
اسلام أباد(خصوصی رپورٹر) آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2024-25 کی رپورٹ میں وفاقی وزراتوں اور ماتحت اداروں کی کھربوں روپے کی مالی بےظابطگیوں کا انکشاف!!!
آڈیٹر جنرل نے رپورٹس کا بنڈل پارلیمان میں پیشی کیلئے قومی اسمبلی کو بھیجوایا تو اسمبلی سیکریٹریٹ نے بنڈل وصول کرنے سے انکار کردیا۔
اسمبلی کا عملہ بغیر کوئی وجہ بتائے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کا بنڈل واپس اے جی آفس میں پھینک آیا۔یاد رہے کہ ان آڈٹ رپورٹس کی تیاری پر خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے اور انہی کے تحت متعلقہ محکموں سے کھربوں روپے کی ریکوری کرنی ہوتی ہے لیکن ہر سال یہ آڈٹ رپورٹ کرپشن کی نشاندہی کرتی ہے جو قومی اسمبلی کی کمیٹی میں ریکوری کے بجائے سیٹل کرکے ردی میں ڈال دی جاتی ہے کیونکہ اس حمام میں بیوروکریسی اور سیاستدان دونوں ہی ننگے ہیں۔