گورونانک کا شہر میگا کرپشن سکینڈلوں کی زد میں

کلینک آن وہیل منصوبہ مبینہ میگا اسکینڈل کی زد میں
بوگس مریضوں کی انٹریاں، ادویات میں کروڑوں روپے کی مبینہ خردبرد، شفاف انکوائری کا مطالبہ
ننکانہ صاحب (شاہین غیور) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن “صحت کی سہولت عوام کی دہلیز پر” کے تحت شروع کیے گئے “کلینک آن وہیل” منصوبے میں مبینہ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں، جعلی ریکارڈ اور ادویات میں مالی خردبرد کے انکشافات سامنے آنے کے بعد منصوبہ شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عوامی فلاح کے اس منصوبے میں زمینی حقائق کے برعکس کاغذی کارکردگی دکھا کر لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کے فنڈز کے غلط استعمال کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ روزانہ مقررہ ٹارگٹس پورے کرنے کے لیے مبینہ طور پر بوگس مریضوں کی انٹریاں کی جا رہی ہیں، جبکہ ایک ہی شخص کا شناختی کارڈ مختلف دنوں میں بار بار استعمال کرکے مریضوں کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق رجسٹرڈ مریضوں میں سے بڑی تعداد ایسے شناختی کارڈز پر مشتمل ہے جو یا تو فرضی ہیں یا ایک ہی فرد کو متعدد بار ظاہر کرکے ریکارڈ مکمل کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ اسی مبینہ جعلی ڈیٹا کی بنیاد پر ادویات کی فراہمی کاغذوں میں ظاہر کرکے لاکھوں اور کروڑوں روپے مالیت کی دوائیوں میں خردبرد کی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق کلینک آن وہیل منصوبے کے لیے مختص بھاری بجٹ عوام کو حقیقی طبی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے صرف رپورٹنگ، فائل ورک اور کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
شہریوں اور سماجی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعدد مقامات پر ڈاکٹرز کی عدم دستیابی کے باعث پیرا میڈیکل اور کلاس فور عملہ ہی مریضوں کو دیکھنے پر مجبور ہے، جبکہ کئی علاقوں میں کلینک آن وہیل کی موجودگی صرف رسمی کارروائی دکھائی دیتی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق حقیقی مریضوں کو مناسب طبی سہولیات اور معیاری علاج میسر نہیں آ رہا، جس سے منصوبے کی افادیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک خودمختار اور شفاف انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ریکارڈ میں درج مریضوں کے شناختی کارڈز کی بنیاد پر ڈور ٹو ڈور فزیکل ویری فکیشن کی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ اہم منصوبہ نہ صرف قومی خزانے کے ضیاع کا باعث بنے گا بلکہ عوام کا سرکاری فلاحی منصوبوں پر اعتماد بھی شدید متاثر ہوگا۔
دوسری جانب ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر کلینک آن وہیل ڈاکٹر عبید اللہ شاہ نے اپنے موقف میں بتایا کہ ضلع ننکانہ صاحب میں مجموعی طور پر 9 ایمبولینسز کلینکس آن وہیل منصوبے کے تحت کام کر رہی ہیں، جن میں سے 5 تحصیل ننکانہ صاحب، 2 شاہکوٹ اور 2 سانگلہ ہل میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ادویات کی ترسیل ان کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ معاملہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈسٹرکٹ ننکانہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
ادھر سی ای او ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹر روحیل اصغر نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کلینکس آن وہیل کے ذریعے مریضوں کو ادویات کی فراہمی کا نظام مکمل طور پر سنٹرلائزڈ، شفاف اور ہر قسم کی بدعنوانی سے پاک ہے۔