عدالتی حکم ڈیپوٹیشن افسران کی واپسی شروع

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سخت احکامات کے بعد این ایچ اے میں 57 ڈیپوٹیشن افسران کی واپسی کا آغاز
چیئرمین کو فوری ری اسٹرکچرنگ پلان جمع کرانے کا حکم، مکمل رپورٹ 24 مارچ کو طلب
رانا تصدق حسین
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کے معاملے پر سخت احکامات جاری کرتے ہوئے ادارے کو فوری اقدامات کا پابند بنا دیا ہے، جس کے بعد 57 ڈیپوٹیشن تقرریوں کے معاملے میں ریپیٹری ایشن کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔
عدالت نے یہ احکامات رٹ پٹیشن نمبر 2912 آف 2022 میں جاری کیے۔ 16 فروری 2026 کی سماعت کے دوران عدالت نے این ایچ اے کی جانب سے ری اسٹرکچرنگ پلان کابینہ ڈویژن کو ارسال نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔
پانچ ماہ کی تاخیر پر سوال
عدالت نے یاد دہانی کرائی کہ 25 ستمبر 2025 کو این ایچ اے کو ری اسٹرکچرنگ پلان حتمی شکل دے کر کابینہ ڈویژن کو بھجوانے کا وقت دیا گیا تھا، مگر تقریباً پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ایسا نہ ہو سکا۔
این ایچ اے کے وکیل نے مزید مہلت طلب کی جبکہ درخواست گزار کے وکیل نے اسے دانستہ تاخیر قرار دیتے ہوئے مخالفت کی۔
عدالت نے حکم دیا کہ:
چیئرمین این ایچ اے فوری طور پر ری اسٹرکچرنگ پلان کابینہ ڈویژن کو ارسال کریں۔
مکمل آگاہی رکھنے والا افسر آئندہ سماعت پر پیش ہو۔
این ایچ اے میں ڈیپوٹیشن پر تعینات تمام افسران کی مکمل تعداد پر مشتمل جامع رپورٹ پیش کی جائے۔
عدم تعمیل کی صورت میں قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
اگلی سماعت 24 مارچ 2026 مقرر کی گئی ہے۔
ابتدائی ریپیٹری ایشن نوٹیفکیشن جاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 23 فروری 2026 کو نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے:
محمد طیب تارڑ (OMG/BS-17)
بینش نور (OMG/BS-18)
کو فوری طور پر واپس بلانے کے احکامات جاری کیے۔
ذرائع کے مطابق مزید افسران کی واپسی کے احکامات متوقع ہیں۔
57 تقرریاں زیرِ نگرانی
ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 57 افسران کو ڈیپوٹیشن پر این ایچ اے میں تعینات کیا گیا تھا۔ ان تقرریوں کو اب عدالتی نگرانی کا سامنا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس بڑی تعداد نے ادارے کی خودمختاری اور انتظامی توازن کو متاثر کیا اور کیریئر افسران کے لیے مسائل پیدا کیے۔
24 مارچ کی سماعت این ایچ اے کی انتظامی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔ عدالت کی مداخلت کو ادارہ جاتی احتساب کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔