سرکاری اعداد و شمار خود سوال بن گئے

پاکستان کس سمت جا رہا ہے؟

جب سرکاری اعداد و شمار خود سوال بن جائیں

تحریر: رانا تصدق حسین

اسلام آباد: کسی بھی ریاست کے لیے سب سے تشویش ناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب سرکاری اعداد و شمار ایک تصویر پیش کریں، مگر عام آدمی کی روزمرہ زندگی دوسری۔ سوال پھر صرف معیشت کا نہیں رہتا بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ اعداد و شمار کیا کہہ رہے ہیں، عوام کیا بھگت رہے ہیں اور پالیسی سازی کس سمت جا رہی ہے؟

پاکستان میں یہ سوال اب محض سیاسی یا جذباتی بحث نہیں رہا۔ خود پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے جاری کردہ اعداد و شمار کئی بنیادی سوالات اٹھاتے ہیں۔

فی کس آمدنی: کاغذ پر کیا، زندگی میں کیا؟

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کا حجم 452.1 ارب ڈالر، مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو 3.70 فیصد جبکہ فی کس آمدنی 1,901 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

لیکن یہاں ایک بنیادی وضاحت ضروری ہے:

1,901 ڈالر فی کس آمدنی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اوسط پاکستانی کی جیب میں 1,901 ڈالر موجود ہیں۔

یہ قومی معیشت کے مجموعی حجم کو آبادی کے تناسب سے ظاہر کرنے والا معاشی اشاریہ ہے۔ عام شہری کی حقیقی معاشی حالت جانچنے کے لیے اجرت، گھریلو آمدنی، اخراجات، مہنگائی اور قوتِ خرید کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں PBS کا Household Integrated Economic Survey (HIES) 2024-25 زیادہ زمینی تصویر پیش کرتا ہے۔ PBS کے مطابق اس عرصے میں پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدنی 82,179 روپے جبکہ اوسط ماہانہ گھریلو کھپت 79,150 روپے تھی۔

یہ اعداد محض اعداد نہیں۔ یہ سوال ہیں کہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان عام گھرانے کے پاس بچت، صحت، تعلیم، رہائش اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے کتنی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔

روزگار: کام ہے یا صرف اعداد؟

PBS Labour Force Survey 2024-25 کے مطابق پاکستان میں اوسط ماہانہ اجرت 39,042 روپے، بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد اور لیبر فورس پارٹیسپیشن ریٹ 46.3 فیصد ہے۔

یہاں بھی سوال صرف روزگار کی تعداد کا نہیں بلکہ روزگار کے معیار، اجرت کی حقیقی قدر، مہنگائی کے مقابلے میں آمدنی کی رفتار اور نوجوانوں کے لیے پیداواری مواقع کا ہے۔

ریاست ہر شہری کو سرکاری ملازمت دینے کی پابند نہیں، مگر ریاست پر یہ ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ روزگار کے مواقع، بھرتیوں اور معاشی مواقع میں شفافیت، مساوی مواقع، میرٹ اور قابلِ اعتماد طریقہ کار یقینی بنائے۔

مہنگائی: شرح کم ہونے کا مطلب قیمتیں کم ہونا نہیں

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے قیمتوں سے متعلق اعداد و شمار اس امر کی اہمیت واضح کرتے ہیں کہ مہنگائی کو صرف ایک شرح سے نہیں بلکہ گھرانے کی حقیقی لاگتِ زندگی کے تناظر میں دیکھا جائے۔

اگر قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر پہنچ چکی ہوں تو مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ اشیا سستی ہوگئی ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوسکتا ہے کہ قیمتیں پہلے کی نسبت کم رفتار سے بڑھ رہی ہیں۔

عام آدمی کے لیے اصل سوال یہی ہے:

اس کی آمدنی قیمتوں کے مقابلے میں کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے؟

ڈیزل: ایک قیمت، پورا معاشی پہیہ

ڈیزل کی قیمت کا معاملہ اس لیے زیادہ حساس ہے کہ اس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ ٹرانسپورٹ، زراعت، مال برداری، تعمیرات، صنعتی سرگرمی اور بالآخر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں تک اس کے اثرات پہنچتے ہیں۔

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا سرکاری ریکارڈ Oil & Gas Regulatory Authority (OGRA) کی notifications اور price publications میں موجود ہے۔

لہٰذا ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی اضافے پر سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا یا نہیں۔ سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ عالمی قیمت، شرحِ مبادلہ، پٹرولیم لیوی، ٹیکسز، درآمدی لاگت اور دیگر داخلی عوامل نے حتمی صارف قیمت میں کتنا حصہ ڈالا؟

اور اگر عالمی بحران عالمی تھا تو مختلف ملکوں میں اس کا عوام پر پڑنے والا بوجھ اتنا مختلف کیوں رہا؟

یہ سوال کسی حکومت کے خلاف نعرہ نہیں بلکہ قیمت سازی کے فارمولے، مالی بوجھ اور عوامی اثرات کی شفاف وضاحت کا تقاضا ہے۔

ریلیف یا وقتی مرہم؟

اور پھر، جب قیمتوں کے اضافے کے اثرات خود حکومتی پالیسی سازی کے سامنے موجود ہوں، تو عوام کے لیے اعلان کردہ نام نہاد یا بظاہر ریلیف بھی ایک الگ سوال بن جاتا ہے۔

حکومت کی جانب سے پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت کم آمدنی والے طبقات کو ہدف بنا کر ریلیف دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق موٹر سائیکل اور تھری ویلر استعمال کرنے والوں کے لیے 500 روپے فی ہفتہ جبکہ 800cc تک کی گاڑیوں کے لیے دس دن کے لیے 1,000 روپے تک ریلیف مقرر کیا گیا ہے؛ اسکیم غیر تجارتی صارفین اور ایک گاڑی فی صارف تک محدود ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ایسے ریلیف کا حقیقی مالی فائدہ، دائرہ کار اور مدت کیا ہے۔

اگر ایک طرف ایندھن کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو، دوسری طرف اسی اضافے کے اثرات ٹرانسپورٹ، خوراک، زراعت اور روزمرہ اشیا تک منتقل ہوں، تو چند سو یا چند ہزار روپے کا محدود ریلیف کیا مجموعی اضافی بوجھ کا متبادل بن سکتا ہے؟

ریلیف کی تشہیر اور ریلیف کی حقیقی قوتِ خرید—یہ دونوں ایک چیز نہیں۔

اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ عام گھرانے کے مجموعی ماہانہ اخراجات میں اس اعلان سے کتنا حقیقی فرق پڑا۔

کیا یہ مستقل سہارا ہے یا چند دن کا مرہم؟
کیا یہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ازالہ ہے یا صرف اضافی بوجھ کو وقتی طور پر نرم کرنے کی کوشش؟
کیا اس کا دائرہ ان تمام شعبوں تک پہنچتا ہے جو ڈیزل کی قیمت سے بالواسطہ متاثر ہوتے ہیں—خصوصاً کسان، مال بردار، پبلک ٹرانسپورٹ اور بالآخر عام صارف؟

جب زمینی حقائق پہلے سے معلوم ہوں تو ریلیف کی مقدار، مدت اور ہدف بھی انہی حقائق کے مطابق ہونا چاہیے۔

گھر، زمین اور سبزہ: ترقی کس کے لیے؟

معاشی دباؤ صرف بازار تک محدود نہیں رہتا۔ اس کا اگلا محاذ رہائش ہے۔

زمین کی بڑھتی قیمت، تعمیراتی لاگت، کرایوں میں اضافہ اور شہری پھیلاؤ نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھر کا حصول ایک مسلسل مشکل بنا دیا ہے۔

اس کے ساتھ ایک اور بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے:

کیا شہری ترقی کا مطلب ہر باقی ماندہ سبز قطعے کو کنکریٹ میں تبدیل کرنا ہے؟

شہر صرف عمارتوں سے نہیں بنتے۔ درخت، کھلے مقامات، پارکس، کھیل کے میدان اور سبز علاقے بھی شہری زندگی کا بنیادی حصہ ہیں۔

اگر رہائشی اور تجارتی دباؤ کے نام پر ہر دستیاب کھلی جگہ تعمیرات کی نذر ہوتی چلی جائے تو سوال صرف زمین کے استعمال کا نہیں رہتا؛ یہ آئندہ نسلوں کے معیارِ زندگی کا سوال بن جاتا ہے۔

PBS: اعداد کا دفتر یا ریاست کا آئینہ؟

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس محض اعداد جمع کرنے والا ادارہ نہیں۔ اس کے National Accounts، Labour Force Survey، HIES اور Price Statistics ایسے بنیادی اشاریے فراہم کرتے ہیں جن سے ریاست کی معاشی اور سماجی سمت کو سمجھا جاسکتا ہے۔

لیکن اعداد و شمار کی اصل افادیت اس وقت سامنے آتی ہے جب انہیں پالیسی سازی سے جوڑا جائے۔

اگر فی کس آمدنی بڑھ رہی ہے تو عام گھرانے کی حقیقی قوتِ خرید کیا کہتی ہے؟

اگر معیشت بڑھ رہی ہے تو روزگار کے معیار میں کیا بہتری آئی؟

اگر مہنگائی کی شرح میں تبدیلی آتی ہے تو قیمتوں کی مجموعی سطح کہاں کھڑی ہے؟

اگر آمدنی بڑھ رہی ہے تو رہائش، تعلیم، صحت اور خوراک کے اخراجات کے بعد گھرانے کے پاس کیا بچتا ہے؟

اور سب سے بڑھ کر:

اگر قومی معیشت کا حجم بڑھ رہا ہے تو اس ترقی کا قابلِ محسوس حصہ عام شہری کی زندگی تک کس رفتار سے پہنچ رہا ہے؟

اصل سوال

پاکستان کو محض مزید اعداد و شمار نہیں، بلکہ ان اعداد و شمار کی روشنی میں درست فیصلے درکار ہیں۔

ایسا روزگار جو باعزت زندگی کا راستہ بنے،
ایسی آمدنی جو مہنگائی کا مقابلہ کرسکے،
ایسی رہائش جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہ ہو،
ایسی شہری منصوبہ بندی جو ترقی کے ساتھ سبزہ اور کھلی جگہیں بھی محفوظ رکھے،
اور پٹرولیم قیمتوں کا ایسا نظام جس میں عوام کو ہر بڑے اضافے کی وجہ، بنیاد اور مالی بوجھ واضح طور پر معلوم ہو۔

سوال یہ نہیں کہ معیشت کا حجم کتنا بڑھا۔
سوال یہ ہے کہ اس اضافے سے عام آدمی کی زندگی کتنی بدلی۔

سوال یہ نہیں کہ فی کس آمدنی کتنی بڑھی۔
سوال یہ ہے کہ گھرانے کی حقیقی قوتِ خرید کہاں کھڑی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ روزگار کے اعداد کیا بتاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ نوجوان کو باعزت اور پائیدار روزگار کہاں مل رہا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ شہر کتنے پھیل گئے۔
سوال یہ ہے کہ ان شہروں میں عام آدمی کے لیے گھر، سبزہ اور سانس لینے کی جگہ کتنی باقی رہ گئی۔

سوال یہ نہیں کہ ایندھن کی عالمی قیمت کیا تھی۔
سوال یہ ہے کہ اس کا بوجھ مقامی صارف تک کس فارمولے، کس شرح اور کس حد تک منتقل کیا گیا۔

سوال یہ بھی ہے کہ جب زمینی حقائق پہلے سے معلوم ہوں تو وقتی ریلیف کے اعلانات عام شہری کے حقیقی معاشی بوجھ سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار ریاست کے سامنے معاشی اور سماجی حقیقت کا آئینہ رکھ رہے ہیں تو اس آئینے میں نظر آنے والی تصویر کو پالیسی، ترجیحات اور حکمرانی میں کب اور کیسے محسوس کیا جائے گا؟

ریاست کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ قومی آمدنی کتنی بڑھی؛ اصل پیمانہ یہ بھی ہے کہ اس نمو نے عام شہری کی زندگی میں کیا آسانی پیدا کی، اس کی قوتِ خرید کو کتنا سہارا دیا، اس کے لیے روزگار کے کتنے دروازے کھولے اور اس کے گھر، شہر اور مستقبل کو کتنا محفوظ بنایا۔

اعداد و شمار موجود ہیں، ادارے موجود ہیں، آئینہ موجود ہے۔
اب سوال صرف یہ ہے کہ اس آئینے میں دکھائی دینے والی حقیقت کو دیکھا بھی جا رہا ہے یا نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں