بڑے مالیاتی سکینڈل میں اہم پیش رفت

بحریہ ٹاؤن منی لانڈرنگ اسکینڈل: ملک ریاض کے قریبی ساتھی کو عدالت نے مجرم قرار دے دیا — 10 سال قید، 2 کروڑ 50 لاکھ جرمانہ، غیر قانونی اثاثے ضبط
رانا تصدق حسین
اسلام آباد: پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے جڑے ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اسلام آباد کی ایک عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے وائس چیف ایگزیکٹو اور بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض حسین کے قریبی ساتھی کرنل (ر) خلیل الرحمٰن کو تقریباً 1.6 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے جرم میں مجرم قرار دے دیا ہے۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقات کے مطابق ملزم غیر قانونی مالی لین دین، رقوم کی ترسیل اور اثاثوں کو خفیہ طریقوں سے منتقل کرنے کے عمل میں ملوث پایا گیا جس کے ذریعے بھاری مالی رقوم کو قانون سے بچانے کی کوشش کی گئی۔
عدالت نے شواہد اور ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ملزم کو 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی جبکہ اس پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
مزید برآں عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کے تمام غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے اثاثے ضبط اور سرکاری تحویل میں لیے جائیں گے۔
ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً 1.6 ارب روپے کی رقوم کو پیچیدہ مالی لین دین اور خفیہ چینلز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے عمل سے گزارا گیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان میں بڑے مالیاتی جرائم اور بااثر کاروباری حلقوں سے متعلق احتساب کے حوالے سے دور رس اثرات کا حامل ثابت ہو سکتا ہے۔
اس فیصلے نے قانونی اور مالیاتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ اسے پاکستان کے طاقتور ریئل اسٹیٹ نیٹ ورکس سے جڑے ایک اعلیٰ عہدیدار کے خلاف اہم عدالتی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔