حکمران عوام کیلئے بوجھ

اپنے لیے سہولت، قوم کے لیے بوجھ
جیٹ، ہیلی کاپٹر اور وی آئی پی کلچر — بل ہمیشہ ٹیکس دہندہ کے نام
بنی گالا سے لندن تک؛ حکومتیں بدلیں، سیاسی نعرے بدلے، مگر عوامی خزانے پر بوجھ ڈالنے کا سوال وہیں رہا
تحریر: رانا تصدق حسین
اسلام آباد: پاکستان میں وی آئی پی کلچر کی اصل کہانی کسی ایک جماعت، حکومت یا شخصیت کی نہیں؛ یہ اس طرز حکمرانی کی کہانی ہے جس میں عوامی وسائل کے استعمال کو اقتدار کے ساتھ ملنے والا استحقاق سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ اس کی قیمت بالآخر وہی ٹیکس دہندہ ادا کرتا ہے جسے ہر سال کفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے۔
حالیہ ٹی وی مباحثے میں اینکر حامد میر نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری طیارہ ذاتی سفر کے لیے استعمال ہو اور متعلقہ شخصیت بعد ازاں اخراجات اپنی جیب سے ادا کردے تو کیا محض ادائیگی سے سرکاری وسیلے کا نجی استعمال درست ہوجاتا ہے؟
رانا ثناء اللہ کا مؤقف تھا کہ قانون کے تحت ایسی سہولت کی اجازت ہے اور اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے جانے چاہئیں۔
جب احسن اقبال کے اسی نوعیت کے مؤقف کا حوالہ دیا گیا تو جواب آیا: ’’وہ بھی پروفیسر ہیں۔‘‘
پھر منصور علی خان نے بنیادی سوال اٹھا دیا: اگر ذاتی ادائیگی سرکاری وسیلے کے نجی استعمال کا معاملہ ختم کردیتی ہے تو عمران خان کے ہیلی کاپٹر استعمال پر یہی اصول کیوں نہیں اپنایا گیا؟
یہ سوال مریم بمقابلہ عمران نہیں۔
یہ سوال ایک ہی ریاست، ایک ہی خزانے اور ایک ہی قانون کے یکساں اطلاق کا ہے۔
12.5 ملین روپے کا سوال
تازہ تنازع وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لندن کے مبینہ نجی سفر میں پنجاب حکومت کے سرکاری طیارے کے استعمال سے متعلق ہے۔
12 ستمبر 2026 کو پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن رکن وقاص محمود مان نے فوری بحث کی تحریک جمع کرائی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایندھن، پارکنگ اور دیگر متعلقہ اخراجات کی مد میں تقریباً 12.5 ملین روپے سرکاری خزانے سے خرچ ہوئے۔ تحریک میں سفر کی نوعیت، طیارے کے استعمال کی قانونی و انتظامی منظوری، اخراجات کے متعلقہ بجٹ ہیڈ اور مالی منظوری کی تفصیلات طلب کی گئیں۔
یہ رقم فی الحال اسمبلی میں اٹھایا گیا دعویٰ ہے، حتمی طور پر ثابت شدہ مالی آڈٹ نہیں۔
پنجاب حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعلیٰ تمام اخراجات خود برداشت کریں گی۔
مگر اصل سوال باقی ہے:
کیا بعد ازاں رقم واپس ادا کردینا سرکاری طیارے کے نجی استعمال کو ازخود عوامی مفاد کا استعمال بنا دیتا ہے؟
یہ سیاسی نہیں، مالی اور انتظامی سوال ہے۔
اربوں کا گلف اسٹریم
تنازع صرف ایک لندن سفر تک محدود نہیں۔
2019 میں تیار کردہ 19 نشستوں والے گلف اسٹریم G500 کی قیمت تقریباً 38 سے 42 ملین ڈالر، یعنی 10 ارب روپے سے زائد، رپورٹ کی گئی ہے۔ یہ طیارہ پنجاب حکومت کے استعمال میں آنے کے بعد سے وی آئی پی سفری سہولت کے حوالے سے مسلسل زیر بحث ہے۔
اگر اسے سرکاری یا وی آئی پی سفری ضرورت کے لیے خریدا گیا ہے تو چند سوالات ناگزیر ہیں:
اس خریداری کا منظور شدہ کاروباری جواز کیا تھا؟
متوقع استعمال کتنا تھا؟
کون اسے استعمال کرسکتا ہے؟
سرکاری اور نجی سفر میں فرق کیسے قائم ہوگا؟
مکمل آپریٹنگ لاگت کون برداشت کرے گا؟
اور اخراجات کا آزادانہ آڈٹ کون کرے گا؟
استحقاق، احتساب کا متبادل نہیں ہوسکتا۔
ہنی مون کی خبر؛ الزام کو حقیقت نہ بنایا جائے
یہ دعویٰ بھی گردش کرتا رہا کہ مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر نے سرکاری طیارہ نجی سفر کے لیے ویانا جانے میں استعمال کیا۔
جنید صفدر نے اس دعوے کی تردید کی اور پنجاب حکومت کی جانب سے بھی ایسی رپورٹس مسترد کی گئیں۔
لہٰذا اس الزام کو ثابت شدہ واقعہ قرار دینا درست نہیں۔
صحافتی طور پر اصل سوال یہ ہے:
طیارہ کس نے استعمال کیا؟
کب کیا؟
کس مقصد کے لیے کیا؟
اجازت کس نے دی؟
اور اخراجات کس نے برداشت کیے؟
فلائٹ لاگ، سفری منظوری، قانونی طور پر قابلِ افشا مسافر ریکارڈ، ایندھن کے بل، پارکنگ چارجز اور ادائیگی کی رسیدیں اس کا جواب دے سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا نہیں۔
یہ کہانی نئی نہیں
پاکستان اس نوعیت کے تنازع سے پہلی مرتبہ دوچار نہیں ہوا۔
عمران خان کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں بنی گالا اور وزیراعظم ہاؤس کے درمیان ہیلی کاپٹر کے استعمال پر شدید سوالات اٹھے۔
اپریل 2022 میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جون 2018 سے مارچ 2022 تک ہیلی کاپٹر کے استعمال پر مجموعی اخراجات تقریباً 984 ملین روپے رہے، جن میں 512 ملین روپے دیکھ بھال اور 472 ملین روپے پرواز سے متعلق اخراجات تھے۔
اسی عرصے میں 2,723 پرواز گھنٹے رپورٹ ہوئے اور اوسط لاگت تقریباً 275,000 روپے فی گھنٹہ بتائی گئی۔
اس سے پہلے 550 ملین روپے کے ایندھن کے اخراجات کا عدد بھی سیاسی بحث کا حصہ بنا تھا۔
اعداد میں فرق اپنی جگہ؛ بنیادی سوال وہی تھا:
سرکاری ضرورت کہاں ختم ہوتی ہے اور ذاتی سہولت کہاں شروع ہوتی ہے؟
50 روپے فی کلومیٹر کا دفاع
اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ہیلی کاپٹر سفر کا دفاع کرتے ہوئے اس کی لاگت تقریباً 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر بتائی۔
بعد کے سرکاری اعداد نے مجموعی لاگت کہیں زیادہ ظاہر کی۔
اصل مسئلہ صرف فی کلومیٹر حساب نہیں تھا۔
مسئلہ یہ تھا کہ عوام کو مکمل لاگت دکھائی جارہی تھی یا صرف وہ عدد جو سیاسی دفاع کے لیے موزوں تھا۔
سرکاری طیارے اور ہیلی کاپٹر صرف ایندھن سے نہیں چلتے۔
ان کے ساتھ دیکھ بھال، عملہ، مرمت، پرزہ جات، انشورنس، سیکیورٹی اور دیگر انتظامی اخراجات بھی جڑے ہوتے ہیں۔
اور یہ سب بالآخر عوامی خزانے سے ادا ہوتے ہیں۔
توشہ خانہ اور یکساں معیار کا سوال
اسی سیاسی ماحول میں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ مقدمہ بھی ملک کی بڑی قانونی و سیاسی بحث بنا۔
5 اگست 2023 کو ٹرائل کورٹ نے سرکاری تحائف سے متعلق معلومات چھپانے کے مقدمے میں انہیں تین سال قید کی سزا سنائی اور بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزا معطل کردی۔ سپریم کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بادی النظر میں بعض طریقہ کار کی خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔
یہاں موجودہ ’’ذاتی ادائیگی‘‘ کے مؤقف کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
اگر ذاتی طور پر اخراجات ادا کردینا کافی ہے تو یہ اصول ہر حکومت اور ہر عہدے دار پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
اگر سرکاری وسائل کے نجی استعمال کے لیے محض رقم واپس کردینا کافی نہیں تو یہ اصول بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کس جماعت نے کیا کیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار میں شخصیت بدلنے سے عوامی وسائل کے اصول بھی بدل جاتے ہیں؟
عوام سے کفایت شعاری، اشرافیہ کے لیے سہولت؟
دوسری طرف عام شہری اور سرکاری ملازمین سے مسلسل کفایت شعاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
سرکاری اخراجات کم کرنے، غیر ضروری سفر محدود کرنے اور مالی نظم و ضبط کی مہمات چلائی جاتی ہیں۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے بھی کفایت شعاری کے تحت 472.1 ملین روپے قومی خزانے میں واپس جمع کرانے اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کمی سے حاصل ہونے والے 21 ملین روپے وزیراعظم کے کفایت شعاری فنڈ میں جمع کرانے کی اطلاع دی۔
سوال یہ ہے کہ جب ریاست عام آدمی اور سرکاری ملازم سے ایک ایک روپیہ بچانے کا تقاضا کرتی ہے تو اربوں روپے کے وی آئی پی اثاثوں اور لاکھوں روپے کے سفری اخراجات کے لیے معیار کیا ہے؟
کفایت شعاری اگر قومی ضرورت ہے تو سب کے لیے ہے۔
اور اگر وی آئی پی سہولت قانونی استحقاق ہے تو اس کی حدود اور لاگت بھی شفاف ہونی چاہیے۔
اصل لاگت صرف ایندھن نہیں
ایک سرکاری طیارہ صرف ایندھن کا بل نہیں ہوتا۔
اس کی قیمت میں خریداری، دیکھ بھال، عملہ، انشورنس، مرمت، فرسودگی، پارکنگ، سیکیورٹی اور انتظامی اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔
اسی لیے ’’ہم نے ایندھن کے پیسے دے دیے‘‘ مکمل مالی حساب نہیں۔
اصل حساب یہ ہے:
طیارہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوا؟
قانونی اختیار کیا تھا؟
کل لاگت کیا بنی؟
ریاست نے کتنا ادا کیا؟
نجی استعمال تھا تو کتنی رقم واپس ہوئی؟
اور کیا اس ادائیگی کی آزادانہ تصدیق ہوئی؟
یہی اصل احتساب ہے۔
’’انہوں نے بھی کیا تھا‘‘ جواب نہیں۔
’’ہم نے اپنی جیب سے ادا کردیا‘‘ بھی مکمل جواب نہیں۔
اور ’’قانون اجازت دیتا ہے‘‘ کے ساتھ قانون، منظوری اور مالی ریکارڈ بھی سامنے آنا چاہیے۔
بنی گالا سے لندن تک — سوال وہی
پاکستان نے ہیلی کاپٹر دیکھے۔
سرکاری طیارے دیکھے۔
وی آئی پی سفر دیکھے۔
اربوں روپے کے فضائی اثاثے دیکھے۔
ذاتی ادائیگی کے دعوے سنے۔
اور ہر حکومت کو اپنے لیے ایک نیا جواز پیش کرتے دیکھا۔
حکومتیں بدلیں۔
جماعتیں بدلیں۔
نعرے بدل گئے۔
مگر ٹیکس دہندہ نہیں بدلا۔
وہی کلرک۔
وہی استاد۔
وہی دکاندار۔
وہی پولیس اہلکار۔
وہی متوسط طبقہ جو بجلی، پٹرول، خوراک اور روزمرہ اشیا پر براہ راست یا بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔
ان میں سے کسی کو ریاستی مراعات کا بل واپس نہیں ملتا۔
ٹیکس دہندہ کسی جماعت کا نہیں
پاکستان کے وی آئی پی کلچر کا اصل سوال مریم نواز یا عمران خان نہیں۔
اصل سوال ریاستی وسائل کا یکساں معیار ہے۔
اگر ایک حکمران کے لیے ذاتی ادائیگی کافی ہے تو دوسرے کے لیے بھی ہونی چاہیے۔
اگر ایک کے لیے سرکاری وسائل کا نجی استعمال قابلِ اعتراض ہے تو دوسرے کے لیے بھی ہونا چاہیے۔
قانون کی طاقت اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ عہدے، جماعت اور شخصیت سے بالاتر ہو۔
طیارہ بدلتا ہے۔
حکمران بدلتے ہیں۔
جواز بدلتے ہیں۔
مگر بل وہی رہتا ہے۔
ٹیکس دہندہ کے نام۔
آخری سوال
پاکستان کو اب یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ کون اڑا۔
پاکستان کو پوچھنا چاہیے:
طیارہ کس اختیار کے تحت اڑا؟
خرچ کس مد میں ہوا؟
کتنا خرچ ہوا؟
کس نے ادا کیا؟
کیا واپس ادا کیا گیا؟
اور کیا مکمل ریکارڈ عوامی جانچ کے لیے دستیاب ہے؟
کیونکہ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون فضاؤں میں سفر کرتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب مراعات کی پرواز ختم ہوتی ہے تو اس کی قیمت زمین پر کھڑا عام پاکستانی کیوں ادا کرتا ہے؟
فکری کیپشن
ٹیکس دہندہ کا نہ کوئی جہاز ہے، نہ کوئی ہیلی کاپٹر، نہ کوئی وی آئی پی پروٹوکول۔
اس کے پاس صرف ایک بل ہے۔
حکمران بدلتے ہیں، طیارے بدلتے ہیں، جواز بدلتے ہیں — مگر عوامی خزانے کا بل وہی رہتا ہے۔
اور یہی پاکستان کے وی آئی پی کلچر کا سب سے بڑا سوال ہے:
عوامی وسائل کی ہر پرواز آخر ٹیکس دہندہ کے کھاتے میں ہی کیوں اترتی ہے؟