مقروض حکمرانوں۔بیوروکریسی کی عیاشیاں

چوبیس کروڑ عوام کیلئے کفایت شعاری، چند کیلئے عیش و عشرت؟
قوم کیلئے مالی سختی — اشرافیہ کیلئے 4700 سی سی آزادی
رانا تصدق حسین
لاہور: پاکستان اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ ریاستی سطح پر اخراجات میں کمی، ٹیکسوں میں اضافہ، سبسڈیز کے خاتمے اور عوامی سہولیات میں کٹوتی کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر ڈالنے کیلئے قربانی دینا ضروری ہے۔
مگر انہی حالات میں سرکاری افسر شاہی کیلئے مراعات میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔
یہ اصلاح نہیں — رجعت ہے۔
4700 سی سی طاقت، جب عوام مہنگے ایندھن کا بوجھ اٹھا رہے ہیں
حکومتِ پنجاب کی نئی ٹرانسپورٹ پالیسی کے تحت:
چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب
تین سرکاری گاڑیوں کی اجازت: 2800 سی سی، 1800 سی سی اور 4700 سی سی
دو گاڑیوں کیلئے ماہانہ 800 لیٹر پٹرول
4700 سی سی گاڑی کیلئے پٹرول کی کوئی حد مقرر نہیں
پہلے کیا تھا؟
1300 اور 1600 سی سی گاڑیاں
200 لیٹر ماہانہ پٹرول
1300 سی سی سے 4700 سی سی تک کا اضافہ محض انتظامی سہولت نہیں بلکہ ادارہ جاتی اسراف کی علامت ہے۔
گریڈ 20 تا 22: سرکاری ایندھن کی لامحدود فراہمی
سیکرٹریز (گریڈ 20–22)
دو گاڑیاں: 2800 اور 1800 سی سی
ذاتی استعمال کیلئے 200 لیٹر
سرکاری استعمال کیلئے پٹرول کی کوئی حد نہیں
پہلے:
1300 سی سی گاڑی
200 لیٹر ماہانہ
دیگر افسران کیلئے بھی بڑے انجن، زیادہ پٹرول
اسپیشل سیکرٹریز اور ڈی آئی جیز (گریڈ 19–20)
1600 سی سی گاڑیاں
250 لیٹر ماہانہ (پہلے 175 لیٹر اور کم سی سی)
ڈپٹی سیکرٹریز (گریڈ 18)
1500 سی سی گاڑیاں
175 لیٹر ماہانہ
ہر درجے پر انجن کی گنجائش میں اضافہ ہوا ہے۔
ہر سطح پر پٹرول کی حد میں وسعت آئی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
عوام کیلئے سختی، طاقتوروں کیلئے سہولت؟
قوم سے کہا جا رہا ہے:
سبسڈیز ختم کرنا ناگزیر ہے
ترقیاتی اخراجات محدود کرنا ہوں گے
ٹیکس بڑھانا ضروری ہے
پٹرول مہنگا ہوگا
کفایت شعاری ہی واحد راستہ ہے
مگر انتظامی آسائش میں اضافہ جاری ہے۔
اگر مالی نظم و ضبط سب کیلئے ہے تو پھر یہ انتخابی کیوں؟
اگر قربانی قومی ہے تو سہولت ادارہ جاتی کیوں؟
اگر سختی لازمی ہے تو استثنا کس بنیاد پر؟
فضاؤں میں شاہانہ سفر، زمین پر بنیادی محرومیاں
ریاستی خرچ پر پرتعیش سفری سہولیات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ معاشی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
اسی دوران ملک کا سب سے بڑا صوبہ بنیادی ڈھانچے کی کمی، پانی کی قلت، تعلیمی پسماندگی اور ترقیاتی نظراندازی کا شکار ہے۔
جب سرکاری انجنوں کی گنجائش بڑھ رہی ہو اور عوامی سہولیات سکڑ رہی ہوں تو پیغام کیا جاتا ہے؟
ضبط شدہ لگژری گاڑیوں کا سوال
ملک بھر میں غیر کسٹم ادا شدہ مہنگی گاڑیاں ضبط کی جا چکی ہیں۔
اہم سوالات یہ ہیں:
کیا ان گاڑیوں کو سرکاری استعمال میں نہیں لایا جا سکتا؟
نئی خریداری کیوں، جب ضبط شدہ اثاثے موجود ہیں؟
قومی خزانے پر مزید بوجھ کیوں ڈالا جائے؟
یہ صرف انتظامی معاملہ نہیں — یہ طرزِ حکمرانی کا امتحان ہے۔
احتسابی اداروں کی خاموشی
احتسابی ڈھانچہ موجود ہے، مگر عوامی تاثر یہی بنتا جا رہا ہے کہ احتساب نیچے کی سطح تک محدود ہے، اوپر تک نہیں پہنچتا۔
جب معاشی سختی کے دور میں سرکاری مراعات بڑھائی جائیں اور نگرانی کے ادارے خاموش رہیں تو عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت
ٹیکس دہندگان کا پیسہ امانت ہے۔
مالی دباؤ کے دور میں ہر لیٹر پٹرول، ہر سی سی انجن اور ہر سرکاری گاڑی کو اخلاقی اور مالیاتی معیار پر پرکھا جانا چاہیے — صرف فائل کی منظوری کافی نہیں۔
بنیادی سوال
کیا ملک میں کفایت شعاری یکساں طور پر نافذ ہے؟
یا قربانی صرف عوام کیلئے اور سہولت اشرافیہ کیلئے مخصوص ہے؟
ایک قوم بیرونی دنیا میں مالی نظم و ضبط کی بات کرے اور اندرونِ خانہ ادارہ جاتی آسائش اختیار کرے — یہ تضاد زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔
وقت آ گیا ہے کہ:
شفاف جواز پیش کیا جائے
پارلیمانی نگرانی کو فعال بنایا جائے
اور یکساں کفایت شعاری کا نظام نافذ کیا جائے — نچلے ملازم سے اعلیٰ ترین منصب تک
ورنہ منظر یہی رہے گا:
عوام کیلئے کفایت شعاری۔
چند کیلئے رفتار اور اختیار۔