اقتدار کے ایوانوں میں تنخواہوں کا ایٹم بم ۔اسلام اباد ٹوڈے رپورٹ

*ایوانوں میں تنخواہوں کا ایٹم بم – غریب کے لیے 37 ہزار، اسپیکر و چیئرمین سینیٹ کے لیے 19 لاکھ 50 ہزار، MNA کی تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار، چیف جسٹس صدر سے بھی مہنگا!*

*پارلیمنٹ لاجز، منسٹر انکلیو، وزیراعظم ہاؤس اور چاروں صوبائی ہاؤسز 688 ارب کی زمین پر قابض – 34 کروڑ صرف رنگ و روغن پر، بل ٹیکس دہندہ کی جیب سے*

*خصوصی تحقیقی رپورٹ:*

*تحریر: رانا تصدق حسین*

*اسلام آباد -* قرضوں میں ڈوبا ملک، آئی ایم ایف کی غلامی، 25 کروڑ عوام خط غربت سے نیچے، اور دوسری طرف اسلام آباد کے ایوانوں میں نوٹوں کی برسات۔

یہ جمہوریت ہے یا لوٹ مار کی منڈی؟

سرکاری دستاویزات اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش ہونے والے ہوشربا اعداد و شمار نے پورے نظام کو ننگا کر دیا ہے۔

پارلیمنٹ میں ڈاکہ – سب ایک تھالی کے چٹے بٹے

9 جنوری 2025 کو قومی اسمبلی سے ایک بل خاموشی سے پاس ہوا۔

نام تھا **ممبرز آف پارلیمنٹ سیلریز اینڈ الاؤنسز ترمیمی بل 2025**۔

اس بل کے تحت ایک عام رکن اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 88 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی۔ یعنی 176 فیصد کا ہوشربا اضافہ۔

یہ مطالبہ کس نے کیا؟ تحریک انصاف کے 67 ارکان نے۔ حمایت کس نے کی؟ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے۔ مخالفت کس نے کی؟

کسی نے نہیں۔ اس معاملے پر سارے چور اکٹھے ہو گئے۔

سب سے بڑی واردات یہ کہ فنانس ایکٹ 2024 میں چالاکی سے یہ شق ڈال دی گئی کہ اب تنخواہ بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ میں بل لانے کی ضرورت نہیں، اسپیکر کی سربراہی میں فنانس کمیٹی خود ہی تنخواہ بڑھا لے گی۔ یعنی چور کو ہی چابی دے دی گئی۔

تنخواہ کے علاوہ مراعات کا طوفان:

سالانہ 30 مفت بزنس کلاس ہوائی ٹکٹ، جو بچ جائیں اگلے سال بھی کارآمد، بیوی بچے بھی استعمال کر سکتے ہیں

اجلاس سے 3 دن پہلے اور 3 دن بعد کا مفت 5 اسٹار ہوٹل اور ڈیلی الاؤنس

کمیٹی اجلاس سے 2 دن پہلے اور بعد کا الاؤنس

مفت بجلی، گیس، ٹیلیفون، میڈیکل، آفس اور لامحدود ریلوے سفر دوسرا دھماکہ: اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی لاٹری

29 مئی 2025 کو جاری ہونے والا خفیہ نوٹیفکیشن اس لوٹ مار کی انتہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی بنیادی تنخواہ 2 لاکھ 5 ہزار سے بڑھا کر 13 لاکھ روپے کر دی گئی۔

اور اس پر 6 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ سمپچوری الاؤنس الگ۔

کل ملا کر ایک اسپیکر ہر ماہ قومی خزانے سے 19 لاکھ 50 ہزار روپے وصول کرے گا۔ اطلاق جنوری 2025 سے، یعنی کروڑوں روپے بقایا جات بھی جیب میں۔

کیا دنیا کے کسی غریب ملک میں ایسا ہوتا ہے؟

عدلیہ شہنشاہ بن گئی – چیف جسٹس صدر سے بھی مہنگا
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق:

صدر مملکت کی تنخواہ: 8 لاکھ 96 ہزار

وزیراعظم پاکستان کی تنخواہ: 2 لاکھ 1 ہزار

چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ: 15 لاکھ 27 ہزار روپے

سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ: 14 لاکھ 70 ہزار روپے

یعنی انصاف دینے والا، انصاف دلانے والے صدر اور وزیراعظم دونوں سے زیادہ تنخواہ لے رہا ہے۔

وزارت قانون کے 2023 کے آرڈر میں بھی CJP کی تنخواہ 12 لاکھ 29 ہزار نوٹیفائی ہے۔

مراعات سن کر ہوش اڑ جائیں گے:

سرکاری محل نما بنگلہ، ایک بلٹ پروف مرسیڈیز، ایک 1800 سی سی کرولا، 2000 یونٹ مفت بجلی، 700 لیٹر مفت پٹرول، درجنوں ملازمین، تاحیات سیکیورٹی۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی 8 لاکھ سے زائد ماہانہ پنشن۔ یہی حال اسلام آباد ہائی کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ اور نئی فیڈرل آئینی عدالت (FCC) کا ہے۔

آڈیٹر جنرل، وفاقی محتسب اور ویمن ہراسمنٹ ٹربیونل کے سربراہان بھی 12 سے 15 لاکھ کا پیکج لے رہے ہیں۔

688 ارب کی زمین پر عیاشی کے اڈے
اصل سوال یہ ہے کہ یہ سب چل کہاں سے رہا ہے؟ آپ کی جیب سے۔

وزیراعظم ہاؤس کا سفید ہاتھی: گزشتہ 5 سال میں وزیراعظم ہاؤس پر 1 ارب 97 کروڑ خرچ ہو چکے۔

بجٹ 2025-26 میں صرف رنگ و روغن اور تزئین و آرائش کے لیے 34 کروڑ 30 لاکھ مانگے گئے ہیں۔

PM ہاؤس کے لیے 89 کروڑ 54 لاکھ، اسٹاف کے لیے 58 کروڑ 55 لاکھ الگ۔

منسٹر کالونی، پارلیمنٹ لاجز، پنجاب ہاؤس، سندھ ہاؤس، کے پی ہاؤس، بلوچستان ہاؤس، کشمیر ہاؤس: PIDE کی 2024 کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ تمام عمارتیں اسلام آباد کی 238 ایکڑ قیمتی ترین زمین پر قابض ہیں جس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 688 ارب روپے ہے۔

سندھ ہاؤس میں تو اراکین کے ذمے 50 لاکھ کے نادہندہ واجبات بھی نکلے ہیں۔

پاک سیکرٹریٹ، کوہسار بلاک، کنونشن سینٹر: ان عمارتوں کی بجلی، AC، سیکیورٹی اور پروٹوکول کا سالانہ خرچہ اربوں میں ہے، مگر آڈٹ رپورٹ کبھی عوام کو نہیں دکھائی جاتی۔

عوام کس مقدس اتھارٹی سے انصاف مانگے؟

جب قانون بنانے والا اپنی تنخواہ خود بڑھائے، انصاف دینے والا صدر سے زیادہ تنخواہ لے، اور بیوروکریسی 425 ایکڑ کے اسلام آباد کلب میں شراب و شباب کی محفلیں سجائے، تو مزدور، کسان اور ریڑھی بان کہاں جائے؟

کیا تنخواہوں کے ساتھ کارکردگی بھی 176 فیصد بڑھی؟

*کیا پارلیمنٹ نے عوام کو ریلیف دیا؟*

*کیا انصاف سستا ہوا؟ جواب صفر ہے۔*

*یہ نظام عوام کا نہیں، اشرافیہ کا ہے۔*

*اور جب تک یہ شاہ خرچیاں بند نہیں ہوں گی، ملک ترقی نہیں کرے گا۔*

اپنا تبصرہ بھیجیں