عوام کا خون نچوڑنے کا انعام ؟

*بھاری ٹیکسوں، بڑھتی مہنگائی اور عوامی مشکلات کے باوجود وزیرِ خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کے لیے قومی اعزازات—کیا یہ کارکردگی واقعی تمغے کی مستحق ہے؟*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد —* پاکستان میں عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، بھاری بجلی و گیس کے بلوں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، روزمرہ اشیائے ضروریہ پر ٹیکسوں اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ سے شدید پریشان ہے۔ ایسے میں وزیرِ خزانہ و محصولات اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے اعلیٰ قومی سول اعزازات کی خبر نے ایک نہایت اہم اور بنیادی سوال کو جنم دے دیا ہے۔

*کیا عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانا ہی قومی معاشی کارکردگی کا معیار ہے؟*

حکومت کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں اضافے کو معاشی کامیابی قرار دیا جاتا ہے، مگر عوام کا سوال یہ ہے کہ ریونیو میں اضافے کا اصل بوجھ کس طبقے نے اٹھایا؟ کیا ٹیکس چوری کرنے والے بڑے مگرمچھ واقعی ٹیکس نیٹ میں آئے، یا ہمیشہ کی طرح دستاویزی اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والا تنخواہ دار، تاجر اور چھوٹا کاروباری طبقہ ہی مزید بوجھ تلے دب گیا؟

اگر ایک طرف حکومت قومی خزانے کے لیے زیادہ سے زیادہ محصولات اکٹھے کرنے کو کامیابی قرار دے رہی ہے تو دوسری طرف عام شہری کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ اس اضافی ٹیکس آمدن کے نتیجے میں اس کی زندگی کتنی آسان ہوئی، قوتِ خرید کتنی بحال ہوئی، روزگار کے مواقع کتنے بڑھے اور بنیادی ضروریات کتنی سستی ہوئیں؟

یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے عوام کی جیب پر مزید بوجھ ڈالنا انتظامی کامیابی ہے یا ایک مؤثر اور منصفانہ ٹیکس نظام قائم کرنا اصل کامیابی ہونی چاہیے؟

*قومی اعزاز کا معیار کیا ہے؟*

قومی سول اعزاز کسی بھی سرکاری عہدے دار کے لیے محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ریاست کی جانب سے غیر معمولی قومی خدمت، شاندار کارکردگی اور عوامی مفاد میں نمایاں خدمات کا اعتراف سمجھا جاتا ہے۔

اس لیے اگر وزیرِ خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کی کارکردگی کو قومی اعزاز کے قابل سمجھا گیا ہے تو قوم یہ جاننے کا حق بھی رکھتی ہے کہ اس کارکردگی کا پیمانہ کیا ہے؟

کیا پیمانہ صرف یہ ہے کہ ایف بی آر نے پہلے سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا؟

*یا پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ:*

• ٹیکس نیٹ میں کتنے نئے افراد شامل ہوئے؟
• بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کے خلاف کتنی مؤثر کارروائی ہوئی؟
• غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانے میں کیا پیش رفت ہوئی؟
• عام شہری اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا حقیقی بوجھ کتنا بڑھا؟
• کاروباری طبقے کے لیے حالات کتنے آسان ہوئے؟
• مہنگائی کے مقابلے میں عوام کی حقیقی آمدن اور قوتِ خرید میں کیا بہتری آئی؟
• اور سب سے بڑھ کر، عوام کو ٹیکس کے بدلے ریاستی خدمات میں کیا حقیقی ریلیف ملا؟

*عوام کا سوال سیدھا ہے*

اگر قومی خزانے کی آمدن میں اضافہ قومی کامیابی ہے تو عوام پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کا حساب بھی اسی معیار سے ہونا چاہیے۔

اگر ٹیکس وصولیوں میں اضافہ قابلِ تحسین ہے تو ٹیکس انصاف، ٹیکس چوری کے خاتمے، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور عوامی ریلیف بھی کارکردگی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

اور اگر ایک ایسے وقت میں جب عام پاکستانی مہنگائی، بھاری بلوں اور مسلسل معاشی دباؤ سے نبردآزما ہے، اعلیٰ حکام کو قومی اعزازات دیے جا رہے ہیں، تو ریاست کو عوام کے سامنے یہ واضح کرنا ہوگا کہ آخر وہ کون سی غیر معمولی قومی خدمت ہے جس نے اس اعزاز کو جائز اور مستحق بنایا؟

یہ سوال کسی شخصیت کے خلاف نہیں—کارکردگی کے معیار کے بارے میں ہے

وزیرِ خزانہ ہوں یا چیئرمین ایف بی آر، کسی بھی سرکاری عہدے دار کی کارکردگی کا جائزہ لینا عوام کا حق ہے۔ قومی اعزازات بھی اسی وقت حقیقی معنوں میں باوقار رہتے ہیں جب ان کے پیچھے واضح، قابلِ پیمائش اور عوامی مفاد سے جڑی ہوئی کارکردگی موجود ہو۔

*قوم صرف یہ نہیں پوچھ رہی کہ خزانے میں کتنا پیسہ آیا؛ قوم یہ بھی پوچھ رہی ہے کہ وہ پیسہ کس سے لیا گیا، کس قیمت پر لیا گیا اور اس کے بدلے عام پاکستانی کو کیا ملا؟*

اگر عوام کی جیب خالی، کاروبار پریشان، تنخواہ محدود اور مہنگائی برقرار ہو تو صرف ٹیکس وصولی کے اعدادوشمار کو قومی اعزاز کی واحد بنیاد کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟

*اب وقت آ گیا ہے کہ قومی اعزازات کا معیار بھی عوام کے سامنے رکھا جائے—کیونکہ اعزاز کسی عہدے کا نہیں، غیر معمولی قومی خدمت کا اعتراف ہونا چاہیے۔*

اپنا تبصرہ بھیجیں