اعلی پولیس افسر کی 30 کروڑ کی کرپشن پکڑی گئی

ایک ’’بری مچھلی‘‘ پکڑی گئی، مگر تالاب میں کتنی باقی ہیں؟

گوجرانوالہ جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ اظہر جاوید چیمہ گرفتار، 45 ملین روپے کی مبینہ رشوت سے شروع ہونے والی تحقیقات 30 کروڑ روپے تک جا پہنچیں، ڈی ایچ اے میں زیر تعمیر مکان اور مہنگی گاڑیوں کا بھی سراغ

تحریر:رانا تصدق حسین

گوجرانوالہ: پنجاب حکومت کی مبینہ بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب، گوجرانوالہ سرکل کی کارروائی میں ڈسٹرکٹ سینٹرل جیل گوجرانوالہ کے سابق سپرنٹنڈنٹ اظہر جاوید چیمہ کی گرفتاری کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات نے معاملے کو ایک مبینہ رشوت کیس سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔

ابتدائی طور پر 45 ملین روپے کی مبینہ رشوت کے الزام میں شروع ہونے والی تحقیقات کے دوران اب تقریباً 30 کروڑ روپے کے دو ذاتی بینک اکاؤنٹس میں موجود ہونے کا سراغ ملنے، لاہور کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے علاقے میں مبینہ طور پر زیر تعمیر مکان اور متعدد قیمتی گاڑیوں کی معلومات سامنے آنے کی اطلاعات نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایک جیل سپرنٹنڈنٹ نے مبینہ طور پر کیا کیا۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اتنے بڑے مالی معاملات کس نظام، کس نیٹ ورک اور کس ممکنہ سہولت کاری کے بغیر اتنے عرصے تک جاری رہ سکتے تھے؟

20 اگست کو جیل سے گرفتاری

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گوجرانوالہ سرکل نے سابق سپرنٹنڈنٹ اظہر جاوید چیمہ کو 20 اگست 2026 کو جیل کے احاطے سے گرفتار کیا۔ ان پر کرپشن اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

گوجرانوالہ اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر امجد شہزاد نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کارروائی پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر جنرل سہیل ظفر چٹھہ کو دی گئی ہدایات کی روشنی میں عمل میں لائی گئی۔

45 ملین روپے کی مبینہ رشوت کا معاملہ

مقدمہ نمبر 38/26 کے مطابق اظہر جاوید چیمہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اوورسیز پاکستانی شہری افضل چوہدری سے مبینہ طور پر 45 ملین روپے اس وعدے پر وصول کیے کہ وہ ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری دلوانے اور نیب کے ایک مقدمے میں ریلیف حاصل کرنے میں مدد کریں گے۔

الزام کے مطابق جب مبینہ وعدہ پورا نہ ہوا تو شکایت کنندہ نے اینٹی کرپشن سے رجوع کیا۔

ابتدائی انکوائری کے بعد اینٹی کرپشن نے مبینہ رشوت کا مقدمہ درج کرکے اظہر جاوید چیمہ کو گرفتار کرلیا۔

تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے نقدی اور تقریباً ساڑھے تین کروڑ روپے مالیت کی دو قیمتی گاڑیاں برآمد کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 45 ملین روپے بتائی گئی۔

سرکاری بریفنگ کے مطابق مذکورہ نقدی اور دونوں گاڑیاں مقامی میڈیا کی موجودگی میں گوجرانوالہ میں شکایت کنندہ کے حوالے کی گئیں۔

لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔

تحقیقات کا دائرہ 30 کروڑ روپے تک پھیل گیا

ابتدائی کارروائی کے بعد تحقیقات میں مبینہ طور پر ایک بڑا مالیاتی پہلو سامنے آیا۔

اینٹی کرپشن حکام کے مطابق گرفتار جیل افسر سے منسلک دو ذاتی بینک اکاؤنٹس میں تقریباً 30 کروڑ روپے موجود ہونے کا سراغ ملا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں اکاؤنٹس میں تقریباً 15، 15 کروڑ روپے موجود تھے، جبکہ اینٹی کرپشن نے بینک سے اکاؤنٹس کی مکمل تفصیلات، لین دین اور رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ مذکورہ رقوم کہاں سے آئیں، کہاں منتقل ہوئیں اور ان کے ممکنہ beneficiaries کون تھے۔

تحقیقات کے دوران لاہور کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے علاقے میں ایک مکان کی تعمیر کے بارے میں بھی معلومات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے علاوہ مزید گاڑیوں کا بھی سراغ لگایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر تین گاڑیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے جن میں مرسڈیز اور رینج روور بھی شامل ہیں، جبکہ ابتدائی مرحلے میں تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کی ایک گاڑی بھی ٹریس کیے جانے کی اطلاع ہے۔

گوجرانوالہ کے بعض ٹھیکیدار بھی تحقیقات کے دائرے میں

ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران گوجرانوالہ کے بعض ٹھیکیداروں کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جن کے ممکنہ کردار اور گرفتار افسر سے مبینہ روابط کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

تاہم ان افراد کے خلاف کسی حتمی نتیجے یا الزام کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

اینٹی کرپشن حکام کی جانب سے مالی ریکارڈ، اثاثوں اور مبینہ لین دین کی چھان بین کا عمل جاری ہے۔

عدالت میں پیش رفت

کیس میں اینٹی کرپشن نے ابتدائی طور پر پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔

بعد ازاں جسمانی ریمانڈ کی مجموعی مدت مکمل ہونے پر 3 ستمبر 2026 کو اظہر جاوید چیمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

اینٹی کرپشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں، جس کے بعد عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

7 ستمبر 2026 کو تصدیق ہوئی کہ عدالتی حکم کے مطابق اظہر جاوید چیمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

مزید کارروائی، ممکنہ گرفتاریوں اور دیگر افراد کے کردار کا تعین تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔

اصل سوال جیل کی چار دیواری سے باہر بھی ہے

یہ معاملہ صرف ایک افسر کی گرفتاری تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

جیل میں قید ایک شخص کے لیے سپرنٹنڈنٹ اور انتظامیہ ریاست کا چہرہ ہوتے ہیں۔ قیدی کے اہل خانہ کے لیے جیل کے باہر انتظار کرتے ہوئے ہر انتظامی فیصلہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

غریب قیدی، زیر حراست شخص کے اہل خانہ، بوڑھے والدین، بچوں اور ایسی خواتین کے لیے جن کے شوہر جیل میں ہوں، کسی سہولت، ملاقات، علاج، قانونی معاملے یا انتظامی فیصلے میں رکاوٹ محض ایک دفتری مسئلہ نہیں ہوتی بلکہ پورے خاندان کی زندگی کو متاثر کرسکتی ہے۔

اگر کسی جیل کے اندر بدعنوانی، مبینہ استحصال، اختیارات کے ناجائز استعمال یا مالی مطالبات کا نظام جڑ پکڑ لے تو اس کے اثرات صرف مالی نقصان تک محدود نہیں رہتے۔

اس کے اثرات خاندانوں کی زندگیوں، عزت، ذہنی سکون اور مستقبل تک پہنچتے ہیں۔

ایک بری مچھلی یا پورا تالاب؟

اظہر جاوید چیمہ کی گرفتاری اگر شفاف اور غیر جانبدارانہ احتساب کا آغاز ہے تو اسے خوش آئند قرار دیا جاسکتا ہے۔

لیکن ایک گرفتاری کو کہانی کا اختتام نہیں بننا چاہیے۔

اگر تحقیقات میں کروڑوں روپے کے مالی معاملات، قیمتی اثاثے، بینک اکاؤنٹس، گاڑیاں، جائیدادیں اور ممکنہ طور پر بعض کاروباری یا ٹھیکیدار عناصر سامنے آتے ہیں تو تفتیش کا منطقی تقاضا ہے کہ سوالات مزید آگے بڑھائے جائیں۔

کسے علم تھا؟

کس نے سہولت کاری کی؟

کس نے فائدہ اٹھایا؟

کس نے خاموشی اختیار کی؟

کس نے منظوری دی؟

کس نے دستخط کیے؟

اور کس نے آنکھیں بند رکھیں؟

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس مبینہ نظام کے نتیجے میں کتنے قیدی اور ان کے خاندان متاثر ہوئے؟

حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا اصل امتحان

پنجاب حکومت کی بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اب ایک حقیقی امتحان سے دوچار ہے۔

کسی افسر کی گرفتاری خبر ضرور بناتی ہے۔

کسی مقدمے میں جرم ثابت ہونا احتساب کو مکمل کرتا ہے۔

لیکن نظام میں ایسی اصلاحات لانا کہ دوبارہ کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہو، اصل کامیابی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گوجرانوالہ جیل کے معاملے کی تحقیقات محض ایک شخص تک محدود نہ رہیں بلکہ جہاں جہاں شواہد لے جائیں وہاں تک پہنچائی جائیں۔

رقوم کے ذرائع، بینک اکاؤنٹس، جائیدادیں، گاڑیاں، ٹھیکیدار، مبینہ سہولت کار اور ممکنہ beneficiaries سب کا ریکارڈ سامنے آنا چاہیے۔

اسی طرح جیلوں میں قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کی شکایات کے ازالے کے موجودہ نظام کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ کوئی شخص محض اس لیے انصاف سے محروم نہ رہے کہ وہ جیل کی چار دیواری کے اندر ہے یا اس کے پاس بااثر لوگوں تک رسائی نہیں۔

ہر قیدی کی شکایت کو درست نہیں سمجھا جاسکتا۔

لیکن ہر قابل اعتبار شکایت کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں۔

اصل کہانی شاید ابھی باقی ہے

اظہر جاوید چیمہ کے خلاف کیس کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی اور جب تک جرم ثابت نہیں ہوتا، قانون کے تحت ملزم بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

تاہم تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے مبینہ 30 کروڑ روپے کے مالیاتی سراغ، ڈی ایچ اے میں زیر تعمیر مکان اور قیمتی گاڑیوں نے اس کیس کو محض ایک فرد کے خلاف کرپشن کیس سے بڑھا کر جیل انتظامیہ کے مجموعی نظام پر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔

اب پنجاب حکومت اور اینٹی کرپشن حکام کے سامنے اصل امتحان یہ ہے کہ آیا معاملہ صرف ایک گرفتاری اور چند برآمدگیوں تک محدود رہے گا یا رقم کے آخری سرے تک پہنچ کر پورے مبینہ نیٹ ورک اور سہولت کاری کے نظام کو بے نقاب کیا جائے گا۔

قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کو یہ حق حاصل ہے کہ ریاست انہیں تحفظ، انصاف اور عزت فراہم کرے۔

اگر کسی جیل کے اندر واقعی ایسا نظام موجود رہا ہے جس نے کمزور قیدیوں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو مبینہ طور پر مشکلات، اذیت اور بے بسی سے دوچار کیا، تو اس کا احتساب بھی ضروری ہے۔

ایک بڑی مچھلی پکڑی گئی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ تالاب میں کتنی اور باقی ہیں؟

اور ان دیواروں کے پیچھے بکھرنے والی زندگیوں کا حساب کون دے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں