علیم خان کا موٹروے پولیس کو کرپشن سے پاک کرنے کا اعلان
*عبدالعلیم خان کا ایک ماہ میں موٹروے پولیس کو کرپشن سے پاک کرنے کا اعلان، کیا یہ نظام کی ناکامی کا اعتراف ہے؟*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد:* وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا یہ اعلان کہ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NH&MP) کو ایک ماہ کے اندر کرپشن سے پاک محکمہ بنا دیا جائے گا، بظاہر ایک مضبوط پیغام ہے۔ لیکن یہ اعلان ایک انتہائی تکلیف دہ اور بڑا سوال بھی کھڑا کر رہا ہے کہ کیا ایک ماہ کی یہ ڈیڈ لائن اس بات کا اعتراف ہے کہ برسوں کی انتظامی نگرانی کے باوجود موٹروے پولیس کے اندر کرپشن اور ادارہ جاتی کمزوریوں کو جڑ پکڑنے دیا گیا؟
وزیر موصوف کا یہ اعلان اس وقت تک بے معنی رہے گا جب تک اس کے ساتھ ان تمام مالی، قانونی، انتظامی اور جائیداد سے متعلق انتظامات کا مکمل جائزہ نہیں لیا جاتا جن کے تحت NH&MP کئی دہائیوں سے کام کر رہی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں ہے کہ آئندہ 30 دنوں میں کتنے افسران کے تبادلے ہوں گے، کتنے معطل ہوں گے یا کتنوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
اصل سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام کا احتساب اور آڈٹ کون کرے گا؟
اربوں روپے کا سوال: موٹروے پولیس کا خرچ کون اٹھا رہا ہے؟
کرپشن کے خلاف مہم کا اعلان کرتے ہوئے کیا وفاقی وزیر مواصلات یا پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کی حیثیت سے سیکرٹری مواصلات نے کبھی اس مالی بوجھ کا مکمل جواز طلب کیا ہے جو قومی خزانے اور مبینہ طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) پر ڈالا جا رہا ہے؟
کیا کسی نے آج تک یہ حساب لگایا ہے کہ NHA، موٹروے پولیس کو فراہم کی جانے والی عمارتوں، انفراسٹرکچر، یوٹیلیٹیز، مرمت اور دیگر سہولیات کی مد میں کتنا خرچ برداشت کر رہی ہے؟
کیا وزارت نے کبھی وفاقی بجٹ سے ہونے والے اخراجات اور NHA کے ذریعے بالواسطہ برداشت کیے جانے والے اخراجات کا جامع تقابلی جائزہ لیا ہے؟
اور کیا ٹیکس دہندگان کے سامنے اصل مالی حقائق رکھنے کے لیے کبھی کوئی خصوصی آڈٹ کروایا گیا ہے؟
یہ سوالات اس لیے ناگزیر ہیں کہ NHA خود ایک خودمختار، قانونی اور ریونیو پیدا کرنے والا ادارہ ہے جس کے پاس قوم کے اربوں روپے کے اثاثے ہیں۔
2002 سے NHA کے اثاثوں کا موٹروے پولیس کے زیر استعمال ہونا
یہاں موٹروے پولیس کے قیام اور قومی شاہراہوں تک اس کے دائرہ اختیار کی توسیع میں فرق کرنا ضروری ہے۔
قومی شاہراہوں پر دائرہ اختیار بڑھنے کے بعد موٹروے پولیس سنہ 2002 سے NHA کی سڑکوں پر کام کر رہی ہے اور NHA کی ملکیت کا انفراسٹرکچر استعمال کر رہی ہے۔
الزام یہ ہے کہ اس طویل عرصے کے دوران موٹروے پولیس NHA کی 100 سے زائد عمارتوں اور تنصیبات پر بغیر کسی کرائے کی ادائیگی کے قابض ہے۔
اگر یہ درست ہے تو معاملہ معمول کی انتظامی کارروائی سے کہیں بڑھ کر ہے۔
ایک وفاقی ادارہ دوسرے خودمختار قانونی ادارے کے اثاثوں پر غیر معینہ مدت تک کیسے قابض رہ سکتا ہے؟
اس کی اجازت کس نے دی اور اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟
لیز کا معاہدہ کہاں ہے؟
کرائے کا تعین کہاں ہے؟
جائیدادوں کی قیمت کا تخمینہ کہاں ہے؟
بین المحکمہ جاتی معاہدہ کہاں ہے؟
NHA کے مجاز فورم کی منظوری کہاں ہے؟
2002 سے اب تک کے واجبات کا مالی گوشوارہ کہاں ہے؟
اور سب سے بڑھ کر، اس کا آڈٹ ٹریل کہاں ہے؟
ایک سرکاری عمارت محض اس لیے مفت نہیں ہو جاتی کہ دونوں ادارے وفاقی حکومت کے ہی ہیں۔
NHA کے آئینی فورمز کا کردار
یہ معاملہ NHA کے قانونی ڈھانچے کے تناظر میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی NHA ایکٹ 1991 کے تحت قائم ہوئی جبکہ نیشنل ہائی وے کونسل اور NHA ایگزیکٹو بورڈ اس کی گورننس کے بنیادی ستون ہیں۔
اگر NHA کی جائیدادیں مستقل یا طویل مدتی بنیادوں پر موٹروے پولیس کے حوالے کی گئی ہیں تو ٹیکس دہندگان کو یہ جاننے کا حق ہے کہ کیا یہ معاملہ مجاز قانونی فورم کے سامنے رکھا گیا تھا اور کیا اس کے مالی اثرات کا باقاعدہ تعین کیا گیا تھا؟
کیا نیشنل ہائی وے کونسل سے کبھی مشاورت کی گئی؟
کیا NHA ایگزیکٹو بورڈ نے کبھی اس معاملے پر غور کیا؟
کیا کرائے کا تعین کیا گیا؟
کیا باضابطہ استثنیٰ دیا گیا؟
کیا دیکھ بھال اور یوٹیلیٹیز کی لاگت کا حساب لگایا گیا؟
اگر ایسی منظوریاں موجود ہیں تو انہیں منظر عام پر لایا جائے۔ اگر موجود نہیں تو دو دہائیوں سے جاری یہ قبضہ فوری طور پر ادارہ جاتی اور آڈٹ کی چھان بین کا متقاضی ہے۔
2024 کی ترمیم کے بعد سوال مزید سنگین
اس معاملے کو صرف ماضی کے انتظامی انتظامات کی روشنی میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
NHA ترمیمی ایکٹ 2024 نے اتھارٹی کے قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو یکسر تبدیل اور مزید مضبوط کر دیا ہے۔
لہٰذا NHA کے اثاثے کسی دوسرے ادارے کے زیر استعمال رکھنے کا کوئی بھی پرانا انتظام اس نئے قانون کی روشنی میں ازسرنو جانچا جانا ناگزیر ہے۔
2002 کا کوئی انتظامی فیصلہ، اگر موجود بھی ہے تو اسے تاقیامت قانونی اور مالی طور پر درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں وزارت مواصلات کو واضح قانونی موقف دینا ہوگا۔
کیا ایک آرڈیننس پارلیمنٹ کے قانون کو ختم کر سکتا ہے؟
یہاں ایک بنیادی قانونی سوال بھی جنم لیتا ہے۔
نیشنل ہائی وے سیفٹی آرڈیننس نے ہائی وے سیفٹی اور اس پر تعینات پولیس فورس کو قانونی بنیاد فراہم کی۔
لیکن کیا ہائی وے سیفٹی سے متعلق ایک آرڈیننس کی آڑ میں NHA ایکٹ 1991 اور اس میں 2024 میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی ترمیم کے تحت دیے گئے قانونی، مالی اور جائیداد سے متعلق حقوق کو ختم، نظرانداز یا بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟
سوال یہ نہیں کہ موٹروے پولیس کے پاس پولیسنگ کا اختیار ہے یا نہیں۔ یقیناً ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا پولیسنگ کے مینڈیٹ کا مطلب یہ بھی ہے کہ اسے دوسرے قانونی ادارے کے اثاثوں کو بغیر کسی دستاویز اور مالی ذمہ داری کے تاحیات استعمال کرنے کا غیر محدود حق حاصل ہو گیا ہے؟
اس مفروضے کا جواب محکمہ جاتی خط و کتابت سے نہیں بلکہ مجاز آئینی و قانونی فورمز سے آنا چاہیے۔
“سفید ہاتھی” کا سوال
ایک اور بنیادی نکتہ جو تاحال عوامی بحث سے اوجھل ہے۔
اگر NH&MP ایک وفاقی قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے تو اس پورے ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا کل سالانہ بوجھ کیا ہے؟
اس میں سے کتنا براہ راست وفاقی حکومت ادا کرتی ہے؟
کتنا بالواسطہ NHA برداشت کر رہی ہے؟
عمارتوں پر کتنا خرچ آ رہا ہے؟
گاڑیوں پر کتنا؟
پیٹرول اور ڈیزل پر کتنا؟
بجلی، گیس اور پانی پر کتنا؟
مرمت اور رہائش پر کتنا؟
اور ان تمام اخراجات کے مقابلے میں قومی خزانے کو کیا مالی فائدہ یا ریونیو حاصل ہو رہا ہے؟
جب تک یہ اعداد و شمار عوام کے سامنے نہیں رکھے جاتے، اسے “سفید ہاتھی” کہنا ایک سیاسی نعرہ ہی رہے گا، کوئی آڈٹ شدہ حقیقت نہیں۔
اس کا واحد حل ہے: مکمل فرانزک آڈٹ۔
NHA کونسل اور بورڈ کو بے اختیار نہیں بنایا جا سکتا
NHA کے قانونی فورمز کی افادیت بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
ادارہ جاتی حلقوں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ نیشنل ہائی وے کونسل اور ایگزیکٹو بورڈ جیسے قانونی اداروں کو وہ پالیسی سازی اور نگرانی کا کردار ادا نہیں کرنے دیا جا رہا جو قانون میں ان کے لیے متعین ہے۔
ایک قانونی بورڈ محض رسمی کارروائی نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے اراکین میں اربوں روپے کے عوامی اثاثوں کی حفاظت کے لیے پیشہ ورانہ قابلیت، آزادی، تجربہ اور جرات ہونی چاہیے۔
بحث یہ نہیں کہ بورڈ میں کوئی “سینئر سٹیزن” ہے یا نہیں۔
اصل تشویش یہ ہے کہ کیا بورڈ میں شامل افراد میں اتنی پیشہ ورانہ مہارت اور آزادی ہے کہ وہ کسی غلط تجویز کو چیلنج کر سکیں، عوامی اثاثوں کا تحفظ کر سکیں اور بامعنی اصلاحات لا سکیں۔
اگر کوئی قانونی فورم کسی بڑے مالی یا جائیداد کے فیصلے پر سوال اٹھانے کی سکت ہی نہیں رکھتا تو اس کا وجود محض ایک کاغذی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔
نگران کا احتساب کون کرے گا؟
موٹروے پولیس قانون نافذ کرنے، شاہراہوں کو محفوظ بنانے اور مسافروں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی۔ لیکن ہر قانون نافذ کرنے والے ادارے کو خود بھی موثر نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ:
نیشنل ہائی وے کونسل نے NHA اور موٹروے پولیس کے درمیان جائیداد اور مالی معاملات پر کیا کردار ادا کیا ہے؟
کیا کونسل کو کبھی جامع بریفنگ دی گئی؟
کیا کوئی پالیسی فیصلہ کیا گیا؟
کیا NHA پر پڑنے والے مالی بوجھ کا تعین کیا گیا؟
کیا معاملہ ایگزیکٹو بورڈ کو بھجوایا گیا؟
کیا کونسل نے کوئی اصلاحی اقدام کی ہدایت کی؟
اگر نہیں تو کیوں نہیں؟
یہ سوالات 2024 کے نئے قانونی ماحول میں اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
مفادات کے ٹکراؤ کا سوال
ایک اور سوال جس کا وفاقی وزیر کو عوامی مفاد میں شفاف جواب دینا چاہیے۔
کیا موجودہ سیکرٹری مواصلات کے قریبی عزیز، جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ ان کے سگے بھائی ہیں، موٹروے پولیس میں خدمات انجام دے رہے ہیں یا اس کے کمانڈ اسٹرکچر میں کسی عہدے پر فائز ہیں؟
اگر ایسا ہے تو کیا سیکرٹری مواصلات نے اس رشتے کو باضابطہ طور پر ظاہر کیا ہے اور خود کو موٹروے پولیس سے متعلق تمام معاملات سے الگ کر لیا ہے جہاں مفادات کے ٹکراؤ کا خدشہ ہو؟
اور کیا وزیر موصوف نے ذاتی طور پر اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ اس تعلق کا احتساب میں تاخیر، انتظامی فیصلوں، مالی معاملات یا تادیبی کارروائیوں پر کوئی اثر تو نہیں پڑا؟
کسی کو محض خاندانی تعلق کی بنیاد پر قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، لیکن جب احتساب کے سنگین سوالات اٹھ رہے ہوں تو مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
عوام کو دوٹوک جواب چاہیے۔
کیا سیکرٹری مواصلات کے بھائی موٹروے پولیس میں تعینات ہیں؟
اگر ہاں تو کیا اس رشتے کو باضابطہ ظاہر کیا گیا ہے؟
کیا جہاں ضروری تھا وہاں سے خود کو الگ کیا گیا؟
اور کیا وزیر اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ موٹروے پولیس سے متعلق کوئی بھی معاملہ اس رشتے کی وجہ سے التواء یا نرمی کا شکار نہیں ہوا؟
اگر ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو وزارت کو بلا جھجھک تمام حقائق اور ریکارڈ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔ مفادات کے ٹکراؤ کے الزام کا بہترین جواب شفافیت ہی ہے۔
ایسے وقت میں جب وفاقی وزیر خود ایک ماہ میں کرپشن کے خاتمے کا اعلان کر چکے ہیں، اقرباء پروری کے معمولی سے تاثر کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اصول واضح ہونا چاہیے: احتساب سب کے لیے، بلا تفریق اور بلا رعایت۔
کرپشن صرف تبادلوں سے ختم نہیں ہوتی
وزیر کا ایک ماہ کا چیلنج خوش آئند ہے، بشرطیکہ وہ حقیقی اصلاحات کا باعث بنے۔
لیکن کرپشن کسی ایک فرد سے نہیں پنپتی۔
یہ نظام سے پنپتی ہے۔ یہ تب پنپتی ہے جب فائلیں دب جائیں، جب احتساب جانبدار ہو جائے، جب عوامی اثاثے بغیر کاغذات کے رہیں، جب مالی واجبات کا حساب نہ ہو، جب آڈٹ میں تاخیر ہو، جب قانونی ادارے بے اختیار ہو جائیں اور جب ذمہ داری اس حد تک تقسیم ہو جائے کہ آخر میں کوئی بھی ذمہ دار نہ رہے۔
اس لیے محض تبادلے اور انکوائریاں موٹروے پولیس کو کرپشن سے پاک نہیں کر سکتیں۔ ایک مکمل فرانزک ادارہ جاتی آڈٹ ہی اسے کرپشن سے پاک کر سکتا ہے۔
اسمگلنگ اور گاڑی چوری کے سنگین الزامات
موٹروے پولیس سے وابستہ عناصر پر شاہراہوں پر اسمگلنگ، گاڑی چوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا سہولت کاری کے الزامات بھی گردش کر رہے ہیں۔
ان الزامات کو بغیر ٹھوس ثبوت کے حتمی سچ نہیں مانا جا سکتا، لیکن یہ اتنے سنگین ضرور ہیں کہ ان کی آزادانہ تحقیقات ناگزیر ہے۔
متعلقہ حکام کو ایف آئی آرز، کسٹم کی ضبطگیوں، چوری شدہ گاڑیوں کی برآمدگی، انٹیلی جنس رپورٹس، محکمانہ انکوائریوں اور پراسیکیوشن ریکارڈ کا جائزہ لے کر یہ تعین کرنا چاہیے کہ آیا ملی بھگت کا کوئی منظم نیٹ ورک موجود ہے یا نہیں۔
اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو تحقیقات سے سچ سامنے آ جائے گا۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ذمہ داروں کو عہدے سے قطع نظر قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
30 دن کا کڑا امتحان
عبدالعلیم خان ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دے چکے ہیں۔ اب عوام کو صرف اعلانات نہیں، ٹھوس اور قابل پیمائش نتائج چاہئیں۔
30 دن کے بعد ٹیکس دہندگان کو بتایا جائے کہ:
کتنی کرپشن شکایات کی جانچ ہوئی؟
کتنی انکوائریاں شروع اور کتنی مکمل ہوئیں؟
کتنے اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوئی؟
کتنی سرکاری رقم واپس وصول کی گئی؟
NHA کی کتنی جائیدادیں موٹروے پولیس کے قبضے میں ہیں؟
ان کی مارکیٹ ویلیو اور ماہانہ کرایہ کیا بنتا ہے؟
2002 سے اب تک کتنا کرایہ ادا کیا گیا؟
کل جمع شدہ واجبات کتنے بنتے ہیں؟
NHA نے موٹروے پولیس پر کتنا خرچ کیا؟
AGPR کے ذریعے کتنی ادائیگی ہوئی؟
ہر خرچ کا قانونی اور مالی جواز کیا ہے؟
کیا آڈیٹر جنرل سے خصوصی آڈٹ کی درخواست کی گئی؟
کیا نیشنل ہائی وے کونسل اور ایگزیکٹو بورڈ نے اس کا جائزہ لیا؟
کیا 2024 کے ترمیمی ایکٹ کے بعد تمام انتظامات کا قانونی جائزہ لیا گیا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب پریس کانفرنس سے نہیں، دستاویزات سے دینا ہوگا۔
اصل مسئلہ ایک ماہ کا نہیں، دو دہائیوں کا ہے
اگر موٹروے پولیس 2002 سے NHA کے اثاثے استعمال کر رہی ہے تو یہ معاملہ دو دہائیوں سے زائد پر محیط ہے۔ اتنے طویل عرصے میں ہر فائل، ہر جائیداد، ہر ذمہ داری اور ہر منظوری کا ریکارڈ موجود ہونا چاہیے۔ اب کوئی ابہام باقی نہیں رہنا چاہیے۔
اگر انتظام قانونی ہے تو دستاویزات دکھائی جائیں۔
اگر کرایہ ادا ہوا ہے تو رسیدیں دکھائی جائیں۔
اگر استثنیٰ ملا ہے تو مجاز منظوری دکھائی جائے۔
اگر NHA نے رضاکارانہ طور پر جگہ دی تو اس کا حکم نامہ دکھایا جائے۔
اگر انتظام عارضی تھا تو بتایا جائے کہ یہ 22 سال کیسے چل گیا۔
اور اگر کوئی قانونی جواز موجود نہیں تو قوم کو بتایا جائے کہ یہ سب کیسے چلتا رہا۔
اصل اعتراف شاید نظام کا ہے
عبدالعلیم خان کا یہ اعلان وزارت مواصلات کا سب سے اہم اعلان ثابت ہو سکتا ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب یہ ان گہرے سوالوں کے دروازے کھولے۔
ملک کو صرف کرپشن سے پاک موٹروے پولیس نہیں، بلکہ ایک شفاف، جوابدہ اور آڈٹ شدہ موٹروے پولیس چاہیے۔ اور اسی طرح ایک ایسی NHA چاہیے جس کے اثاثوں اور آمدن کا قانون کے تحت مکمل تحفظ ہو۔
امتحان یہ نہیں کہ 30 دن میں کتنے افسران بدلے گئے۔
امتحان یہ ہے کہ کیا ہر روپے کا حساب ہوا، ہر سرکاری اثاثے کا ریکارڈ بنا، ہر معاہدے کا قانونی جواز پیش کیا گیا، ہر آئینی فورم کو فعال کیا گیا اور ہر الزام کی بلا خوف و خطر تفتیش ہوئی۔
ٹیکس دہندگان کو جاننے کا حق ہے۔ NHA کو اپنے اثاثوں کے تحفظ کا حق ہے۔ پارلیمنٹ کے قانون کو انتظامی سہولت پر فوقیت حاصل ہے۔
اور عوام کو یہ سب سے تلخ سوال پوچھنے کا حق ہے:
اگر موٹروے پولیس کو صرف ایک ماہ میں “کرپشن فری” بنایا جا سکتا ہے تو یہ کام آج سے 20 سال پہلے کیوں نہ کیا گیا؟
شاید اس کا جواب کسی فرد کے عمل میں نہیں بلکہ اس نظام میں ہے جس نے ان سوالوں کو دو دہائیوں تک لاینحل رہنے دیا۔