برطانوی ماں بیٹی کو سزائیں


برے تعلقات کا انجام بھی برا نکلا
دو قیمتی جانیں چلی گئیں
اسلام اباد( انٹرنیشنل ڈیسک )ٹاک انفلوئنسر اور اس کی والدہ کو ہائی اسپیڈ حملے میں دو افراد کے قتل پر عمر قید کی سزا

لیسٹر — ایک منصوبہ بند ملاقات جو خطرناک تعاقب میں بدل گئی، بالآخر دو نوجوانوں کی ہلاکت پر ختم ہوئی جبکہ کئی افراد کو طویل سزائیں سنائی گئیں۔

21 سالہ ثاقب حسین اور محمد ہاشم اعجازالدین فروری 2022 میں لیسٹر کے قریب A46 روڈ پر اس وقت جاں بحق ہو گئے جب ان کی گاڑی کو تیز رفتار تعاقب کے دوران سڑک سے زبردستی ہٹا دیا گیا۔

حادثے کے نتیجے میں گاڑی تباہ ہو کر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی اور آگ لگ گئی۔

عدالت میں بتایا گیا کہ اپنے آخری لمحات میں ثاقب حسین نے 999 پر کال کر کے اطلاع دی کہ ان کی گاڑی کو جان بوجھ کر ٹکر ماری جا رہی ہے۔

تحقیقات کے مطابق یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا۔

اس کیس کے مرکز میں 24 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ماہک بخاری اور اس کی 46 سالہ والدہ انسرین بخاری تھیں، جنہیں لیسٹر کراؤن کورٹ میں دوہرے قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔

عدالت نے ماہک بخاری کو عمر قید کے ساتھ کم از کم 31 سال جبکہ انسرین بخاری کو عمر قید کے ساتھ کم از کم 26 سال قید کی سزا سنائی۔

استغاثہ کے مطابق یہ حملہ ثاقب حسین اور انسرین بخاری کے درمیان ماضی کے تعلقات اور دھمکیوں کے باعث پیدا ہونے والے تنازع کا نتیجہ تھا۔

متاثرہ افراد کو لیسٹر کے ایک ٹیسکو کار پارک میں صلح کے بہانے بلایا گیا، لیکن یہ ایک جال ثابت ہوا۔

جب وہ اپنی اسکوڈا فابیا میں وہاں پہنچے تو ان کا پیچھا دو دیگر گاڑیوں — آڈی ٹی ٹی اور سیٹ لیون — نے شروع کر دیا، جن میں ملزمان سوار تھے۔

چند ہی منٹوں میں تمام گاڑیاں کار پارک سے نکل کر مرکزی سڑک پر آ گئیں اور تیز رفتار تعاقب شروع ہو گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ دورانِ تعاقب متاثرہ افراد کی گاڑی کو جان بوجھ کر ٹکر مار کر سڑک سے باہر کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں ہولناک حادثہ پیش آیا اور دونوں نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

اس کیس میں مزید چھ افراد بھی ملوث پائے گئے۔

29 سالہ ریخان کاروان اور 23 سالہ رئیس جمال کو بھی قتل کا مجرم قرار دے کر بالترتیب کم از کم 26 اور 31 سال کے ساتھ عمر قید کی سزا دی گئی۔

جبکہ 23 سالہ نتاشا اختر، 28 سالہ عامر جمال اور 23 سالہ ثناف غلام مصطفیٰ کو غیر ارادی قتل (manslaughter) کا مجرم قرار دے کر 11 سے 15 سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

عدالت کے مطابق یہ ایک منظم کارروائی تھی جس میں متعدد گاڑیاں شامل تھیں اور سب نے اس مہلک انجام میں کردار ادا کیا۔

یہ واقعہ ایک ملاقات سے شروع ہوا، مگر موٹروے پر خطرناک تعاقب میں بدل گیا۔

نتیجہ ناقابلِ واپسی تھا۔

دو زندگیاں ختم ہو گئیں، کئی افراد جیل پہنچ گئے، اور دونوں جانب کے خاندان ہمیشہ کے لیے اس سانحے کے اثرات جھیلنے پر مجبور ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں