دور جدید کی محبت کہانی ۔عابد منہاس کی زبانی

اچھا ہوا یہ بچی مر گئی لیکن معاشرہ کے منہ پہ تماچہ مار گئی سبق سیکھا گئی کہ اس دور کے رانجھوں پہ یقین نہ کرنا یہ سارے حرام خور ہوتے ہیں ۔
قصور آلہ آباد میں ایک طالبہ جس کی دوستی اپنے کلاس فیلو سے ہوگئی ۔
بات اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ عامر نامی لڑکا اس سے ملنے لگا جب لڑکی کو احساس ہوا کہ اس نے غلط کیا
تو اس نے عامر کو کہا کہ مجھ سے شادی کرلو ۔
عامر نے محبت کا جھانسہ دے کر کئی بار اس کی ویڈیوز بنائیں اور پھر اپنا اصل چہرہ دیکھانے لگا عامر کا والد علاقہ کا ایک بڑا نامی گرامی چہرہ ہے
اس نے اپنے بچے کی پرورش ایسی کی کہ اب وہ منہ دیکھانے کے قابل نہیں ہے ۔
اس سے پہلے عامر اپنی عیاشی کے لیئے لڑکی کو بلیک میل کرتا رہا کہ زیور لے کر آؤ ورنہ تماری ویڈیوز نیٹ پہ ڈال دوں گا بچی روتی رہی کہ خدا کا خوف کرو ۔
اس نے ایک دفعہ اپنی سونے کی بالیاں عامر کو دے دیں اس کے بعد لڑکے نے دوبارہ وہی سلسلہ شروع کردیا ۔
آخر کار بچی نے اپنے والد کو سب کچھ بتادیا کہ ایسے ایسے معاملہ ہوا ہے ۔
اپنی عزت جاتے دیکھ کر بچی کی والدہ عامر کے گھر گئی اس کے والد کو سب کچھ بتایا کہ آپ نکاح کردو تو اس نے کہا کہ ایسی کئی لڑکیاں میرے بیٹے کے پیچھے
اس کے بعد عامر لڑکی کو دھمکانے لگا چودہ فروری کو جب عامر نے زیادہ پیسوں یعنی چار لاکھ کی ڈیمانڈ کی تو لڑکی نے روتے ہوئے کہا کہ میں خودکشی کر لیتی ہوں ۔
تو عامر نے کہا میری طرف سے چاہے مر لیکن پیسے لا کر دے لڑکی نے سکرین ریکارڈنگ آن کی اور اپنے دوپٹہ کے ساتھ پنکھے سے لٹک گئی ۔
اس کے بعد چار دن کے بعد آیف آئی آر ہوئی جس می کمزور دفعات لگائی گئیں ۔
بچی مر گئی ٹھیک ہے غلطی تھی لیکن عامر اور اس کے والد کو دیکھ لیں یہ وہ معزز لوگ ہیں جو بچیوں کو بلیک میل کرکے پیسے بٹورتے ہیں ۔
میری گزارش ہے مریم نواز سے پلیز اس عامر اور اس کے باپ کو سی سی ڈی کے حوالے کریں اور نیفے والا معاملہ کردیں ۔
تاکہ آئندہ کسی کی بچی کی زندگی خراب نہ ہو ۔
اور بچیاں پلیز سبق لیں یہاں پہ اب محبت کرنے والے کم اور لالچی لوگ بہت زیادہ ہیں