ائی جی کے بیرون ملک روانگی اسلام اباد میں خطرےکی گھنٹیاں

*اتفاق یا اقتدار کی شطرنج؟*

*آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کی اچانک رخصت اور بیرون ملک روانگی نے دارالحکومت میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں*

*وفاقی سیکرٹری داخلہ کی برطرفی کے فوری بعد آئی جی کا بیرون ملک جانا محض اتفاق نہیں، نئی تعیناتی پر ن لیگ اور نقوی کیمپ میں ٹکراؤ شروع*

*رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد -* اتفاق ہے یا اقتدار کی بڑی تبدیلی کا اشارہ؟ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کا اچانک رخصت پر جانا اور بیرون ملک روانہ ہونا اسلام آباد کے ایوانوں میں تشویش کی لہر دوڑا گیا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق آئی جی اسلام آباد کچھ معاملات پر نالاں تھے اور اسی ناراضگی کے بعد رخصت لے کر ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔

یہ پیش رفت معمول کی کارروائی نہیں بلکہ آنے والے بڑے بیوروکریٹک اکھاڑ پچھاڑ کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے۔

یہ پیشرفت وزارت داخلہ میں ایک بڑی تبدیلی کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔

گزشتہ ہفتے وفاقی سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) محمد خرم آغا، جو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے بی ایس 22 آفیسر ہیں، کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں بطور آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

ان کی جگہ احمد رضا سرور، جو گریڈ 22 کے پی اے ایس آفیسر ہیں اور اس سے قبل ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کو تعینات کیا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے سکیورٹی اور انتظامی امور کو کنٹرول کرنے والے دو اعلیٰ حکام کا یکے بعد دیگرے منظر سے ہٹنا قیاس آرائیوں کو مزید تیز کر گیا ہے۔

اصل سوال جو اب اسلام آباد میں گردش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ:
*اگلا آئی جی اسلام آباد کون ہوگا؟*

ذرائع بتاتے ہیں کہ اس عہدے کے لیے شدید رسہ کشی شروع ہو چکی ہے۔

*کیا نیا آئی جی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی پسند ہوگا یا وزیر داخلہ محسن نقوی اپنے پسندیدہ افسر کو لگانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟*

یہ فیصلہ انتہائی اہم ہوگا کیونکہ آئی جی اسلام آباد دارالحکومت کے امن و امان کی کنجی اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے، خاص طور پر سیاسی سرگرمیوں، احتجاجی مظاہروں اور ہائی پروفائل مقدمات کو سنبھالنے کے حوالے سے۔

*یہ تعیناتی محض ایک تبادلہ نہیں ہوگی، بلکہ یہ اسلام آباد میں طاقت کے توازن اور آئندہ کے سیاسی منظر نامے کا تعین کرے گی۔*

اپنا تبصرہ بھیجیں