این ایچ اے کی انکوائری تادیبی مرحلے میں داخل
*این ایچ اے کی انکوائری تادیبی مرحلے میں داخل:*
*12 افسران کے خلاف ڈرافٹ چارج شیٹس تیار، لیاری ایکسپریس وے، ٹول ریونیو، ٹھیکیداروں اور ڈیپوٹیشن نیٹ ورک کی چھان بین*
*وزیراعظم آفس کی ہدایت پر شروع ہونے والی انکوائری میں مبینہ نقصانات کی ریکوری، 15 سالہ فرانزک آڈٹ، لیاری کے کاموں کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن، چار ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کرنے اور تمام ریکوزیشن شدہ افسران کی واپسی کی سفارش*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے امور میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی سے متعلق اعلیٰ سطحی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری اب باقاعدہ تادیبی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سرکاری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق چیئرمین/چیف ایگزیکٹو آفیسر، سابق ممبر فنانس، سینئر ممبران، جنرل منیجرز اور فیلڈ افسران سمیت 12 حاضر سروس، سابق اور ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کے خلاف ڈرافٹ چارج شیٹس اور اسٹیٹمنٹس آف الیگیشن تیار کیے گئے ہیں۔
یہ پیش رفت وزیراعظم آفس کی جانب سے 7 نومبر 2025 کو این ایچ اے کے امور میں مبینہ بے ضابطگیوں، بالخصوص لیاری ایکسپریس وے کی بحالی کے کنٹریکٹ کے اجراء اور ٹول و ریونیو کلیکشن کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔
کمیٹی کی رپورٹ بعد ازاں 14 جولائی 2026 کو وزارتِ مواصلات کو موصول ہوئی، جس کے بعد این ایچ اے نے اس کی سفارشات پر دو ہفتوں کے اندر ’’حرف بہ حرف اور حقیقی روح کے مطابق‘‘ عملدرآمد کی ہدایت کی۔
انکوائری اب اصل لیاری ایکسپریس وے تنازع سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔
اس کی سفارشات میں لیاری ایکسپریس وے کے کاموں کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن، قومی خزانے کو مبینہ طور پر پہنچنے والے نقصانات کا تعین اور ریکوری، ایمرجنسی پروکیورمنٹ کا جائزہ، این ایچ اے کوڈ کے منافی قرار دیے گئے ریونیو ایس او پی کی واپسی، ٹول پلازوں اور ویٹ اسٹیشنوں کی 15 سالہ آمدن کا فرانزک آڈٹ، چار ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کرنے کی کارروائی اور این ایچ اے میں ریکوزیشن پر تعینات تمام افسران کی فوری واپسی شامل ہے۔
تاہم یہ امتیاز برقرار رکھنا ضروری ہے کہ الزام اور ثابت شدہ جرم ایک چیز نہیں ہیں۔ ڈرافٹ چارج شیٹ یا اسٹیٹمنٹ آف الیگیشن کی تیاری بذاتِ خود کسی افسر کے جرم کو ثابت نہیں کرتی۔ متعلقہ افسران کو قانونی تقاضوں کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے اور مناسب کارروائی میں صفائی کا مکمل حق حاصل ہے۔
12 افسران کے خلاف ڈرافٹ چارج شیٹس
17 جولائی 2026 کے کنفیڈینشل سیکشن کے مراسلے کے مطابق محمد شہریار سلطان، سابق چیئرمین/چیف ایگزیکٹو آفیسر این ایچ اے، جنہیں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسر کے طور پر شناخت کیا گیا ہے؛ سید مظہر حسین شاہ، سابق ممبر فنانس اور ڈیپوٹیشن پر تعینات افسر؛ محمد اعظم، ممبر فنانس؛ رمیش الیاس راجہ، اس وقت کے ممبر ساؤتھ زون کراچی؛ افتخار احمد ساجد، اس وقت کے ممبر سینٹرل زون لاہور؛ امجد کبیر، اس وقت کے جنرل منیجر مینٹیننس پنجاب نارتھ لاہور؛ علی رضا، سابق جنرل منیجر مینٹیننس پنجاب ساؤتھ ملتان؛ عبیداللہ عمرانی، جنرل منیجر سندھ ساؤتھ کراچی؛ تیمور حسن، اس وقت کے جنرل منیجر ریونیو این ایچ اے ہیڈکوارٹرز؛ حافظ محمد وقاص، ڈائریکٹر ریونیو-آپریشنز این ایچ اے ہیڈکوارٹرز، جنہیں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسر بھی قرار دیا گیا ہے؛ عبدالقادر شیخ، اس وقت کے ڈائریکٹر مینٹیننس سندھ ساؤتھ کراچی؛ اور عرفان احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر مینٹیننس کراچی کے خلاف ڈرافٹ چارج شیٹس/اسٹیٹمنٹس آف الیگیشن تیار کیے گئے ہیں۔
یہ فہرست این ایچ اے کی اعلیٰ انتظامیہ، فنانس، ریونیو، انجینئرنگ، مینٹیننس اور فیلڈ فارمیشنز تک پھیلی ہوئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکوائری میں ایسے فیصلوں اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا جو اتھارٹی کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے منسلک تھے۔
مراسلے میں علی رضا کے بارے میں الگ سے درج ہے کہ وہ 28 ستمبر 2025 کو عمرِ ملازمت پوری ہونے پر این ایچ اے سے ریٹائر ہو گئے تھے، لہٰذا اس مرحلے پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں کی جا سکتی تھی۔
لیاری ایکسپریس وے: کام کے معیار اور قومی خزانے کی رقم کی جانچ
کمیٹی نے لیاری ایکسپریس وے کے مختلف پیکیجز میں کیے گئے کام کے معیار کی این ایچ اے کی ایم اینڈ ایس ٹیم کے ساتھ مل کر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن (TPV) کرانے کی سفارش کی ہے۔
اس کے علاوہ مبینہ طور پر زائد نرخوں، اضافی ادائیگیوں اور ایسی ادائیگیوں کے باعث قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کا تعین اور ریکوری کرنے کی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے جن کے بارے میں الزام ہے کہ کام مقررہ اسپیسفکیشنز کے مطابق انجام نہیں دیا گیا۔
اس سفارش پر کارروائی کی ذمہ داری ممبر انجینئرنگ کوآرڈینیشن، ممبر فنانس، ممبر ساؤتھ زون، جی ایم ایم اینڈ آئی، جی ایم پی اینڈ سی اے اور جی ایم آڈٹ کو سونپی گئی ہے۔
یوں کمیٹی کی سفارش صرف طریقہ کار کی خامیوں کی نشاندہی تک محدود نہیں بلکہ مالی اثرات کا تعین، ثابت شدہ قابلِ وصول نقصان کی ریکوری اور ذمہ داری کے تعین کا تقاضا کرتی ہے۔
*ایمرجنسی پروکیورمنٹ بھی زیرِ تفتیش*
کمیٹی نے این ایچ اے کو ہدایت کی ہے کہ ایمرجنسی کلاز کے استعمال کی وضاحت اور حدود واضح کی جائیں اور جب تک ایسا نہیں کیا جاتا، فیڈرل پی پی آر اے رولز 2004 کی کلاز 42(c)(v) پر حرف بہ حرف عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اس کی ذمہ داری تمام ممبران، ڈائریکٹر لیگل اور ڈائریکٹر ڈی آر سی، جو ممبر ایڈمنسٹریشن کو رپورٹ کرتے ہیں، کو سونپی گئی ہے۔
یہ سفارش اس لیے اہم ہے کہ ایمرجنسی پروکیورمنٹ ایک غیر معمولی طریقہ کار ہے اور جہاں قانوناً مسابقتی خریداری لازم ہو وہاں اسے مسابقتی عمل کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اصول بالکل واضح ہے: پی پی آر اے قوانین موجود ہیں، پروکیورمنٹ رولز موجود ہیں اور قانون کی حکمرانی بدستور نافذ ہے۔
جہاں قانونی طور پر مسابقت ممکن ہو وہاں اہل فرموں کو مقابلے کا موقع دیا جانا چاہیے، نہ کہ انتظامی سہولت کے نام پر مسابقت کو ختم کر دیا جائے۔
پتوکی، پھول نگر اور ماچی گوٹھ ٹول پلازے
کمیٹی کی ایک اہم ترین finding پتوکی، پھول نگر اور ماچی گوٹھ ٹول پلازوں کو حوالے کرنے سے متعلق ہے۔
کمیٹی نے قرار دیا کہ اس وقت کے چیئرمین/چیف ایگزیکٹو آفیسر این ایچ اے، ممبر فنانس اور جی ایم ریونیو کی جانب سے ان ٹول پلازوں کو سردار سرفراز، شیر زمان اور علی نور کے حوالے کرنے کی ہدایات جاری کرنا نامناسب تھا۔
کمیٹی کے مطابق متعلقہ حکام نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور ہیڈکوارٹرز سے ماتحت فارمیشنز کو ٹول پلازے ’’پسندیدہ ٹھیکیداروں‘‘ کے حوالے کرنے کے لیے زبانی ہدایات جاری کرنے کو غیر قانونی اور بلاجواز قرار دیا۔
اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری تمام ممبران، جی ایم ریونیو اور جی ایم ایم اینڈ آئی کو سونپی گئی ہے۔
اس finding سے این ایچ اے کے ریونیو پیدا کرنے والے اثاثوں پر اختیار کے استعمال، زبانی ہدایات کی قانونی حیثیت، اختیارات کی تفویض اور ٹھیکیداروں کو ٹول سہولیات تک رسائی دینے کے طریقہ کار پر براہِ راست سوالات اٹھتے ہیں۔
2022 کا ریونیو ایس او پی این ایچ اے کوڈ کے منافی قرار
کمیٹی نے جنرل منیجر ریونیو کی جانب سے یکم جولائی 2022 کو جاری کردہ SOPs، مراسلہ نمبر 18(60)DDR(R)/NHA/22/28، کو فوری طور پر واپس لینے کی سفارش کی ہے، کیونکہ کمیٹی کے مطابق یہ SOPs این ایچ اے کوڈ 2005 کی کلاز 12(b) سے متصادم ہیں۔
*کمیٹی نے سفارش کی کہ مذکورہ SOPs ’’فوراً واپس لیے جانے چاہئیں‘‘۔*
اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری مبینہ طور پر متعلقہ ممبر فنانس، جی ایم ریونیو جو ان کے براہِ راست ماتحت ہیں، جی ایم ایم اینڈ آئی، ڈائریکٹر لیگل اور ڈائریکٹر ڈی آر سی کو سونپی گئی ہے، جو مبینہ طور پر منصور اعظم، ممبر امپلیمنٹیشن اینڈ ایڈمنسٹریشن کے ماتحت کام کرتے ہیں، جس سے مفادات کے براہِ راست ٹکراؤ کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
ٹول اور ویٹ اسٹیشنز: آؤٹ سورسنگ کی تجویز بھی خوردبین کے نیچے
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ٹول پلازوں اور ویٹ اسٹیشنوں سے ریونیو کلیکشن ایک ایسے آزاد تھرڈ پارٹی ادارے کے ذریعے آؤٹ سورس کیا جائے جو ڈیجیٹلائزڈ الیکٹرانک ٹول اینڈ ٹریفک مینجمنٹ (ETTM) نظام رکھتا ہو۔
یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ جب تک ٹول پلازے کسی تھرڈ پارٹی کو منتقل نہیں کیے جاتے، اس وقت تک ڈیجیٹلائزیشن اور ETTM سمیت تکنیکی اقدامات تلاش کیے جائیں۔
ڈیجیٹلائزیشن اور ETTM دستی مداخلت کم کرکے شفافیت بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
تاہم اصل تنازع مجوزہ منتقلیِ اختیار پر ہے۔
این ایچ اے پہلے ہی کنسیشن انتظامات، گارنٹیڈ ریونیو اور کنسیشن ایئرز کی جانب سے مرحلہ وار ادائیگیوں سے متعلق مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
ایسی صورتحال میں اتھارٹی اپنے بنیادی ٹول اور ویٹ اسٹیشن ریونیو اسٹریم کے بارے میں ایک اور ایسا تجربہ برداشت نہیں کر سکتی جس سے مالی لیکیج کا خطرہ ہو یا کلیکشن پر اس کا کنٹرول کمزور پڑ جائے۔
لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے یا نہیں۔ ٹیکنالوجی ضرور متعارف ہونی چاہیے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسی ریونیو اسٹریم کا کنٹرول کسی بیرونی ادارے کو اس وقت منتقل کیا جائے جب موجودہ نظام کا جامع آڈٹ مکمل نہیں ہوا، یا پہلے خود این ایچ اے کو مضبوط کرکے نظام کی اصلاح کی جائے، نہ کہ غیر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر انحصار کیا جائے۔
*15 سالہ فرانزک آڈٹ کا حکم*
کمیٹی نے ٹول پلازوں اور ویٹ اسٹیشنوں سے گزشتہ 15 سال کی ریونیو کلیکشن کا فرانزک آڈٹ کرانے کی واضح سفارش کی ہے تاکہ قومی خزانے کو ہونے والے کسی نقصان کا تعین کیا جا سکے۔
اس کی ذمہ داری جی ایم آڈٹ، جو ڈیپوٹیشن پر تعینات افسر ہیں، اور جی ایم ایم اینڈ آئی کو سونپی گئی ہے۔
ایسا آڈٹ مختلف ادوار کے معاہدوں، کلیکشن انتظامات، ٹول پلازوں، ویٹ اسٹیشنوں، جمع شدہ رقوم، ریکنسلی ایشنز، ریونیو ریکارڈ اور کنٹرول میکانزم کا احاطہ کر سکتا ہے۔
اس سے ایک واضح ترتیب کا سوال پیدا ہوتا ہے: اگر 15 سالہ فرانزک آڈٹ ضروری سمجھا گیا ہے تاکہ تاریخی نقصانات کی نوعیت اور حجم کا تعین ہو سکے تو اسی ریونیو اسٹریم کا کنٹرول آڈٹ مکمل ہونے سے پہلے منتقل کرنے کی منطق کی واضح اور دستاویزی وضاحت ضروری ہے۔
منطقی ترتیب یہی ہونی چاہیے کہ پہلے نظام کا آڈٹ ہو، ریونیو پوزیشن واضح کی جائے، ثابت شدہ نقصانات کی نشاندہی اور ریکوری کی جائے، ذمہ داری طے ہو اور اس کے بعد شواہد کی بنیاد پر اصلاحات نافذ کی جائیں۔
این ایچ اے کا ریونیو ایک اور مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا
این ایچ اے ایک ریونیو پیدا کرنے والا ادارہ ہے اور ایسے انتظامات کا متحمل نہیں ہو سکتا جو اس کی ٹول اور ویٹ اسٹیشن آمدن کو قابلِ اجتناب لیکیج سے دوچار کریں یا کلیکشن پر اس کا کنٹرول کمزور کریں۔
لہٰذا اتھارٹی کو اپنی ٹول پلازہ اور ویٹ اسٹیشن انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا چاہیے، محفوظ ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا چاہیے، ریئل ٹائم ریکنسلی ایشن یقینی بنانی چاہیے اور کلیکشن کی آزادانہ تصدیق کا نظام قائم کرنا چاہیے۔
آؤٹ سورسنگ محض ایک نظام کی کمزوریوں کو دوسرے انتظام کے ذریعے منتقل کرنے کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے۔
اگر بالآخر کوئی آزاد تھرڈ پارٹی مقرر کی جاتی ہے تو ڈیٹا، کلیکشن سسٹم، معاہدوں، ریکنسلی ایشن، آڈٹ ٹریلز اور شارٹ فال کی ذمہ داری پر این ایچ اے کی ملکیت اور کنٹرول پہلے سے واضح اور محفوظ ہونا چاہیے۔
*مقابلہ، اجارہ داری نہیں*
تمام ٹول پلازوں کے آپریشنز کو ایک ہی فرم کے ہاتھ میں مرکوز کرنے کی مجوزہ تجویز بھی گہری جانچ کی متقاضی ہے۔
اگر اہل فرمیں اس کام کے لیے دستیاب ہیں تو محض انتظامی سہولت یا سستی مقبولیت کی خاطر مسابقت ختم کرنے کی کوئی مضبوط ادارہ جاتی وجہ نہیں۔
مسابقتی بولی کے ذریعے این ایچ اے کے ریونیو پیدا کرنے والے اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کا تعین ہونا چاہیے تاکہ اتھارٹی زیادہ سے زیادہ قانونی ریٹرن حاصل کر سکے۔
کسی ایک فرم کو تمام ٹول پلازے مؤثر طور پر دینے کا کوئی بھی انتظام مسابقت ختم کرنے، ممکنہ آمدن دبانے اور اقربا پروری کے قابلِ اجتناب سوالات پیدا کرنے کا خطرہ رکھتا ہے۔
لہٰذا پروکیورمنٹ کا عمل کھلا، مسابقتی اور شفاف رہنا چاہیے۔
اہل فرموں کو مقابلہ کرنے دیا جائے، بہترین قانونی پیشکش کو کامیاب ہونے دیا جائے اور ہر جمع ہونے والی رقم کو آزادانہ آڈٹ کے قابل رکھا جائے۔
*چار ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش*
*کمیٹی نے سردار سرفراز، شیر زمان، علی نور اور عمران ڈار کے خلاف بلیک لسٹنگ کی کارروائی شروع کرنے اور قابلِ اطلاق قانون و قانونی تقاضوں کے تابع مستقبل میں انہیں کوئی کنٹریکٹ نہ دینے کی سفارش کی ہے۔*
اس کی ذمہ داری ممبر انجینئرنگ کوآرڈینیشن، ممبر فنانس، ممبر پلاننگ، ڈائریکٹر لیگل اور ڈائریکٹر ڈی آر سی کو سونپی گئی ہے۔
یہ مجوزہ کارروائی نہ صرف ٹھیکیداروں بلکہ اس پورے طریقہ کار کو بھی زیرِ سوال لاتی ہے جس کے ذریعے ان کا انتخاب اور انہیں کام الاٹ کیے گئے۔
مبینہ ٹھیکیدار روابط کی آزادانہ تصدیق ضروری
این ایچ اے اور وزارتِ مواصلات کے حلقوں میں یہ الزامات گردش کر رہے ہیں کہ مذکورہ چاروں ٹھیکیدار براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس وقت قائم مقام سیکریٹری مواصلات کے طور پر خدمات انجام دینے والے افسر سے باہم منسلک یا interconnected ہیں۔
تاہم ان الزامات کو ثبوت کے بغیر ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا جا سکتا؛ ان کی دستاویزی تصدیق ضروری ہے۔
اگر ایسے روابط ثابت ہو جائیں تو مفادات کے ٹکراؤ، انتخابی طریقہ کار، پری کوالیفکیشن، ایویلیوایشن، کنٹریکٹ ایوارڈ اور بعد ازاں انتظامی برتاؤ کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوں گے۔
تحقیق کاروں کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ تعین کریں کہ ٹھیکیداروں کی سفارش کس نے کی، ان کا جائزہ کس نے لیا، منظوری کس نے دی، ٹول پلازوں تک رسائی کس نے فراہم کی اور بعد ازاں ان کے معاہدوں سے متعلق فیصلے کس نے کیے۔
لہٰذا سوال صرف یہ نہیں کہ کنٹریکٹس کس کو ملے، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا انتخاب کا عمل حقیقی معنوں میں مسابقتی اور میرٹ پر مبنی تھا یا نہیں۔
*ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران:* کمیٹی کی فوری واپسی کی ہدایت
*شاید سب سے زیادہ اہم ادارہ جاتی سفارش کمیٹی کی یہ ہدایت ہے کہ:*
*’’این ایچ اے میں ریکوزیشن پر تعینات تمام افسران کو فی الفور واپس بھیجا جائے۔‘‘*
کمیٹی نے مزید سفارش کی ہے کہ آئندہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن مناسب افسران کا تقرر میرٹ پر کرے اور معمول کے مطابق ریکوزیشن کے ذریعے تعیناتی نہ کی جائے۔
اس ذمہ داری کی عملدرآمدی ذمہ داری ڈائریکٹر پرسنل کو سونپی گئی ہے جو خود بھی ڈیپوٹیشن پر تعینات افسر ہیں۔
یہ سفارش اس لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ ڈرافٹ چارج شیٹس/اسٹیٹمنٹس آف الیگیشن میں شامل 12 افسران میں سے تین، محمد شہریار سلطان، سید مظہر حسین شاہ اور حافظ محمد وقاص، ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کے طور پر شناخت کیے گئے ہیں۔
*ڈاکٹر افتخار محبوب کا معاملہ:* قواعد کی روشنی میں جانچ ضروری
ایک اور معاملہ جس کی متعلقہ قانون نافذ کرنے والے، اینٹی کرپشن اداروں اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو قواعد کے مطابق جانچ کرنی چاہیے، ڈاکٹر افتخار محبوب کا ہے، جو پی اے اے ایس کے BS-18 افسر ہیں۔
دستیاب الزامات، جن کی سرکاری ریکارڈ سے تصدیق ضروری ہے، کے مطابق ان کی ڈیپوٹیشن کی مدت ختم ہو چکی تھی اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے بعد انہیں ان کے پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ واپس بھیجے جانے کے بجائے مبینہ طور پر انہی اتھارٹیز کی جانب سے ایک عارضی توسیع کے ذریعے جاری رکھا گیا جنہیں مبینہ طور پر ایسا اختیار حاصل نہیں تھا، اور بعد ازاں انہیں GM PPP کے عہدے پر ترقی/تعیناتی دی گئی۔
مزید الزام ہے کہ 2024 کے اوائل سے، یعنی ان کی ڈیپوٹیشن کی مدت ختم ہونے کے تقریباً دو سال بعد، وہ این ایچ اے سے تنخواہ وصول کرتے رہے اور طبی سہولیات، سرکاری ٹرانسپورٹ، ڈرائیور اور POL/ایندھن سمیت دیگر مراعات حاصل کرتے رہے۔
مرکزی سوال جس کا دستاویزی جواب درکار ہے:
ESTA CODE یا NHA SERVICE RULES کی کون سی شق نے اس عارضی توسیع کی اجازت دی
متعلقہ اداروں کو اصل ڈیپوٹیشن آرڈر، مدتِ اختتام، توسیع کی درخواست، عارضی توسیع، پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ کی رضامندی، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا ریکارڈ، مجاز اتھارٹی کی منظوری، GM PPP پر تعیناتی، تنخواہ کا ریکارڈ اور گاڑی، ڈرائیور، POL اور طبی سہولیات سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لینا چاہیے۔
اگر یہ انتظام قانونی تھا تو اس کی اجازت دینے والے Rule کی نشاندہی ہونی چاہیے۔
اگر نہیں تھا تو ہر اس شخص کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے جس نے اس انتظام کی سفارش، منظوری، عملدرآمد، معاونت یا تحفظ کیا۔
*مظہر حسین شاہ اور منصور اعظم: کون سا Rule؟*
سید مظہر حسین شاہ، BS-19، سابق ممبر فنانس، اور منصور اعظم، BS-20، ممبر امپلیمنٹیشن، کے مبینہ کردار، جہاں ان کے فیصلے یا سفارشات متعلقہ ریکارڈ کا حصہ ہوں، بھی متنازع ڈیپوٹیشن، توسیع یا انتظامی انتظامات کے حوالے سے قواعد کی روشنی میں جانچ کے متقاضی ہیں۔
*سوال پیچیدہ نہیں:*
*کون سا Rule اس کی اجازت دیتا تھا؟*
اگر کسی Rule نے اس انتظام کی اجازت دی تو وہ Rule پیش کیا جائے۔
اگر مجاز اتھارٹی نے منظوری دی تو منظوری پیش کی جائے۔
اگر کسی اعلیٰ عدالت کے فیصلے نے معاملے کو طے کیا تھا تو اس پر عملدرآمد ثابت کیا جائے۔
اگر کسی غیر متعلقہ یا ماورائے اختیار حکم نے Rules یا کسی پابند عدالتی ہدایت کو override کرنے کی کوشش کی تو اس کی قانونی بنیاد واضح کی جائے۔
انتظامی اثر و رسوخ قانونی طور پر Rules کا متبادل نہیں بن سکتا اور نہ ہی کوئی ماورائے اختیار حکم کسی پابند عدالتی ہدایت پر فوقیت حاصل کر سکتا ہے۔
*عظیم طاہر کی ریٹائرمنٹ کے بعد تقرری*
سابق ممبر PPP عظیم طاہر کا مبینہ معاملہ بھی اسی اصول کے تحت جانچ کا متقاضی ہے۔
این ایچ اے میں ممبر PPP کے عہدے سے سپر اینویشن حاصل کرنے کے بعد مبینہ طور پر انہوں نے کنٹریکٹ پر، کنسلٹنٹ اسٹرینتھ میں ممبر PPP کے طور پر دوبارہ تقرری حاصل کی۔
ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر تقرری بذاتِ خود غیر قانونی ہونے کا ثبوت نہیں۔
متعلقہ سوالات یہ ہیں کہ آیا یہ عہدہ منظور شدہ تھا، مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا، امیدوار اہل تھا، تقرری کس نے منظور کی اور آیا پورا عمل شفاف تھا۔
*ایک بار پھر سوال سادہ ہے:*
کیا یہ تقرری قابلِ اطلاق Rules کے تحت ہوئی یا کسی فرد کے لیے استثنا پیدا کیا گیا؟
*ملازمین کے لیے Rules، طاقتوروں کے لیے استثنا؟*
ان معاملات نے این ایچ اے میں Rules اور Regulations کے یکساں اطلاق کے حوالے سے ایک وسیع تر ادارہ جاتی تشویش بھی پیدا کر دی ہے۔
ایک طرف طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے ملازمین کو مبینہ طور پر Rules کے سخت اطلاق کا سامنا ہے اور بعض ایسے ملازمین، جو ملازمت سے الگ یا برطرف ہو چکے ہیں، مبینہ طور پر برسوں کی سروس کے باوجود پنشن، طبی اور دیگر مراعات سے محروم ہیں۔
دوسری طرف متنازع ڈیپوٹیشن ایکسٹینشنز، ریٹائرمنٹ کے بعد تقرریوں، متعدد چارجز اور مسلسل ادارہ جاتی مراعات کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
*لہٰذا معاملے کا جائزہ ایک ہی اصول پر ہونا چاہیے:*
Rules کا اطلاق عہدے، حیثیت یا ادارہ جاتی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر یکساں ہونا چاہیے۔
*سابقہ تحقیقات کو دبانے یا تاخیر کا ذمہ دار کون؟*
موجودہ احتسابی عمل میں ایسے ہر فرد کا کردار بھی جانچا جانا چاہیے جس نے مظہر حسین شاہ یا کسی مبینہ ساتھی سے متعلق سابقہ انکوائری کو ممکنہ طور پر متاثر، مؤخر، دبانے، کمزور کرنے یا منطقی انجام تک پہنچنے سے روکنے میں کردار ادا کیا ہو۔
مکمل ریکارڈ سے یہ واضح ہونا چاہیے کہ انکوائری کس نے شروع کی، تحقیقات کی ذمہ داری کس کو سونپی گئی، کون سا ریکارڈ طلب کیا گیا، کیا ریکارڈ پیش کیا گیا یا روکا گیا، کیا نتائج اخذ کیے گئے، فائل کس نے آگے بڑھائی اور حتمی نتیجے کی منظوری کس نے دی۔
اگر کسی انکوائری کو اس کے منطقی انجام تک پہنچنے سے روکا گیا تھا تو ایسی مداخلت کے ذمہ دار شخص، اگر الزام ثابت ہو، کو بھی احتسابی سلسلے کا حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ اسے اس عمل سے باہر رکھا جائے۔
*منصور اعظم اور Look-after انتظام*
منصور اعظم کا ممبر امپلیمنٹیشن کے طور پر جاری رہنا اور مبینہ طور پر ممبر ایڈمنسٹریشن کا Look-after/Additional Charge بھی سنبھالنا بھی جانچ کا متقاضی ہے، کیونکہ اس کا باقاعدہ این ایچ اے افسران کے ترقیاتی حقوق پر ممکنہ اثر پڑ سکتا ہے۔
عارضی Look-after انتظام کسی ایسے سینئر عہدے پر غیر معینہ مدت تک قبضے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے جہاں اہل اور مستحق ریگولر افسران موجود ہوں۔
لہٰذا اس انتظام کی مدت، مجاز اتھارٹی، قانونی بنیاد اور سب سے سینئر اہل ریگولر افسر پر اس کے اثرات کو ریکارڈ پر لایا جانا چاہیے۔
*حرا رضوان اور پرسنل کی ذمہ داری*
ریکوزیشن پر تعینات افسران کی واپسی سے متعلق کمیٹی کی سفارش پر عملدرآمد کی ذمہ داری مبینہ طور پر ڈائریکٹر پرسنل حرا رضوان، جو خود بھی ڈیپوٹیشن پر تعینات PAS افسر ہیں، کو سونپی گئی ہے۔
ان کے بارے میں یہ سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں کہ آیا وہ بیک وقت دو سینئر عہدوں یا اسائنمنٹس، یعنی GM Administration اور Director Personnel، پر تعینات/فرائض انجام دے رہی ہیں۔
اگر سرکاری ریکارڈ سے یہ امر ثابت ہو تو مجاز اتھارٹی کو اس انتظام کی قانونی بنیاد، مدت، منظوریوں اور اس کے نتائج کی وضاحت کرنا ہوگی، بالخصوص اس وقت جب پرسنل ونگ ریگولر این ایچ اے ملازمین کے ترقیاتی حقوق پر کارروائی کا ذمہ دار ہو۔
این ایچ اے کا اپنا اہل کیڈر انتظار میں نہیں رہ سکتا
ریکوزیشن پر تعینات افسران کی فوری واپسی سے متعلق کمیٹی کی سفارش نے این ایچ اے کے اپنے پروفیشنل کیڈر کو بھی مرکزِ توجہ بنا دیا ہے۔
اگر اہل اور تجربہ کار این ایچ اے افسران دستیاب ہیں تو مقررہ Rules کے مطابق انہیں سینئر عہدوں کے لیے زیرِ غور لایا جانا چاہیے۔
جہاں حقیقی طور پر اضافی افرادی قوت درکار ہو وہاں پاکستان کے اہل نوجوانوں کے لیے بھی مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں، جن میں سے بہت سے متعلقہ قابلیت اور تجربے کے باوجود روزگار کی تلاش میں ہیں۔
این ایچ اے، جو ایک ریونیو پیدا کرنے والا ادارہ ہے اور ترمیم شدہ SOE فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے، کو بیرونی افرادی قوت پر طویل انحصار کے بجائے میرٹ، پیشہ ورانہ صلاحیت، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی احتساب کے ذریعے مضبوط کیا جانا چاہیے۔
مطلوبہ عہدے ختم نہ کیے جائیں، میرٹ پر پُر کیے جائیں
ادارہ جاتی اصلاحات کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صرف اس لیے جائز اور مطلوبہ عہدے ختم کر دیے جائیں کہ ان پر ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کام کر رہے ہیں۔
جہاں کوئی عہدہ حقیقی طور پر ضروری ہے، اسے مقررہ طریقہ کار کے تحت، جہاں دستیاب ہو، اہل این ایچ اے افسر کے ذریعے پُر کیا جانا چاہیے۔
جہاں اضافی صلاحیت یا مہارت درکار ہو، وہاں اہل پاکستانی