اسلام أباد میں ایک اور انتظامی دھماکہ

اسلام آباد میں بڑا انتظامی دھماکہ:
محمد علی رندھاوا ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن تعینات، ملک گیر اصلاحات کا ہنگامی حکم
رانا تصدق حسین
اسلام آباد – وفاقی حکومت نے ایک اہم اور غیر معمولی انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 20 کے سینئر افسر محمد علی رندھاوا کو ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن تعینات کر دیا ہے۔
اس تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جو نہ صرف ایک اہم تقرری بلکہ ملک کے حساس ترین عوامی خدمت کے نظام میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے تعینات ہونے والے ڈی جی کو واضح، دو ٹوک اور سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے پورے نظام میں جامع، فوری اور نتیجہ خیز اصلاحات لانے کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔
اہم ہدایات اور اصلاحاتی ایجنڈا:
ملک بھر میں پاسپورٹ اینڈ امیگریشن نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن
پورے نظام کو مرحلہ وار پیپر لیس بنانے کی ہدایت
کرپشن، تاخیر اور غیر ضروری دفتری پیچیدگیوں کا خاتمہ
عوامی سہولت کو ہر صورت اولین ترجیح دینے کا حکم
سروس ڈیلیوری میں رفتار، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا
وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا کہ عوام کو پاسپورٹ کے حصول میں درپیش مشکلات، غیر معمولی تاخیر اور بدانتظامی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
اہم پس منظر اور چیلنج
پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کا نظام گزشتہ عرصے میں شدید عوامی تنقید کا سامنا کرتا رہا ہے، جہاں شہریوں کو طویل انتظار، غیر شفاف طریقہ کار اور انتظامی کمزوریوں جیسے مسائل درپیش رہے۔
حکومت کی جانب سے محمد علی رندھاوا کی تعیناتی کو ایک فیصلہ کن اور ہائی اسٹیکس اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد نہ صرف نظام کی بہتری بلکہ عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنا بھی ہے۔
کامیابی یا ناکامی — کڑا امتحان
نئے ڈی جی کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی، قابلِ پیمائش اور فوری نتائج سامنے لائیں، کیونکہ یہ ادارہ براہ راست ملک بھر کے لاکھوں شہریوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے جڑا ہوا ہے۔