کیا پارلیمنٹ ہو رہی ہے ؟


این ایچ اے مبینہ غیر قانونی محاصرے، وسیع پیمانے پر بدعنوانی، انتظامی مفلوجی اور اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2024 کی منظم خلاف ورزیوں کی زد میں

تحریر: رانا تصدق حسین

اسلام آباد: اندرونی ذرائع کے مطابق حالیہ عرصے میں ادارہ جاتی تباہی کی سب سے سنگین مثال قرار دی جانے والی صورتحال میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، جو پاکستان کی قومی شاہراہوں، موٹرویز اور سی پیک نیٹ ورک کی آپریشن، مینجمنٹ اور مینٹیننس کی ذمہ دار ایک اہم ریاستی ملکیتی ادارہ ہے، مبینہ طور پر ایک غیر قانونی اور نہایت تشویشناک انتظامی محاصرے کا شکار ہے۔

وزارتِ مواصلات کے باخبر ذرائع انکشاف کرتے ہیں کہ این ایچ اے کو عملاً وفاقی وزیر مواصلات اور سیکریٹری مواصلات (جو بیک وقت سیکریٹری پوسٹل سروسز ڈویژن کا اضافی چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں) کے زیر اثر چلایا جا رہا ہے۔

اختیارات کا یہ ارتکاز نہ صرف گورننس اصولوں بلکہ اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ 2024 کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے، جس سے سنگین قانونی اور آئینی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق دونوں شخصیات کے خلاف احتسابی اداروں میں ماضی میں ریفرنسز دائر ہو چکے ہیں، جو بظاہر بیرونی دباؤ اور پراسرار خاموشی کے باعث غیر فعال پڑے ہیں۔

احتساب کے بجائے، اب یہی عناصر مبینہ طور پر بے مثال خودسری کے ساتھ کام کرتے ہوئے بدعنوانی کو نئی بلندیوں تک لے جا رہے ہیں۔

سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، خصوصاً پارک ویو سوسائٹی لاہور اور پارک ویو سوسائٹی اسلام آباد سے منسلک منصوبوں میں، جہاں اربوں بلکہ کھربوں روپے کے عوامی فنڈز کے غلط استعمال کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت سرکاری عہدوں کے ذاتی مفادات کے لیے استعمال پر انتہائی سنگین خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
اسی طرح نیشنل ہائی وے کونسل کی تشکیل اور کارکردگی بھی شدید سوالات کی زد میں ہے۔

اس کے چیئرمین کی تقرری، جو کہ پنجاب کے ریٹائرڈ آڈیٹر جنرل ہیں اور انجینئرنگ پس منظر نہیں رکھتے، جبکہ ایک نجی بینکر (درمیانی سطح) اور پنجاب ہائی وے کے ایک جونیئر ترین ریٹائرڈ ڈپٹی ڈائریکٹر کی شمولیت پر پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) نے بارہا اعتراضات اٹھائے ہیں اور اس اہم ادارے میں تکنیکی مہارت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تاہم، ان اعتراضات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

این ایچ اے کے اندر انسانی وسائل کا ڈھانچہ بھی شدید انتشار کا شکار بتایا جا رہا ہے۔

ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر مبینہ ہیرا پھیری کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن میں سینئر افسران پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے مالی فوائد کے عوض غیر تکنیکی اور کلریکل عملے کو مستحق پیشہ ور افراد پر ترجیح دے کر ترقی دی۔

اس عمل نے ادارہ جاتی میرٹ، مورال اور کارکردگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان سنگین الزامات کے باوجود قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) سمیت اہم ادارے غیر معمولی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ملک کا ایک نہایت اہم انفراسٹرکچر ادارہ متاثر ہو رہا ہے تو کوئی بامعنی تحقیقات کیوں شروع نہیں کی جا رہیں۔

عملی طور پر بھی صورتحال نہایت تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔

ذرائع کے مطابق این ایچ اے کو اپنے ہی فنڈز آپریشن، مینجمنٹ اور مینٹیننس کے لیے استعمال کرنے سے مؤثر طور پر روک دیا گیا ہے۔

نتیجتاً قومی شاہراہوں کا نظام تیزی سے زوال کا شکار ہو رہا ہے، جو عوامی تحفظ اور معاشی روابط دونوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔

اندرونی ذرائع مزید بتاتے ہیں کہ بعض اہم افسران، اگر قانونی جانچ پڑتال کا سامنا کریں، تو مبینہ بے ضابطگیوں کی تفصیلات سامنے لا سکتے ہیں۔

تاہم، فیصلہ کن کارروائی کے فقدان میں یہ ممکنہ انکشافات دبے ہوئے ہیں۔

مزید برآں ایک اہم مالیاتی انکوائری، جو ایک سابق ممبر فنانس سے متعلق ہے اور جس کے خاندانی روابط ایک موجودہ وفاقی وزیر سے جوڑے جا رہے ہیں، موجودہ طاقت کے توازن کے باعث آگے بڑھتی نظر نہیں آتی۔

سرکاری بیانیے کے برعکس، جس میں این ایچ اے کو خسارے میں دکھایا جاتا ہے، اندرونی ذرائع کا مؤقف ہے کہ یہ ادارہ مالی طور پر مستحکم ہے۔

ان کے مطابق خسارے کا تاثر دانستہ طور پر بدانتظامی اور اعداد و شمار میں رد و بدل کے ذریعے پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ بیرونی کنٹرول کو جواز فراہم کیا جا سکے اور بے ضابطگیوں کو چھپایا جا سکے۔

مرکزی سوال یہی ہے کہ آیا پارلیمنٹ ان سنگین الزامات کا نوٹس لے کر قانون کی عملداری کو یقینی بنائے گی یا مسلسل خاموشی ایک اہم قومی ادارے کے مزید زوال کا سبب بنے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں