جنگی حالات میں فری سبزی بیچنے والا ایرانی تاجر

جنگ میں انسانیت، امن میں مہنگائی؟
ایران کے ایک سبزی فروش کا پیغام اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر سوالات
رانا تصدق حسین
اسلام آباد – ایران میں جاری جنگی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے دوران ایک عام سبزی فروش کی جانب سے سامنے آنے والا انسانی جذبہ دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔
ایک ایرانی بازار میں ایک سبزی فروش نے آلو کے تھیلوں کے ساتھ ایک کارڈ آویزاں کیا جس پر لکھا تھا:
“جنگی حالات کے باعث جس کے پاس پیسے نہیں ہیں وہ آلو مفت لے جا سکتا ہے۔”
آلو کی قیمت تقریباً 12 روپے فی کلو کے برابر رکھی گئی تھی، تاہم ضرورت مند افراد کو مفت لینے کی اجازت دی گئی۔
یہ پیغام اس بات کی علامت ہے کہ شدید دباؤ، معاشی پابندیوں اور جنگی خطرات کے باوجود معاشرے میں انسانی ہمدردی اور باہمی تعاون کا جذبہ زندہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران میں خود آلو کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث حکومت کو بعض اوقات قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے درآمدات تک کی اجازت دینا پڑی۔
لیکن اس سب کے باوجود ایک عام شہری کا یہ اقدام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بحران کے وقت انسانیت سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔
پاکستان میں اس کے برعکس صورتحال
جہاں ایک ملک جنگی حالات میں بھی غریبوں کا خیال رکھنے کی مثال پیش کر رہا ہے، وہیں پاکستان میں معاشی پالیسیوں نے عام شہریوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس تقریباً ایک ماہ کا تیل کا ذخیرہ موجود ہے جو کم قیمت پر خریدا گیا تھا۔
اس کے باوجود حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اچانک 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔
اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں فی لیٹر 100 روپے سے زائد وصول کیے جا رہے ہیں جو عوام کے لیے اضافی ٹیکس کے مترادف ہے۔
سیاسی و مالیاتی کرتب باز بے نقاب
مبصرین کے مطابق معاشی پالیسیوں کے نام پر کیے جانے والے یہ فیصلے اب سیاسی اور مالیاتی کرتب بازی کے طور پر بے نقاب ہو رہے ہیں۔
یہ پالیسیاں بظاہر معاشی استحکام کے نام پر پیش کی جاتی ہیں مگر حقیقت میں ان کا بوجھ براہِ راست عام شہریوں پر پڑتا ہے۔
ایک بنیادی سوال
ایران میں جنگ کے باوجود ایک سبزی فروش ضرورت مندوں کو آلو مفت دے رہا ہے۔
جبکہ پاکستان میں امن کے باوجود عوام پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
آخرکار سوال یہی پیدا ہوتا ہے:
کچھ قومیں جنگ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتی ہیں، جبکہ کچھ قومیں اپنی ہی پالیسیوں کی وجہ سے۔