اربوں کے فنڈز اور کارکردگی؟

اربوں کے فنڈز کے باوجود ننکانہ صاحب کی کارکردگی ماند — پنجاب رینکنگ میں 28واں نمبر، شہری مسائل سنگین
ننکانہ صاحب(شاہین اقبال غیور)پنجاب حکومت کی جانب سے فروری 2026 کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنرز کی گورننس، سروس ڈیلیوری اور انتظامی امور کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ نے 97.92 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ اوکاڑہ اور لودھراں کے ڈپٹی کمشنرز بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
دوسری جانب ضلع ننکانہ صاحب 79.85 پوائنٹس کے ساتھ 28ویں نمبر پر رہا، جو کہ ضلعی کارکردگی پر کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے ننکانہ صاحب میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے، تاہم اس کے باوجود بنیادی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔
شہریوں اور سماجی حلقوں کے مطابق ننکانہ صاحب کو “انٹرنیشنل سٹی” کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود شہر اور گردونواح میں سیوریج کا نظام بری طرح ناکام ہے۔ موڑکھنڈا، بچیکی، منڈی فیض آباد، واربرٹن، شاہکوٹ، سانگلہ ہل سمیت ضلع کے 350 سے زائد دیہات میں گلیوں اور سڑکوں پر سیوریج کا پانی کھڑا رہنا معمول بن چکا ہے، جس سے نہ صرف آمدورفت متاثر ہوتی ہے بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
مزید برآں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں بھی عوام کے لیے مستقل دردِ سر بنی ہوئی ہیں، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ عملی اقدامات کے بجائے صرف کاغذی کارروائیاں نظر آتی ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرے، جاری فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنائے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دے تاکہ آئندہ کارکردگی رپورٹ میں ننکانہ صاحب کی پوزیشن بہتر ہو سکے۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ یہ رینکنگ نہ صرف اضلاع کے درمیان صحت مند مقابلے کو فروغ دیتی ہے بلکہ انتظامیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں