کیپیٹل۔انوکھا پولیس  مقابلہ

اسلام آباد(شبیرسہام)
اسلام آباد میں ایک بار پھر پولیس مقابلے کی کہانی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کی ہلاکت کو پولیس مقابلہ قرار دیا گیا ہے — مگر حقائق کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔ ارشد نامی 18 سالہ نوجوان کا تعلق مظفرآباد آزاد کشمیر سے تھا۔ وہ روزگار کی تلاش میں اپنی دادی کے پاس اسلام آباد آیا تھا۔ وہ اپنے گھر کا واحد کفیل بھی تھا۔ اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ نوجوان کو تھانہ سبزی منڈی پولیس نے حراست میں لیا، دورانِ حراست مبینہ تشدد کیا گیا، اور جب اس کی حالت بگڑ گئی اور موت واقع ہوئی تو اسے پولیس مقابلے کا رنگ دے دیا گیا اور یکم دسمبر 2025ء کو لاش ورثاء کے حوالے کی گئی۔ سب سے اہم اور چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ ورثاء کے مطابق مقتول کے جسم پر کسی بھی گولی کا نشان موجود نہیں تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعی پولیس مقابلہ تھا — تو پھر گولی کہاں چلی؟
کس پر چلی؟
اور مقتول کے جسم پر فائر کا ایک بھی نشان کیوں موجود نہیں؟
ورثاء کے مطابق پولیس نے لاش کو کوہالہ پل کراس کر کے آزاد کشمیر کی حدود میں ورثاء کے حوالے کیا۔ اہلِ خانہ نے اسے ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔
کیا یہ واقعی پولیس مقابلہ تھا؟
یا ایک حراستی موت کو مقابلے کا نام دے دیا گیا؟
حقیقت کیا ہے — یہ تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا، مگر اس وقت سب سے بڑا سوال انصاف کا ہے

Islamabad today

اپنا تبصرہ بھیجیں