ناقص مٹیریل پر سوال ڈی سی کی انوکھی منطق

6 ارب کے سیوریج منصوبے پر سوال اٹھانا جرم بن گیا؟ ڈی سی آفس کی پریس کانفرنس نے نئے سوالات کھڑے کر دیے”
ننکانہ صاحب (شاہین اقبال غیور ایڈووکیٹ) دو روز قبل ڈی سی آفس میں 6 ارب روپے مالیت سے شروع کیے گئے سیوریج پائپ لائنوں کے میگا ڈویلپمنٹ منصوبے کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس اس وقت تنازع کا شکار بن گئی جب ایک صحافی کی جانب سے منصوبے میں مبینہ ناقص تعمیراتی کام کی نشاندہی پر ضلعی انتظامیہ کے ردعمل نے صحافتی حلقوں اور شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ٹھیکیدار کے مبینہ غلط اور ناقص کام کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، تاہم الزام کی غیر جانبدارانہ جانچ کے بجائے ڈپٹی کمشنر ننکانہ محمد تسلیم اختر راؤ نے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمہارا الزام غلط ثابت ہوا تو چیکنگ پر آنے والے تمام اخراجات تمہیں اپنی جیب سے ادا کرنا ہوں گے، جبکہ اگر الزام درست نکلا تو ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ضلعی انتظامیہ کے اس مؤقف پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی سرکاری منصوبے میں بے ضابطگی یا ناقص کام کی نشاندہی کی جائے تو اس کی شفاف تحقیقات انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کہ سوال اٹھانے والے کو اخراجات کی وارننگ دے کر خاموش کروایا جائے۔ عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ضلعی انتظامیہ شہریوں کے مفاد کی محافظ ہے یا پھر ٹھیکیدار کے ناقص کام کے دفاع میں کھڑی نظر آ رہی ہے؟
مزید برآں صحافیوں نے اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اربوں روپے کے اس میگا پروجیکٹ پر میڈیا بریفنگ منصوبے کے آغاز سے قبل ہونی چاہیے تھی تاکہ عوام اور صحافی منصوبے کی مدت، معیار، شفافیت اور نگرانی کے طریقہ کار سے بروقت آگاہ ہو سکتے، مگر ایک ماہ گزرنے کے بعد پریس کانفرنس کا انعقاد کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
صحافیوں کا کہنا تھا کہ سیوریج پائپ لائن جیسے اہم منصوبے کی مدت صرف 25 سال رکھنے کے بجائے کم از کم 50 سال مقرر کی جانی چاہیے تھی تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس منصوبے سے مستفید ہو سکیں اور بار بار اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز خرچ کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
صحافتی حلقوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج کے دور میں کسی غلط کام کی نشاندہی کرنا بھی جرم بنتا جا رہا ہے۔ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافیوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “جیڑا بولے اوہی کنڈا کھولے”، لگتا ہے اب سچ بولنے والوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا، ایسے میں شاید صحافیوں کو اپنے منہ پر ٹیپ لگا لینی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں