‘ماں ‘پہ بیٹوں کی قربانیوں کا سلسلہ جاری

ساہیوال (نمائندہ خصوصی)
پاکستان کے سپوت اور پاک فوج کے بہادر جوان محمد عثمان نے وطنِ عزیز کے دفاع کے دوران جامِ شہادت نوش کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ شہید محمد عثمان کا تعلق ساہیوال کے علاقے 93/6R سے تھا۔ وہ 21 رمضان المبارک کو بوقتِ افطار ڈی جی خان میں ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران روزے کی حالت میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے۔ واضح رہے کہ شہید محمد عثمان کی گزشتہ سال ہی شادی ہوئی تھی۔
شہید کا جسدِ خاکی جب اپنے آبائی علاقے پہنچا تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ پاک فوج کے افسران اور جوانوں نے اپنے بہادر ساتھی کو بھرپور فوجی اعزاز کے ساتھ سلامی پیش کی اور انہیں پورے احترام کے ساتھ ان کی آخری آرام گاہ کی طرف روانہ کیا گیا۔ نمازِ جنازہ میں ساہیوال اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جنہوں نے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگا کر شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
تدفین کے دوران سفیرِ امن شیخ اعجاز احمد رضا نے شہید محمد عثمان کی مٹی کو گواہ بنا کر عوام سے عہد لیا کہ پوری قوم دہشت گردی، فتنۂ ہندوستان، فتنۂ خوارج اور ملک دشمن بیانیے کو مسترد کرتی ہے اور اپنے سلامتی کے اداروں اور پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
شیخ اعجاز احمد رضا نے کہا کہ وطن سے محبت دراصل ایمان کا حصہ ہے۔ “حبُّ الوطن من الایمان” کے پیغام کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کو اتحاد، یکجہتی اور وطن کے دفاع کے عزم پر مزید مضبوط بناتی ہیں۔
اس موقع پر اعلیٰ عسکری و سرکاری حکام کی جانب سے بھی شہید کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر ،ایف سی جنرل کمانڈر برگیڈئیر عاصم ملک اور دیگر اعلیٰ عسکری افسران کی طرف سے شہید کی قبر پر پھول چڑھائے گئے جبکہ ڈی پی او محمد عثمان ٹیپو اور فوجی افسران بھی جنازے اور تدفین میں شریک ہوئے۔ شہید کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں