پی ائی اے مونگ پھلی کے دام ؟

*پی آئی اے*
*’’مونگ پھلی کے دام‘‘؟*
*135 ارب میں 75 فیصد حصص، اربوں کے اثاثے الگ*

*روز ویلٹ اور اسکرائب ہوٹل نجکاری سے باہر، 36 جائیدادیں ہولڈنگ کمپنی کے پاس؛ خریدار کو 15 سالہ ٹیکس چھوٹ، 45 ارب کی ذمہ داریاں حکومت کے ذمے ہونے کا انکشاف*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*کراچی:* پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری مکمل ہونے کے بعد قومی پرچم بردار ایئرلائن کے 75 فیصد حصص عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم کے حوالے کر دیے گئے ہیں، تاہم سودے کے مالیاتی ڈھانچے، نجکاری سے باہر رکھے گئے قیمتی اثاثوں، خریدار کو حاصل ہونے والی ٹیکس مراعات اور حکومت کی جانب سے اپنے ذمے لی جانے والی اربوں روپے کی ذمہ داریوں نے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

30 جون 2026ء کو پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ (PIACL) کا انتظامی کنٹرول باضابطہ طور پر نئے نجی انتظام کو منتقل کر دیا گیا۔ 23 دسمبر 2025ء کو ہونے والی نیلامی میں کنسورشیم نے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی دی تھی۔ یہ بولی حکومت کی 100 ارب روپے کی ریفرنس قیمت سے 35 فیصد زیادہ تھی۔

تاہم، سودے کی اصل تصویر صرف 135 ارب روپے کی قیمت سے واضح نہیں ہوتی، کیونکہ پی آئی اے کے کئی بڑے اثاثے پہلے ہی ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کیے جا چکے تھے جبکہ متعدد پرانے واجبات بھی حکومت کے ذمے برقرار رہے۔

180 ارب روپے کا مجموعی سرمایہ کاری پیکیج

نجکاری کے تحت مجموعی سرمایہ کاری پیکیج 180 ارب روپے بتایا گیا ہے، جس میں 55 ارب روپے حکومت کو جبکہ 125 ارب روپے پی آئی اے میں نئی ایکویٹی کے طور پر لگائے جانے ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں خریدار کی جانب سے حکومت کو 10 ارب روپے ادا کیے گئے جبکہ پی آئی اے میں 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ مزید 45 ارب روپے 12 ماہ کے اندر کمپنی میں ڈالے جانے ہیں۔

خریدار کو حکومت کے پاس موجود باقی 25 فیصد حصص بھی 45 ارب روپے میں حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے وقت حکومت نے واضح کیا تھا کہ بولی کی رقم کا بڑا حصہ ایئرلائن کی بحالی، نئے طیاروں اور توسیع پر خرچ ہوگا۔

*کنسورشیم میں کون کون شامل؟*

عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر، فوجی فرٹیلائزر، لیک سٹی، سٹی اسکولز اور اے کے ڈی گروپ شامل ہیں۔

*نئے بورڈ کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر کریں گے۔*

انتظامی کنٹرول کی منتقلی سے قبل ریگولیٹری اور تجارتی شرائط پوری کی گئیں، جن میں متعلقہ پاکستانی اور غیرملکی ہوا بازی حکام کی منظوریوں کے علاوہ لیزنگ کمپنیوں اور ایندھن فراہم کرنے والوں کی رضامندیاں بھی شامل تھیں۔

*اصل سوال: کیا پی آئی اے کے بڑے اثاثے فروخت ہوئے بھی؟*

نجکاری کے سب سے اہم پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ پی آئی اے کے بعض انتہائی قیمتی اثاثے نجکاری کے دائرے سے باہر رکھے گئے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے واضح کیا تھا کہ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کا اسکرائب ہوٹل پی آئی اے کی نجکاری میں شامل نہیں، بلکہ یہ اثاثے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (PIAHCL) کے پاس رہیں گے۔

یوں نجی شعبے کو منتقل ہونے والی ایئرلائن اور ریاستی ملکیت میں برقرار رہنے والے بڑے اثاثوں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

روزویلٹ ہوٹل: 36.5 ملین ڈالر سے 400 ملین ڈالر سے زائد مالیت تک

مین ہٹن، نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل پی آئی اے کی بیرون ملک سب سے معروف سرمایہ کاریوں میں شمار ہوتا ہے۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق پی آئی اے نے اسے 1979ء میں پال مل اسٹین سے لیز پر حاصل کیا، 1999ء میں 36.5 ملین ڈالر میں خریدا اور 2005ء میں سعودی پارٹنر کا حصہ تقریباً 40 ملین ڈالر میں خرید کر تقریباً 99 فیصد کنٹرول حاصل کر لیا۔

ایک وقت میں اس کی مالیت 400 ملین ڈالر سے زیادہ بتائی گئی۔

اب یہ جائیداد نیویارک سٹی انتظامیہ کو تین سال کے لیے تقریباً 220 ملین ڈالر میں تارکین وطن کی رہائش کے لیے لیز پر دی گئی ہے۔

لیکن روز ویلٹ ہوٹل نجکاری کے خریدار کو منتقل نہیں ہوا۔

پیرس کا اسکرائب ہوٹل بھی نجکاری سے باہر

پیرس کا تاریخی اسکرائب ہوٹل، جو اب Sofitel Le Scribe کے نام سے معروف ہے، بھی پی آئی اے نے 1970ء کی دہائی میں حاصل کیا تھا۔

اس کی تخمینی مالیت تقریباً 200 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

یہ اثاثہ بھی نجی خریدار کو منتقل ہونے کے بجائے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے پاس برقرار رکھا گیا۔

36 جائیدادیں ہولڈنگ کمپنی کے پاس، صرف 11 منتقل

پرائیویٹائزیشن کمیشن کے SRO 475(I)/2026، مورخہ 4 مارچ 2026ء کے مطابق پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے پاس 36 جائیدادیں برقرار رہیں۔

*ان میں روز ویلٹ ہوٹل نیویارک، اسکرائب ہوٹل پیرس، ایونٹ/Avant ہوٹل کراچی، پی آئی اے کے پلینیٹیریمز، بلیو ایریا اسلام آباد کا تقریباً 12 ارب روپے مالیت کا پلاٹ اور کراچی کی تقریباً 200 ایکڑ اراضی شامل بتائی گئی ہے۔*

اس کے برعکس صرف 11 جائیدادیں، جن کی مالیت تقریباً 14.26 ارب روپے بتائی گئی ہے، خریدار کو منتقل ہوئیں۔ ان میں ممبئی، نئی دہلی، ایمسٹرڈیم اور تاشقند میں واقع دفاتر و دیگر جائیدادیں شامل ہیں۔

یعنی نجکاری میں منتقل ہونے والی چیز صرف ایئرلائن نہیں بلکہ ایک الگ کیا گیا “کور ایئرلائن” بزنس ہے، جبکہ کئی اہم غیر بنیادی اثاثے ہولڈنگ کمپنی میں برقرار رکھے گئے ہیں۔

*خریدار کو 15 سالہ ٹیکس چھوٹ؟*

نجکاری کے مالیاتی ڈھانچے کا سب سے حساس پہلو خریدار کو فراہم کی جانے والی ٹیکس مراعات ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پرائیویٹائزیشن کمیشن عثمان باجوہ نے بتایا کہ نئے طیاروں کی خرید یا لیز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا یا اس پر غور جاری ہے، جس کا اطلاق ملکی اور بین الاقوامی روٹس پر چلنے والے طیاروں پر ہوگا۔

*ایک لیز شدہ طیارے پر اس سہولت کا فائدہ تقریباً 81 لاکھ روپے ماہانہ بتایا گیا ہے۔*

اس رعایت کو 15 سال تک جاری رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔

اگر ایک بڑی تعداد میں طیاروں اور طویل مدت کو سامنے رکھا جائے تو اس سہولت کی مجموعی مالی قدر اربوں روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

*خریدار نے رعایت مانگی نہیں، حکومت نے دی؟*

اس معاملے میں سیکریٹری پرائیویٹائزیشن کمیشن کا یہ انکشاف خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ بولی دینے والے کنسورشیم نے مبینہ طور پر کسی ترجیحی سلوک یا خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔

ان کے مطابق پی آئی اے کو 15 سالہ ٹیکس رعایت دینے کا فیصلہ حکومت کی جانب سے کیا گیا۔

*یہ انکشاف ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے:*

اگر خریدار نے خصوصی رعایت طلب نہیں کی تھی تو حکومت نے یہ غیر معمولی مالی سہولت دینے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟

45 ارب روپے کی ذمہ داریاں حکومت کے ذمے

نجکاری کے بعد پی آئی اے کے متعدد مالیاتی واجبات بھی حکومت کے ذمے رہنے کی اطلاعات ہیں۔

*ان میں تقریباً:*

– 26.6 ارب روپے ایف بی آر کے واجبات؛
– 700 ملین روپے پاکستان ایوی ایشن سے متعلق واجبات؛
– تقریباً 10 ارب روپے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے واجبات؛
– پنشن سے متعلق ذمہ داریاں؛
– اور ڈیفالٹ سرچارجز و جرمانے

شامل ہیں۔

مجموعی طور پر تقریباً 45 ارب روپے کی ذمہ داریاں حکومت کی جانب سے برداشت کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے، جو آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط بتائی گئی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر ایئرلائن کی نجکاری کا بنیادی مقصد ریاستی خزانے پر مسلسل مالی بوجھ ختم کرنا تھا تو نجکاری کے ساتھ اتنی بڑی ذمہ داریاں حکومت کے پاس برقرار رکھنے کا خالص مالی فائدہ کیا ہے؟

پی آئی اے کا قرض پہلے ہی الگ کیا جا چکا تھا

نجکاری سے قبل پی آئی اے کے بھاری قرض اور پرانے واجبات کو بڑی حد تک ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کیا گیا تھا تاکہ بنیادی ایئرلائن کو نسبتاً صاف بیلنس شیٹ کے ساتھ نجی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنایا جا سکے۔

2025ء کی نجکاری کے وقت دستیاب رپورٹس کے مطابق حکومت نے پی آئی اے کے تقریباً 654 ارب روپے کے بڑے قرض کو پہلے ہی اپنے ذمے لے لیا تھا۔

یہ پس منظر 135 ارب روپے کی نجکاری قیمت کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ خریدار کو منتقل ہونے والی کمپنی کی مالی حالت اور پرانے قرض کے ڈھانچے کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔

قومی اثاثہ یا صرف آپریٹنگ ایئرلائن؟

پی آئی اے 1955ء میں وجود میں آئی اور کئی دہائیوں تک پاکستان کی قومی شناخت کا حصہ رہی۔ اس کے قیام سے قبل اورینٹ ایئرویز 1946ء میں کلکتہ میں قائم ہو چکی تھی۔

1978ء میں پی آئی اے نے PIA Investments Limited (PIAIL) قائم کی، جس کے ذریعے وقت کے ساتھ اندرون اور بیرون ملک مختلف اثاثے اور سرمایہ کاری پورٹ فولیو تشکیل پاتے گئے۔

اسی پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ سات دہائیوں کے دوران قومی وسائل سے بننے والے وسیع اثاثہ جاتی ڈھانچے میں سے نجی خریدار کو حقیقتاً کیا منتقل ہوا اور کیا ریاست نے اپنے پاس رکھا۔

اسٹاک مارکیٹ کے نام پر مبینہ فراڈ بھی سامنے آگیا

پی آئی اے کی نجکاری کے بعد سوشل میڈیا پر ایک الگ تشویشناک سرگرمی بھی سامنے آئی ہے۔

“Stock Market Insights” کے نام سے فیس بک پر گردش کرنے والے ایک اشتہار میں پی آئی اے کے سبز طیارے اور پاکستان کا قومی پرچم استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ:

“Last week we recommended THREE STOCKS”

اشتہار میں 5.15 روپے کا Buy Price اور 42.80 روپے کا Sell Price دکھایا گیا اور صارفین کو “JOIN GROUP” کے ذریعے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔

یہ معاملہ خاص طور پر حساس ہے کیونکہ پی آئی اے کی نجکاری کے باعث عام سرمایہ کاروں میں اس شعبے اور متعلقہ شیئرز کے بارے میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔

PSX ریکارڈ دعوے کی تصدیق کرتا ہے؟

پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر PIA Holding Company Limited Class-A (PIAHCLA) کے حوالے سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس کا بلند ترین درج شدہ پوائنٹ 9 دسمبر 2025ء کو 49.65 روپے جبکہ کم ترین سطح 11 جون 2024ء کو 11.03 روپے رہی۔

متعلقہ ہفتے میں شیئر میں 3.30 فیصد کمی بھی رپورٹ کی گئی۔

اس لیے سوشل میڈیا اشتہار میں 5.15 روپے سے 42.80 روپے تک اضافے کے دعوے کی حقیقت فوری طور پر جانچنے کی ضرورت ہے۔

SECP، FIA فوری تحقیقات کریں

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) سائبر کرائم کو چاہیے کہ مذکورہ اشتہار اور واٹس ایپ گروپ کے ذریعے ہونے والی سرگرمی کا فوری نوٹس لیں۔

*تحقیقات میں یہ معلوم کیا جائے کہ آیا معاملہ:*

– جعلی سرمایہ کاری اسکیم؛
– غیر مجاز مالیاتی مشاورت؛
– گمراہ کن تشہیر؛
– مارکیٹ میں مبینہ ہیرا پھیری؛
– جعلی شناخت یا جعل سازی؛
– یا عوام سے غیر قانونی طور پر سرمایہ حاصل کرنے

کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔

*250 ملین پاکستانیوں کا اصل سوال:*

پی آئی اے کی نجکاری کے حامی حکومت کی جانب سے اسے ایک اہم اقتصادی اصلاح اور خسارے میں چلنے والے ادارے کو نجی انتظام میں دینے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کے لیے اصل سوال سودا کی مجموعی معاشی قدر ہے۔

135 ارب روپے میں 75 فیصد حصص بظاہر ایک بڑی رقم ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ:

*کتنے اثاثے خریدار کو ملے؟*

*کتنے اربوں کے اثاثے ریاست نے اپنے پاس رکھے؟*

*کتنا پرانا قرض پہلے ہی حکومت نے اپنے ذمے لے لیا؟*

کتنے واجبات خریدار سے نکال کر قومی خزانے پر ڈالے گئے؟

کتنی ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے؟

*اور 15 سالہ ٹیکس رعایت کی مجموعی مالی قیمت کتنی ہوگی؟*

*شفافیت ہی اصل کسوٹی*

اگر حکومت اس سودے کو قومی مفاد میں کامیاب نجکاری قرار دیتی ہے تو عوام کو صرف نیلامی کی قیمت بتانا کافی نہیں ہوگا۔

پارلیمان اور عوام کے سامنے منتقل شدہ اثاثوں، برقرار رکھے گئے اثاثوں، آزادانہ valuations، حکومت کو منتقل ہونے والی تمام liabilities، ٹیکس چھوٹ، معاف شدہ جرمانوں اور مستقبل کے مالی اثرات کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ضروری ہے۔

کیونکہ یہ صرف ایک ایئرلائن کی فروخت نہیں۔

یہ سات دہائیوں کی قومی سرمایہ کاری، عوامی وسائل سے بننے والے اثاثوں، اربوں روپے کی سرکاری ذمہ داریوں اور مستقبل کی آمدنی کا معاملہ ہے۔

250 ملین پاکستانیوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ پی آئی اے کتنے میں فروخت ہوئی، مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ جاننے کا حق ہے کہ اصل میں کیا فروخت ہوا، کیا الگ رکھا گیا، کیا حکومت نے اپنے ذمے لیا اور اس پورے سودے کی حقیقی لاگت آخر قومی خزانے پر کتنی پڑے گی۔

*پی آئی اے کی نجکاری مکمل ہو گئی؛ اب اصل امتحان شفافیت، جواب دہی اور عوام کے سامنے مکمل حساب دینے کا ہے۔*

اپنا تبصرہ بھیجیں