این ایچ اے میں مبینہ سیاسی کنٹرول۔ رانا تصدق ایرپورٹ

این ایچ اے میں بڑھتا ہوا ڈیپوٹیشن کلچر، مالی بحران اور مبینہ سیاسی کنٹرول — کیا قومی شاہراہ اتھارٹی کو چند مخصوص مفادات کے تابع کر دیا گیا ہے؟
رپورٹ: رانا تصدق حسین
اسلام آباد — قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے) اس وقت اپنی تاریخ کے سنگین ترین انتظامی، مالیاتی اور ادارہ جاتی بحرانوں میں گھر چکی ہے، جہاں ایک طرف اربوں روپے کے واجبات، ٹول پلازہ ریونیو سے متعلق سوالات، التواء کا شکار ٹینڈرز اور ملک گیر احتجاج جاری ہیں، تو دوسری جانب ادارے کے اندر بڑھتا ہوا “ڈیپوٹیشن کلچر” مستقل افسران، کنسلٹنٹس اور ٹھیکیداروں میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کر رہا ہے۔
این ایچ اے سے وابستہ مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ ادارہ، جو ملک کے قومی شاہراہ نیٹ ورک کا سب سے بڑا محافظ اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا کلیدی ستون سمجھا جاتا ہے، بتدریج اپنی پیشہ ورانہ شناخت، انتظامی خودمختاری اور تکنیکی کردار کھوتا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق این ایچ اے میں پہلے سے تعینات متعدد ڈیپوٹیشن افسران کو واپس ان کے اصل محکموں میں بھیجنے کے بجائے مزید بیرونی افسران کی تعیناتیوں کا سلسلہ جاری رکھا جا رہا ہے، جس پر ادارے کے مستقل افسران میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔
ادارے کے سینئر حلقوں کا کہنا ہے کہ این ایچ اے کے پاس اپنے مستقل کیڈر میں انجینئرنگ، ہائی وے پلاننگ، انفراسٹرکچر فنانسنگ، کنٹریکٹ مینجمنٹ، مینٹیننس، ٹولنگ سسٹمز، پبلک سیکٹر پراجیکٹس اور انتظامی امور کے حوالے سے انتہائی تجربہ کار افسران موجود ہیں، مگر اس کے باوجود اہم عہدوں پر مسلسل ڈیپوٹیشن افسران کی تعیناتی ادارے کے اندر یہ تاثر پیدا کر رہی ہے کہ مستقل افسران پر اعتماد نہیں کیا جا رہا۔
افسران کا کہنا ہے کہ کسی بھی خودمختار اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائز کی اصل طاقت اس کے ادارہ جاتی تسلسل، تجربہ کار کیڈر اور پیشہ ورانہ خودمختاری میں ہوتی ہے، مگر این ایچ اے میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے جہاں فیصلہ سازی، انتظامی کنٹرول اور مالیاتی معاملات پر بیرونی اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔
این ایچ اے کے مختلف حلقوں میں یہ سوال بھی شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر ہر اہم عہدہ بیرونی یا پسندیدہ افسران کو دینا مقصود ہے تو پھر ادارے کے اپنے افسران کے کیریئر، تجربے، ادارہ جاتی یادداشت اور پیشہ ورانہ ترقی کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ حالات میں این ایچ اے کے مستقل افسران خود کو انتظامی طور پر غیر محفوظ اور پیشہ ورانہ طور پر نظر انداز محسوس کر رہے ہیں، جبکہ کئی اہم فیصلوں میں متعلقہ تکنیکی ماہرین کی رائے کو بھی خاطر میں نہ لانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
ادارے سے وابستہ حلقوں میں اب یہ تاثر کھل کر سامنے آ رہا ہے کہ این ایچ اے کو مبینہ طور پر چند مخصوص سیاسی و انتظامی شخصیات کے زیرِ اثر چلایا جا رہا ہے، جہاں ادارے کی خودمختاری، نیشنل ہائی وے ایگزیکٹو بورڈ اور نیشنل ہائی وے کونسل جیسے اہم فورمز کا کردار محدود ہوتا جا رہا ہے۔
بعض حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آیا این ایچ اے واقعی قومی مفاد کے تحت چلنے والا ایک خودمختار ادارہ ہے یا پھر اسے مخصوص مفادات کے تحفظ اور محدود حلقوں کی ترجیحات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی بحران نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے مکمل شدہ منصوبوں کے بل ادا نہیں کیے جا رہے، اربوں روپے کے واجبات التواء کا شکار ہیں، ٹھیکیدار سراپا احتجاج ہیں، جبکہ متعدد ترقیاتی اور مینٹیننس منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔
ٹھیکیدار برادری کا مؤقف ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی رولز کے مطابق بروقت ادائیگی، شفاف ٹینڈرنگ اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جانا چاہیے تھا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
اسی دوران ٹول پلازہ ریونیو، مالیاتی نگرانی اور سابق ادوار میں کیے گئے بعض فیصلوں سے متعلق مبینہ انکوائریوں اور آڈٹ اعتراضات کے حوالے سے بھی سوالات برقرار ہیں، جن کے بارے میں اب تک واضح اور فیصلہ کن نتائج سامنے نہیں آ سکے۔
این ایچ اے کے اندر یہ احساس بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ ادارہ اپنی اصل تکنیکی اور پیشہ ورانہ روح سے ہٹ کر انتظامی انتشار، مالی بے یقینی اور غیر ضروری مداخلت کا شکار بنتا جا رہا ہے، جس کے اثرات قومی شاہراہ نیٹ ورک، انفراسٹرکچر کی کوالٹی، سفری سلامتی اور قومی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔
افسران، کنسلٹنٹس اور ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ این ایچ اے کسی فرد، گروہ یا محدود سیاسی مفاد کا ادارہ نہیں بلکہ قومی اثاثہ ہے، جس کا براہِ راست تعلق پاکستان کی معیشت، تجارت، لاجسٹکس، سیاحت اور عوامی مفاد سے ہے۔
متعلقہ حلقوں نے اسٹیبلشمنٹ، وفاقی حکومت اور نگرانی کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ این ایچ اے میں بڑھتی ہوئی بے چینی، مالی بحران، ڈیپوٹیشن کلچر، اور مبینہ غیر ضروری سیاسی مداخلت کا فوری نوٹس لیا جائے، ادارے کو اس کی اصل خودمختار حیثیت میں بحال کیا جائے، اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر فیصلوں کو یقینی بنایا جائے۔
حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف این ایچ اے کی ادارہ جاتی ساکھ مزید متاثر ہوگی بلکہ قومی انفراسٹرکچر کے مستقبل، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اعتماد پر بھی اس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔