مجھے کرپشن کے سمندر میں پھینکا گیا چیئرمین نیب
*ہاتھ باندھ کر کرپشن کے سمندر میں پھینک دیا گیا – میرے ہاتھ کھولو! چیئرمین نیب کا سینٹ میں دھماکہ خیز اعتراف*
*50 کروڑ سے 80 کروڑ تک لوٹ مار کی قانونی چھوٹ – وہ کون جادوگر ہے جس نے نیب، ایف آئی اے کو مفلوج کر دیا؟*
*تحریر: رانا تصدق حسین*
*اسلام آباد :* یہ احتساب کی ناکامی نہیں، احتساب کا قتل ہے، اور قتل بھی ایوان کے اندر، قانون کی آڑ میں۔
قومی احتساب بیورو کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں وہ بات کہہ دی جو 24 کروڑ عوام برسوں سے محسوس کر رہے تھے۔ چیئرمین نیب کا چیخ چیخ کر کہنا تھا:
*”مجھے کرپشن کے سمندر میں ہاتھ باندھ کر پھینک دیا گیا ہے، کم از کم میرے ہاتھ تو کھولو!”*
یہ کسی عام افسر کا شکوہ نہیں، یہ ریاست کے سب سے بڑے احتسابی ادارے کے سربراہ کی جانب سے حکومت اور پارلیمنٹ پر سیدھی فردِ جرم ہے۔
*چیئرمین نے 20 کروڑ کہا، پارلیمنٹ نے 80 کروڑ کر دیا*
حیران کن انکشاف یہ ہے کہ چیئرمین نیب نے خود وفاقی حکومت کو باضابطہ خط لکھا تھا کہ خدارا نیب کی حد 50 کروڑ سے کم کر کے 20 کروڑ روپے کر دی جائے تاکہ درمیانے درجے کے مگرمچھوں کو تو پکڑا جا سکے۔
حکومت نے جواب میں حد کم کرنے کے بجائے اسے بڑھا کر تاریخ کی سب سے بڑی قانونی ڈھال بنا دی۔
*احتساب کے قتل کی دو قسطیں*
تحقیقات بتاتی ہیں کہ یہ حادثہ نہیں، واردات ہے۔ احتساب کو دو مرحلوں میں دفن کیا گیا۔
پہلا وار – 2022 کا قانونی این آر او: اپریل 2022 میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس 1999 کا حلیہ بگاڑ دیا۔ پہلی بار قانون میں 50 کروڑ کی حد ڈال دی گئی، کہا گیا اس سے نیچے کے کیس نیب نہیں دیکھے گا، ایف آئی اے اور صوبائی اینٹی کرپشن دیکھیں گے۔ کرپشن کی تعریف ہی بدل دی گئی کہ جب تک جیب میں پیسہ ثابت نہ ہو، کرپشن نہیں۔
نتیجہ؟ ملک بھر کی احتساب عدالتوں نے ایک ہی جھٹکے میں 469 اربوں روپے کے کیسز نیب کے منہ پر مار دیے۔ نیب خود ایف آئی اے، پولیس اور بینکنگ کورٹس کو خط لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ یہ کیسز واپس لے جاؤ۔
آخری وار – فروری 2026 کا خفیہ آپریشن: یہ واردات اس سے بھی بڑی تھی۔ ایکٹ نمبر XIV 2026 کے نام پر سینیٹر محمد عبدالقادر کا پرائیویٹ ممبر بل ایک ہی دن میں، شور شرابے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بلڈوز کرا دیا گیا۔
اس بل میں بظاہر چیئرمین نیب کی مدت میں تین سال کی توسیع تھی، جس سے 4 مارچ کو ریٹائر ہونے والے جنرل نذیر بٹ کو مزید تین سال مل گئے، لیکن اسی بل کی آڑ میں سیکشن 5 شق O میں ایک زہریلا جملہ ڈال دیا گیا:
“50 کروڑ روپے کی حد یکم جولائی 2022 سے پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مہنگائی انڈیکس کے حساب سے ہر سال خودکار بڑھے گی۔”
یعنی مہنگائی کا بم اب کرپٹ کو بچائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے اب تک کی مجموعی مہنگائی کے بعد یہ حد 50 کروڑ سے بڑھ کر تقریبا 80 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔
مطلب صاف ہے – 80 کروڑ تک لوٹو، نیب تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔
اس لوٹ سیل پر جب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سے موقف لینے کی کوشش کی گئی تو وہ جواب دیے بغیر خاموش ہو گئے۔
چیئرمین نیب نے خود اعتراف کیا ہے کہ اب انہیں دوبارہ پارلیمنٹ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر حد کم کرنے کی بھیک مانگنی پڑے گی۔ نیب کے اندر اس وقت یہ بھونڈا قانونی جگاڑ سوچا جا رہا ہے کہ جس طرح ملزم کی لوٹ مار پر مہنگائی لگانی ہے، اسی طرح متاثرہ کے نقصان پر بھی مہنگائی لگا دی جائے، ورنہ تمام ہائی پروفائل کیسز بند ہو جائیں گے۔
*”جو کرپشن کے خلاف سب سے اونچا چیختا ہے، سب سے بڑی برآمدگی اسی کے گھر سے ہوتی ہے”*
اجلاس میں چیئرمین نیب نے ایک اور بم پھوڑا، جو سیدھا ایوانوں کی طرف تھا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ شور مچانے والوں کے گھروں سے ہی سب سے زیادہ مال نکلتا ہے۔
*وہ جادوگر کون ہے؟*
یہی وہ سوال ہے جو آج ہر ٹیکس دہندہ پوچھ رہا ہے۔ وہ کون جادوگر ہے جس نے ایک ہی چھڑی سے نیب کو مفلوج، ایف آئی اے کو اپاہج اور صوبائی اینٹی کرپشن کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کا غلام بنا دیا؟
حکومت نے آئی ایم ایف کو لکھ کر دیا کہ 50 کروڑ سے نیچے کے کیسز ایف آئی اے دیکھے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایف آئی اے کو جان بوجھ کر دانتوں اور ناخنوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس کے پاس نہ وائٹ کالر کرائم کا فرانزک ہے، نہ سیاسی آزادی۔ صوبائی اینٹی کرپشن تو اسی وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہے جسے اس نے پکڑنا ہے۔
پیغام دو ٹوک ہے: 80 کروڑ تک بے خوف ہو کر لوٹو، نیب سے تم محفوظ ہو۔ اس سے نیچے لوٹو گے تو ایف آئی اے کو تم تک آنے ہی نہیں دیا جائے گا۔
چیئرمین نیب کی یہ فریاد کوئی انتظامی شکایت نہیں، یہ احتساب کے قتل کا اعتراف جرم ہے۔ قوم جاننا چاہتی ہے:
*یہ بل کون لایا؟ اس کے حق میں ہاتھ کس نے کھڑے کیے؟ اور اس قانونی این آر او کا حقدار کون ہے؟*