کفائت شعاری ٹھاہ

کابینہ ڈویژن کا سرکلر:
کفایت شعاری اور عملی کارکردگی کے زمینی حقائق پر سنگین سوالات
رانا تصدق حسین
اسلام آباد — کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ہدایت (No. F.53/1/2008-Min-II مورخہ 19.03.2026)، جس کے تحت رمضان کے بعد معمول کے دفتری اوقات کی بحالی کا حکم دیا گیا ہے، نے اہم ترقیاتی شعبوں میں ایک نئی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور پالیسی سازی اور اس کے عملی نفاذ کے درمیان موجود سنگین خلا کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ سرکلر سابقہ نوٹیفکیشنز کے تسلسل میں جاری کیا گیا: 07.03.2026: رمضان کے لیے کم دفتری اوقات کا نفاذ
10.03.2026: کفایت شعاری اقدامات، بشمول اخراجات اور ایندھن پر پابندیاں
19.03.2026: معمول کےدفتری اوقات کی فوری بحالی کی ہدایت
بنیادی سوال: عملی وضاحت کہاں ہے؟
اگرچہ حکومت نے فوری طور پر معمول کے اوقات بحال کر دیے ہیں، تاہم نہ پہلے اور نہ ہی تازہ ترین نوٹیفکیشن میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سہولیات کے حوالے سے کوئی وضاحت فراہم کی گئی ہے، خصوصاً اُن افسران اور عملے کے لیے جو فیلڈ اسائنمنٹس اور پراجیکٹ سائٹس پر تعینات ہیں۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ:
کوئی گاڑی ایندھن کے بغیر نہیں چل سکتی۔
پراجیکٹس پر تعینات افسران اور عملہ روزانہ طویل فاصلے طے کرنے کے پابند ہیں، اکثر دور دراز یا متعدد سائٹس تک رسائی کے لیے۔
فاصلہ، ذمہ داری اور اسائنمنٹ اپنی جگہ برقرار ہیں، مگر ان فرائض کی انجام دہی کے لیے درکار سہولیات مکمل طور پر نظر انداز کر دی گئی ہیں۔
قومی ترقیاتی اداروں پر اثرات
اس پالیسی عدم مطابقت کا سب سے زیادہ بوجھ اہم ترقیاتی ادارے برداشت کر رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA)
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA)
راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA)
لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (LDA)
کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KDA)
کوئٹہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (QDA)
اور دیگر متعلقہ ادارے جو قومی اور وزیرِاعظم کے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
پالیسی سازی بمقابلہ زمینی حقیقت
یہ امر روز بروز واضح ہوتا جا رہا ہے کہ پالیسی سازی غالباً بند کمروں میں کی گئی ہے، جہاں توجہ صرف وفاقی سیکریٹریٹ کے محدود دائرہ کار تک رہی، جبکہ درج ذیل پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا گیا:
فیلڈ فارمیشنز اور پراجیکٹ بیسڈ تعیناتیاں
ملک بھر میں پھیلے منصوبوں تک روزانہ آمد و رفت کی عملی ضرورت
ایندھن کا استعمال بطور آپریشنل ضرورت، نہ کہ عیاشی
وقت کے پابند انفراسٹرکچر اہداف
اس عدم مطابقت نے عملی مشکلات، کام کی رفتار میں سستی اور انتظامی ابہام کو جنم دیا ہے۔
غیر ارادی مگر خطرناک نتائج کی جانب پیش رفت
واضح رہنمائی اور سہولیات کے فقدان میں ایک تشویشناک رجحان ابھر رہا ہے:
افسران ذمہ داری کے پابند ہیں مگر وسائل سے محروم
آپریشنل تقاضے برقرار ہیں مگر ادارہ جاتی معاونت ناپید
یہ عدم توازن افراد کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے غیر منصفانہ یا غیر رسمی ذرائع اختیار کریں
یہ صورتحال نہ صرف گورننس کو کمزور کرتی ہے بلکہ شفافیت اور احتساب کے نظام کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔
کفایت شعاری یا بے سمت پالیسی؟
اگر کفایت شعاری اپنانی ہے تو اسے ہونا چاہیے:
منظم، منصفانہ اور حالات کے مطابق
مگر موجودہ طرزِ عمل ایک عمومی پابندی اور پھر اچانک نرمی کی عکاسی کرتا ہے، بغیر اس کے کہ ترقیاتی سرگرمیوں کے بنیادی مالی و لاجسٹک تقاضوں کو سمجھا جائے۔
کابینہ ڈویژن کا تازہ سرکلر جہاں معمول کے اوقات بحال کرتا ہے، وہیں ایک گہرا پالیسی خلا بھی نمایاں کرتا ہے، جہاں:
کفایت شعاری اقدامات غیر واضح ہیں
آپریشنل سہولیات کی تعریف موجود نہیں
ترقیاتی ادارے تضادات کے بیچ راستہ تلاش کرنے پر مجبور ہیں
اہم سوال بدستور برقرار ہے:
کیا قومی ترقی اس وقت برقرار رہ سکتی ہے جب پالیسی فیصلے عملی نفاذ کے بنیادی تقاضوں کو نظر انداز کر دیں؟
اگر فوری وضاحت اور اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو موجودہ صورتحال نہ صرف کارکردگی بلکہ نظام کی دیانتداری کو بھی متاثر کر سکتی ہے، خصوصاً اُن اداروں میں جو پاکستان کے اہم انفراسٹرکچر کی تکمیل کے ذمہ دار ہیں۔