بیوروکریسی کا راج اہل اقتدار کا بھی اعتراف

*نظام بیٹھ گیا ہے:*
*حکومت نہیں بیوروکریسی راج کر رہی ہے، اقتدار والوں کا بھی اعتراف*

*”گل تے فیر ودھ گئی اے” سے “سسٹم وڑھ گیا اے” تک – ندیم افضل چن کا دوٹوک اعتراف، سیاسی حکومت بے بس نکلی*

*تحریر:رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد:* سیاسی نظام عملاً بیوروکریسی کے ہاتھوں یرغمال بن کر بیٹھ چکا ہے اور یہ اعتراف اپوزیشن کی طرف سے نہیں بلکہ خود حکمران اتحاد کے اندر سے سامنے آیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن، جنہیں صاف دل اور کھری بات کہنے والا سیاستدان سمجھا جاتا ہے، نے کھلے عام کہہ دیا ہے کہ منتخب نمائندے بیوروکریسی کے سامنے بے بس ہیں اور پنجاب کا جیل سسٹم تک مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے۔

“جیل سسٹم آف پنجاب وی وڑھ گیا اے، دسدے نئیں پئے”، چن نے اپنے مخصوص پنجابی انداز میں یہ ریمارکس دیے جو اب لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں وائرل ہو چکے ہیں۔

ندیم افضل چن کا اپنا سیاسی سفر بھی ہوا کا رخ پہچاننے کا فن ہے۔ 2008 میں سرگودھا سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے منتخب ہوئے، 2017-18 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے، اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے ترجمان کے عہدے تک پہنچے، جنوری 2021 میں “بولڈ فیصلے” کرنے کا مشورہ دے کر مستعفی ہوئے اور مارچ 2022 میں دوبارہ پیپلز پارٹی میں واپس آگئے۔ ان کا مشہور ٹی وی جملہ “گل تے فیر ودھ گئی اے” آج بھی پنجاب کی سیاست کا سب سے زیادہ دہرایا جانے والا جملہ ہے۔

پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور میں خطاب کرتے ہوئے چن نے کہا کہ اصل فیصلہ سازی سیاستدانوں کے پاس نہیں بلکہ بیوروکریٹس اور برادریوں کے بڑوں کے پاس ہے، اور بابوؤں کے ماڈل کو اپنا کر کبھی کامیابی نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے سیاستدان تحصیل کی سطح پر بھی 35 ملین خاندانوں کا بی آئی ایس پی ڈیٹا استعمال نہیں کرنا چاہتے، اور سیلاب متاثرہ کسانوں کی بحالی کے لیے حکومت کو بابوؤں کے بجائے کسانوں سے مشورہ کرنا چاہیے۔

پیپلز پارٹی کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے چن نے کہا کہ پارٹی حکومت کی نہیں بلکہ سسٹم کی اتحادی ہے اور اس کی توجہ آئین اور جمہوریت کی بالادستی پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی خود اس کرپٹ سسٹم کا شکار ہے لیکن کئی ریاست مخالف اقدامات صرف پیپلز پارٹی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا کو دیے گئے ایک تہلکہ خیز انٹرویو میں چن نے اپنی جماعت کو سائیڈ لائن کرنے کی کوششوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک پیپلز پارٹی کے بغیر نہیں چل سکتا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پی ٹی آئی کو پہلے ہی سسٹم سے باہر دھکیل دیا گیا ہے تو اب نظام کیسے چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ 28 ویں ترمیم، این ایف سی میں تبدیلی اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق افواہیں گردش کر رہی ہیں اور خبردار کیا کہ سندھ میں استحکام صرف پیپلز پارٹی کی وجہ سے ہے۔

چن نے پنجاب میں گورننس کی سنگین خرابی کا بھی الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ تقریباً ہر ضلع میں سرکاری اہلکاروں کو اٹھایا گیا اور بیان دلوا کر چھوڑ دیا گیا، جس کے بعد وہ قانونی کارروائی سے بچتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جمہوری انداز میں نہیں بلکہ بیوروکریٹک انداز میں چلائی جا رہی ہے، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور زراعت کی تباہی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ہر ذہین شخص ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔

چن کے اس دھماکہ خیز اظہار کا لب لباب موجودہ سیٹ اپ کے لیے تباہ کن ہے۔ جب وہ اندرونی لوگ جو پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی دونوں کو اندر سے دیکھ چکے ہیں، یہ تسلیم کریں کہ سیاسی حکومت بیوروکریسی کے سامنے بے بس ہے، کسان، ضلعی انتظامیہ اور جیلیں تک سیاسی کنٹرول سے باہر ہیں، تو اس کا مطلب صرف ایک ہی ہے – نظام بیٹھ چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں