انڈیا پاکستان سے سیکھے

پاکستان کی سفارتی مہارت نے خطے کو حیران کر دیا: سابق را چیف کی نئی دہلی کو اسلام آباد سے سیکھنے کی تجویز
رانا تصدق حسین
مانیٹرنگ رپورٹ
اسلام آباد — خطے میں ایک غیر معمولی اور قابلِ ذکر اعتراف سامنے آیا ہے، جہاں بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) کے سابق سربراہ وکرم سود نے حالیہ اسرائیل–ایران کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے “بہترین سفارتی مہارت” قرار دیا ہے اور نئی دہلی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسلام آباد کے طرزِ عمل کا بغور مطالعہ کرے۔
مانیٹرنگ رپورٹس اور علاقائی سفارتی ذرائع کے مطابق وکرم سود نے بھارتی وزارتِ خارجہ کے حکام کو مشورہ دیا کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ پاکستان نے کس طرح تیزی سے بگڑتی ہوئی علاقائی صورتحال کو متوازن سفارت کاری، محتاط پیغام رسانی اور اہم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مؤثر رابطوں کے ذریعے سنبھالا۔
علاقائی سکیورٹی کے معاملات پر گفتگو کے دوران سابق را چیف نے مبینہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے انتہائی حساس اور غیر یقینی صورتحال میں غیر معمولی سفارتی پختگی کا مظاہرہ کیا۔
اسلام آباد نے ایک جانب کشیدگی کم کرنے کی حمایت کی، علاقائی استحکام پر زور دیا، جبکہ دوسری جانب مسلم دنیا سمیت دیگر دوست ممالک کے ساتھ فعال سفارتی روابط برقرار رکھے۔
سفارتی مبصرین کے مطابق اس حکمت عملی کی کامیابی کا بڑا سہرا چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت اور سفارتی بصیرت کو دیا جا رہا ہے، جن کی اسٹریٹجک رہنمائی اور عالمی سطح پر مؤثر روابط نے پاکستان کے متوازن اور مؤثر ردِعمل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی اور سفارتی ہم آہنگی ادارہ جاتی پختگی کی اعلیٰ مثال بن کر سامنے آئی ہے۔
اسی طرح پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی سلامتی کے اداروں نے بھی اس حساس علاقائی صورتحال کے دوران اندرونی استحکام، انٹیلی جنس رابطہ کاری اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنا کر نہایت اہم کردار ادا کیا۔
ان اداروں کی بروقت تیاری اور چوکسی کے باعث پاکستان ایک طرف اندرونی طور پر پرامن اور مستحکم ماحول برقرار رکھنے میں کامیاب رہا جبکہ دوسری طرف عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور متوازن سفارتی موقف پیش کرنے میں بھی کامیاب ہوا۔
مبصرین کے مطابق پاکستان کی حکمت عملی تحمل، وضاحت اور اسٹریٹجک بصیرت پر مبنی تھی۔
جذباتی ردعمل دینے کے بجائے اسلام آباد نے بحران کو خطے میں پھیلنے سے روکنے، علاقائی استحکام کو فروغ دینے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ پر توجہ مرکوز رکھی۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق را سربراہ کی جانب سے اس نوعیت کا اعتراف اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے پالیسی ساز حلقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کا نظام پیچیدہ مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں سے نمٹنے میں زیادہ فعال اور حکمت عملی کے تحت کام کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وکرم سود کے ان ریمارکس کے بعد بھارتی اسٹریٹجک حلقوں میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے، جہاں بعض ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا نئی دہلی کو تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی سیاسی صورتحال میں اپنی سفارتی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
پاکستان کے لیے یہ تبصرے اس بات کا اہم اشارہ سمجھے جا رہے ہیں کہ اسرائیل–ایران کشیدگی کے دوران اختیار کی گئی اس کی سفارتی حکمت عملی نہ صرف عالمی سطح پر نوٹ کی گئی بلکہ خطے کے تجربہ کار اسٹریٹجک ماہرین کی جانب سے اس کا اعتراف بھی کیا جا رہا ہے۔