی ہے۔

ایک والد کو اپنے بچے کے اسکول کی جانب سے ہدایت دی گئی کہ وہ 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر ایک سادہ سا بیانِ جمع کروائیں۔ اس بیان کا متن پہلے سے اسکول کی جانب سے تیار شدہ تھا۔

والد آبپارہ مارکیٹ کے ایک اسٹامپ فروش کے پاس گئے، جہاں انہیں توقع تھی کہ سرکاری فیس اور پرنٹنگ کی مناسب اجرت ادا کرکے مطلوبہ دستاویز حاصل کر لیں گے۔

پورا عمل بمشکل پانچ منٹ میں مکمل ہوا۔ آن لائن اسٹامپ پیپر جاری کیا گیا اور فراہم کردہ متن پرنٹ کر دیا گیا۔

تاہم شہری اس وقت حیران رہ گیا جب اس سے ایک ہزار روپے طلب کیے گئے۔ اعتراض کرنے پر طویل بحث کے بعد رقم 900 روپے تک کم کر دی گئی۔ مزید حیرت اس وقت ہوئی جب باقاعدہ رسید طلب کرنے پر بل کو درست ثابت کرنے کے لیے اضافی اور غیر مطلوبہ خدمات رسید میں شامل کر دی گئیں۔

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ایک اور واقعہ سامنے آیا جس میں ایک شہری سے محض ایک صفحے کے بیانِ حلفی کی تیاری کے عوض 2500 روپے وصول کیے گئے۔

یہ واقعات کئی اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

ایک اسٹامپ پیپر کی حقیقی لاگت کیا ہے؟

مناسب سروس چارج کس چیز کو کہا جائے گا؟

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان وصولیوں کی نگرانی اور ضابطہ بندی کون کر رہا ہے؟

حکومت اس امر پر یقیناً داد کی مستحق ہے کہ اس نے شفافیت کو فروغ دینے اور بدعنوانی کے امکانات کم کرنے کے لیے آن لائن اسٹامپ پیپرز کا نظام متعارف کروایا۔

تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سروس چارجز کے حوالے سے واضح اور نافذ العمل قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جس کا بوجھ عام شہری برداشت کر رہے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف اسٹامپ فروشوں تک محدود نہیں۔

اگر ایک عام شہری کو محض ایک سادہ بیانِ حلفی یا تصدیقی دستاویز حاصل کرنے کے لیے سینکڑوں یا ہزاروں روپے خرچ کرنا پڑیں، تو سول عدالتوں، فیملی کورٹس، خصوصی عدالتوں، ٹریبونلز، ہائی کورٹس، سپریم کورٹ آف پاکستان، وفاقی آئینی عدالت اور دیگر نیم عدالتی فورمز میں مقدمات کی پیروی پر آنے والے اخراجات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

عدالتی فیسیں، دستاویزی اخراجات، حلف نامے، نوٹری تصدیقات، سفری اخراجات، بار بار کی پیشیاں اور پیشہ ورانہ قانونی فیسیں مل کر ایک ایسی مالی رکاوٹ کھڑی کر دیتی ہیں جسے عبور کرنا بہت سے شہریوں کے لیے ممکن نہیں رہتا۔

پاکستان کے بے شمار شہریوں کے لیے انصاف قانون کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی قیمت کی وجہ سے ناقابلِ رسائی ہو چکا ہے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ بے شمار لوگ جائیداد کے تنازعات، خاندانی معاملات، ملازمت سے متعلق شکایات، پنشن کے مقدمات اور دیگر جائز مطالبات صرف اس لیے ترک کر دیتے ہیں کہ وہ انصاف کے حصول کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

لہٰذا بنیادی سوال یہ ہے:

کیا انصاف کو واقعی ’’قابلِ رسائی‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے جب اس کے حصول کا پہلا قدم ہی عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہوتا جا رہا ہو؟

متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر آن لائن اسٹامپ پیپرز، بیاناتِ حلفی اور متعلقہ خدمات کے لیے شفاف، واضح اور قابلِ نفاذ فیس شیڈول متعارف کروائیں۔

سرکاری نرخ نامے نمایاں طور پر آویزاں کرنا لازمی قرار دیا جائے، رسیدوں کا نظام معیاری بنایا جائے اور زائد وصولیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔

انصاف کسی مخصوص طبقے کی مراعات یافتہ سہولت نہیں ہونا چاہیے۔

اگر ریاست واقعی ’’سب کے لیے انصاف‘‘ کے اصول پر یقین رکھتی ہے تو اس کی بنیاد انصاف کے حصول کے پہلے کاغذ سے ہی شفافیت، جوابدہی، استطاعت اور آسان رسائی کو یقینی بنانے پر ہونی چاہیے۔

بصورتِ دیگر ’’سب کے لیے انصاف‘‘ کا نعرہ تقریروں میں تو دلکش محسوس ہوگا، مگر عام پاکستانیوں کی زندگیوں میں اس کی عملی جھلک نظر نہیں آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں